گوشوارے مجھے اب معاف فرمائیں
- تحریر امر جلیل
- منگل 20 / اکتوبر / 2026
بڑھتی عمر کے ساتھ بہت سی باتیں بہت سے قصے، بہت سی کہانیاں، عادتیں اطوار، گلے شکوے، شکاتیں، حکایتیں، نفرتیں، محبتیں، قربتیں فاصلے، ہم سے چھوٹ جاتے ہیں۔ مگر اس بات کو اگر اس طرح لکھا جائے تو بات بہتر بنے گی۔
آپ سنیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ بہت سے عوامل ہمیں چھوڑنے پڑ جاتے ہیں۔ بہت سے مشاغل ہمیں بس سے باہر محسوس ہونے لگتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ چھوٹی سی بات ہے۔ عالم شباب میں ہم سب تھوڑے بہت ٹارزن بنے پھرتے ہیں۔ مگر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ہم لڑکھڑا کر چلنے لگتے ہیں۔ اس ڈر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں گر نہ پڑیں اور ہپ بون نہ تڑوا بیٹھیں ۔ کئی دوست احباب کو ہپ بون فریکچر کے بعد دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
محبت کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہتا۔ مگر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ہمارے وجود میں پنپنے والی نفرتیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ ہم نفرت کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ حالات کے ہاتھوں ہم نفرتوں سے دستبردار ہونے لگتے ہیں۔ بڑے بڑے افسر اپنی شخصیت، اپنے لب و لہجے سے ماتحتوں کے دل و دماغ پر اپنا خوف بٹھا دیتے ہیں۔ پچیس تیس برس کی بات ہوتی ہے۔ ریٹائر ہونے کے بعد چھوٹے سے چھوٹا ماتحت پلٹ کر آپ کو سلام نہیں کرتا۔ آپ اپنی شخصیت اور لب و لہجے سے گھر کے در و دیوار کو متاثر نہیں کر سکتے۔ متاثر کرنے کیلئے آپ کو ماتحتوں کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ مگر ریٹائر ہونے کے بعد ماتحت آپ کے ماتحت نہیں رہتے۔
ریٹائر ہونے کے بعد آپ وحشتوں کو اپنے اطراف جمع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں۔ اسی نوے برس کی عمر میں آپ کبڈی نہیں کھیل سکتے ۔ اسی نوے برس کی عمر میں آپ شعیب اختر کے خلاف جارحانہ بیٹنگ نہیں کر سکتے۔ ایسان بولٹ کی طرح آپ اسی نوے برس کی عمر میں ایک سو میٹر نو سیکنڈ میں دوڑ نہیں سکتے۔ اسی نوے برس کی عمر میں آپ کی آواز آپ کو دھوکہ دے جاتی ہے۔ عالم شباب میں آپ نے کتنا ہی اچھا کیوں نہ گایا ہو، بڑھاپے میں آپ کی آواز آپ کو دھوکہ دے جاتی ہے۔ آپ بے سرے اور بے تالے ہو جاتے ہیں۔ آپ کی آواز کپکپانے لگتی ہے۔ آپ پینٹنگ نہیں کر سکتے، برش پکڑنے کے لئے آپ کی انگلیوں میں دم باقی نہیں رہتا۔ ایسےہاتھوں سے آپ اسکلپچر یعنی مجسمے نہیں بنا سکتے۔ آپ ساز بجا نہیں سکتے۔ بڑھتی ہوئی عمر ہم سے بہت کچھ چھین لیتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر آپ کو بہت کچھ چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ دماغی امراض کے ڈاکٹروں کی آرا کے مطابق یہ سب کچھ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ اس تنزلی کو آپ روک نہیں سکتے۔
آپ کو اچھی عادت تھی صبح سویرے نیند سے جاگنے کے بعد پانچ کلو میٹر دوڑ لگانے کی۔ مگر اسی نوے برس کے ہو جانے کے بعد نیند سے جاگنےکے بعد پانچ کلو میٹر آپ دوڑ نہیں سکتے۔ سب کچھ آپ سے چھوٹ جاتا ہے۔ آپ لگا تار گھنٹی بجاتے رہیں، نائب قاصدوں کی ظفر موج ہاتھ جوڑ کر آپ کے سامنے آ کر ادب سے کھڑی نہیں ہوتی۔ تنہائی کا اکیلا پن آپ کو گھیر لیتا ہے۔ نامعقول بیہودہ اور ڈراؤنے خیالات آپ کو گھیر لیتے ہیں۔ موت اور مرنے کا خوف آپ سے آپ کی نیندیں چرا لیتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ اپنی عمر کی جمع پونجی کسی نئے کاروبار کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے۔ پل کے نیچے سے گزرنے والے پانی کو آپ روانی سے روک نہیں سکتے۔ اسی نوے برس کا ہو جانے کے بعد آپ کوئی نیا کام شروع نہیں کر سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
مگر سرکار بضد رہتی ہے کہ اسی، نوے ایک سو برس عمر کا ہو جانے کے بعد آپ کو ایک کام لازمی طور پر کرنا ہے۔ اس کام میں کسی قسم کی کوتاہی آپ کو سزا وار ٹھہرا سکتی ہے۔ جرمانوں کے علاوہ آپ کو جیل کی سزاؤں سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ آپ نے چاہے کتنے ہی اہم سرکاری عہدوں پر کام کیا ہو، ریٹائرمنٹ کے بعد آخری سانسوں تک آپ کو سالانہ آمدنی کے گوشوارے مقررہ تاریخ پر سرکار کو لازمی طور پر دکھانے پڑتے ہیں۔ اس کام میں آپ کسی قسم کی کوتاہی نہیں کر سکتے۔ جرمانوں اور جیل کی سزا تلوار کی طرح آپ کے سر پر مرتے دم تک لٹکتی رہتی ہے۔ میرے ایک ہم عمر اور ہم منصب دوست کو سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے پورے تیس برس ہونے کو ہیں۔ ان کی عمر اب خیر سے نوے برس کی ہو چکی ہے۔ کانپتی ہوئی انگلیوں سے وہ اپنا لیپ ٹاپ نہیں چلا سکتے۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر اب ان کی ناقص ہو چکی ہے۔ کئی برسوں سے ہر سال بیس پچیس ہزار روپے کے عوض گوشوارے بھرنے والے کی ان کو ضرورت پڑتی ہے۔ ماہر گوشوارے بھرنے والا میرے دوست کی طرف سے گوشوارے سی بی آر سرکار کو بھیج دیتا ہے۔
کئی برسوں سے میرے دوست سی بی آر کے چیئرمین کو بتاتے رہے ہیں کہ سرکار میرا گزربسر پنشن سے ہوتا ہے۔ میں کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرتا۔ مگر ہر سال مجھے گوشوارے آپ کو بھیجنے پڑتے ہیں۔ اس کام کے لئے مجھے گوشوارے بھرنے والے ماہر کی ضرورت پڑتی ہے۔ کئی برسوں سے میرا اور میرے ہم عمر ریٹائرڈ پنشنروں کا کام اسی طرح چل رہا ہے۔ اب ہم دوست اسی، نوے اور ایک سو برس کے ہونے کو ہیں۔ اب ہم بہت تھک چکے ہیں۔ اب ہم سالانہ گوشوارے بھرنے سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔ سوچتا ہوں میں بھی چیئرمین سی بی آر کو مطلع کر دوں کہ سرکار میں اب نوے برس کا ہو چکا ہوں۔ میرے ہاتھ کانپتے ہیں ۔ میں اپنا لیپ ٹاپ نہیں چلاسکتا۔ ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اب میں خود نہیں پڑھ سکتا۔ پنشن میری روزی روٹی ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کے قوانین میں ہے یا نہیں ہے، میں اب نوے برس کی عمر میں گوشوارے بھرنے اور بھجوانے سے ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)