حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟ اسرائیل اور اس کی سرپرست مغربی قوتیں یا خطے کے مسلمان عرب ممالک؟ جب جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے، جواب میں ایک خلط مبحث شروع ہو جاتا ہے کہ حوثیوں کی ایک تاریخ ہے، یہ ہے اور وہ ہے۔

تاریخ کا سوال نہیں ہے، نہ ہی حوثیوں سے عرب دنیا کے پرانے تنازعات زیر بحث ہیں۔ سوال موجودہ صف بندی میں حوثیوں کے ہدف کا ہے۔ ہدف کیا ہے؟ اسرائیل یا مسلمان عرب؟ ایران پر جب اسرائیل اور امریکا نے حملہ کیا تو حوثیوں کی جانب سے کہا گیا ہم جواب میں باب المندب بند کر دیں گے ۔ یعنی ایک جانب ایران آبنائے ہرمز بند کر دے گا تو دوسری طرف حوثی باب المندب کی گزر گاہ بند کر دیں گے تاکہ اسرائیل  اور امریکا پر دباؤ بڑھایا جائےاور ان کے مفادات کو نقصان پہنچایا جائے۔ لیکن آگے چل کر ہم دیکھ رہے ہیں کہ حوثیوں کا ہدف اسرائیل یا اس کی سرپرست مغربی قوتوں کی بجائے مسلمان عرب دنیا بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

سعودی عرب پر حملے کرنے سے نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ مسلمان دنیا کا یا اسرائیل اور امریکا کا؟ یہ بات تو سب کو نظر آ رہی تھی کہ اسرائیل کی یہ خواہش تھی کہ مسلمان دنیا آپس میں الجھ جائے اور وہ الگ بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں۔ پاکستان نے اسی سازش کو ناکام بنایا۔ پاکستان یہ بات جان چکا تھا کہ ہدف مسلم دنیا ہے، اس لیے پاکستان پہلے مرحلے میں ہی سامنے آیا اور خیر خواہی کے ساتھ سامنے آیا اور اس نے اس جنگ کو مسلم دنیا کا باہمی تصادم بننے سے روک دیا۔ اب اگر حوثی بار بار سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں تو وہ کس کی خواہش کی تکمیل کر رہے ہیں؟ دانستہ کر رہے ہیں یا نادانستہ، ہر دو صورتوں میں یہ سوال انتہائی اہم ہے۔

باب المندب بند ہوا، اسرائیل کی ایلات کی بندرگاہ ضرور متاثر ہوئی لیکن اس سے اسرائیل کو کتنا نقصان ہوا؟ اس کی حیفا اور اشدود کی بندرگاہیں چونکہ بحیرہ روم میں ہیں وہ بالکل اس کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ باب المندب بند ہونے سے اسرائیل میں سمندری تجارت بند نہیں ہوئی کیونکہ اس کے پاس متبادل لائف لائن موجود تھی۔  لیکن مسلمان ممالک کا بہت نقصان ہوا۔ مسلمان عرب ممالک کے لیے باب المندب زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اس خطے کے ممالک کی عالمی منڈی تک رسائی کا اہم راستہ ہے۔  مصر کی نہر سویز کی تجارت میں صرف ایک سال میں تین ارب کے قریب کمی ہوئی۔ سعودی عرب کی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ باب المندب کی بندش کی تو فلسطین کاز کے لیے گئی لیکن اس کا نقصان اسرائیل وغیرہ کی بجائے عرب ممالک کو ہوا۔ یہ کون سی حکمت عملی تھی؟

یہ سب گویا کم تھا کہ اس کے بعد باقاعدہ میزائل اور ڈرون فائر ہونا شروع ہو گئے۔ کبھی مکّہ کی جناب تو کبھی مدینہ کی طرف۔ مکّہ اور مدینہ مسلم امہ کی ریڈ لائن ہیں۔ اس ریڈ لائن کی طرف اسرائیل عربوں سے جنگوں کے دوران بھی کوئی میزائل فائر کرنے کی جرات نہ کر سکا، حوثیوں نے یہ کام بھی کر دکھایا۔ ان شہروں کا ایک تقدس ہے۔ حوثیوں نےا س کا بھی خیال نہیں رکھا۔ کیا ان کو اندازہ نہیں وہ کیا کر رہے ہیں یا وہ کرنا ہی یہی چاہتے تھے؟ اسرائیل کی جانب تو 2022 کے بعد حوثیوں نے کوئی میزائل نہیں فائر کیا۔ بات اگر امریکا کے اتحادیوں کی ہے تو اسرائیل سے بڑا امریکی اتحادی کون ہے؟ جھگڑا اگر خطے میں امریکی اڈوں سے ہے تو اسرائیل سے بڑا امریکی اڈہ کون سا ہے؟ لیکن حیرت یہ ہے کہ حوثیوں کے میزائل آئے روز  سعودی عرب کی طرف فائر ہو رہے ہیں لیکن اسرائیل کی جانب کوئی ایک جانب میزائل بھی فائر نہیں ہوا۔ بعض لوگ کہتے ہیں اسرائیل دور بہت ہے۔ تو اگر دشمن دور بہت ہو تو قریب میں کسی مسلمان ملک پر حملہ کر دینا چاہیے؟

جنگوں کی جمع تقسیم کا اتنا اصول تو ہر عام آدمی بھی جانتا ہے کہ جنگ دشمن کے خلاف ہوتی ہے اور جنگ میں غیر ضروری محاذ نہیں کھولے جاتے۔ یہ کیسی جنگ ہے جس میں دشمن تو اسرائیل ہے لیکن نشانے پر مسلمان ممالک ہیں؟ اس وقت اگر حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے پاکستان کی خیر خواہی کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو فائدہ کس کو ہو گا؟ اسرائیل کو۔ مسلم ممالک کی تجارت، امن اور خوشحالی اگر داؤ پر لگ جاتی ہے تو نقصان کس کا ہو گا؟ اسرائیل کا یا مسلمانوں کا؟

سعودیہ کی سلامتی پوری امت کا مسئلہ ہے۔ اس سلامتی کے تقاضے پامال کرنے سے کس کی روح گھائل ہو گی؟ اسرائیل کی یا مسلمانوں کی؟ دنیا بھر کے مسلمان عرب ممالک اور بالخصوص سعودیہ میں روزگار کے سلسلے میں مقیم  ہیں ، مسلم دنیا کی اس معاشی لائف لائن کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نقصان اسرائیل کا ہو گا یا مسلمانوں کا؟ عمرہ زائرین سعودی عرب کے ایئر پورٹس پر بیٹھے ہوں اور اوپر سے حوثیوں کا  میزائل آ گرے تو اس سے اسرائیل کا کیا نقصان ہو گا؟ یہ اسرائیل کا نقصان ہے یا مسلمان کے شعور اجتماعی پرحملہ ہے؟

یہ عجیب جنگ ہے جو فلسطین کی آزادی کے نام پر اسرائیل کے خلاف لڑی جا رہی ہے لیکن میزائل سعودی عرب پر مارے جا رہے ہیں، اسرائیل کی جانب ایک میزائل نہیں فائر ہوا۔

(بشکریہ: وی نیوز)