ٹریفک، معیشت اور مہنگائی

کہنے کو تو ہمارے بہت سے قومی مسائل ہیں مگر معاملات ٹریفک، معیشت کی زبوں حالی اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی ہے۔ اپنے طور حکومت اور ادارے ان مسائل کے حل کے لئے کوشش تو بہت کرتے ہیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی ٹھہرتا ہے۔

ہمارے ہاں ابھی تک عوام الناس میں ٹریفک کا شعور ہی پیدا نہیں کیا جا سکا۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہارن دینا گالی سمجھا جاتا ہے اور ہم اسے فیشن اور اسٹیسس سمبل سمجھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں نابینا اور ہاتھوں سے محروم افراد کو بھی ڈرائیونگ لائیسنس جاری کرنے کی مثالیں ہیں اور ترقی یافتہ ممالک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان گھر پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے وہاں ٹریفک حادثات کی شرح بھی کم ہے جبکہ ہمارے ہاں آ ئے روز ٹریفک حادثات کی وجہ سے کئی لوگ جان سے جاتے ہیں۔ اور بہت سے پوری زندگی کے لئے اپاہج ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں ٹریفک وارڈن کی فوج ظفر موج چالان کا ٹارگٹ پوری کرتی نظر آ تی ہے اور سٹرکوں پر بے ہنگم ٹریفک جاری و ساری رہتی ہے۔ ٹریفک کوارڈی نیشن کمیٹیوں کو مزید فعال کر کے ٹریفک کے بہت سے معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے اور عوام میں ٹریفک کا شعور پیدا کرنے کے لئے تربیتی ورکشاپ اور تعلیمی اداروں میں سیمینارز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

ملکی معیشت کسی بھی ملک اور حکومت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری ملکی معیشت بگڑی ہی دکھائی دی ہے۔ ہر حکومت خزانہ خالی ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے مگر اپنی مراعات اور فضول خرچیوں سے باز نہیں آ تی۔ موجودہ وزیر خزانہ ایک قومی بنک کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اور ادارے ٹیکس چھپاتے اور بچاتے نہیں بلکہ ملکی خزانے میں جمع کراتے ہیں۔ اور اس کے عوض حکومت انہیں سہولتیں اور مراعات دیتی ہے۔

حکومت ابھی تک بیشتر صنعتی اداروں اور تاجر طبقے کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس لئے بجٹ کے مثبت اثرات سامنے نہیں آ تے اور ہمیشہ خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ ہر حکومت آ ئی ایم ایف اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرتی ہے گویا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، والی صورت حال سامنے آ تی ہے۔ کشکول توڑنے کے دعوؤں کے باوجود ہم قرض لیتے ہیں اور یہی گنگناتے ہیں کہ:
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

سو ہمیں اب اس قرضے کی لت سے بھی جان چھڑانی ہوگی اور خود انحصاری کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ مہنگائی روز بروز آ سمان سے باتیں کرتی ہے اور مہنگائی کا جن کسی کے قابو میں نہیں آ تا۔ اب آ ئے روز پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی مزید بے قابو ہو گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے عام آ دمی کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات تو کئے جا رہے ہیں مگر معاملہ ایک انار سو بیمار والا ہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرے، کنزیومر کورٹ کو بااختیار کیا جائے تاکہ ملک سے مصنوعی مہنگائی کا بھی خاتمہ ہو۔

حکومت مراعات یافتہ طبقے کو مفت بجلی اور پٹرول کی سہولت پر بھی نظر ثانی کرے اور عام آ دمی کے لئے بجلی اور پٹرول کی کمی کے اقدامات کرے۔ مہنگائی الاؤنس یا مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں بھی معقول اضافہ کرے۔
مہنگائی کے ساتھ بے روزگاری کا عفریت بھی ملک کے لئے بہت سے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں جرائم بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ بہت سے شعبوں کے ماہر اور ذہین طالب علموں کے بیرون ملک جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تعلیمی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے ملک میں فنی تعلم جدید ٹیکنالوجی آ ئی ٹی اور اے آ ئی کی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جائے۔

فارغ التحصیل طالب علموں کو ہر ادارے میں ملازمت کا موقع دیا جائے۔ تعلیم کے دوران تین یا چار دن طالب علموں کو مختلف اداروں شاپنگ مالز اور کافی شاپس پر ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنے والدین پر بوجھ نہ بنیں۔ ٹریفک، معیشت، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے کئے متعلقہ وزارتوں کو از سر نو منظم کیا جائے اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کی جائے۔ مسائل کا بہتر حل اسی وقت نکل سکتا ہے جب اصول و ضوابط ااور قوانین پر عملدرآمد ہو اور ایک بہتر اور مربوط حکمت عملی کا نظام وضع کیا جائے۔

ملک میں نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لئے اگرچہ وزارت اور ادارے موجود ہیں مگر ابھی انہیں مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو کاروبار کے لئے قرضوں کے حصول کےساتھ انہیں بیرون ملک جانے کے لئے مشاورت کی بہترین خدمات بھی فراہم کی جائیں۔ قرضوں کا حصول بھی آ سان بنایا جائے۔ دوران تعلیم یونیورسٹی کے طالب علموں کو تربیتی عرصے میں اداروں سے وظائف دلوائے جائیں۔ ٹیکس ادا کرنے والوں کو خصوصی مراعات دی جائیں تاکہ ٹیکس نہ دینے والوں کو بھی اس سے ترغیب ملے۔

ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے قوانین سخت کئے جائیں۔ شاہراہوں پر ون ویلنگ اور حادثات کی روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ شہروں کی شکستہ اور خستہ سٹرکوں کی حالت زار بہتر کی جائے۔ تعلیمی اداروں کے اوقات میں بھاری ٹریفک پر پابندی لگائی جائے۔ تیز رفتاری کو روکا جائے۔ بغیر پارکنگ والے تعلیمی اداروں اور پلازوں کی تعمیر کی بھی حوصلہ شکنی کی جائے۔

ترقی یافتہ ممالک کی طرح کمیونٹی اور یونین کونسل کے ذریعے ریونیو کے حصول اور سہولیات کی فراہمی کا نظام متعارف کرا کر اور بنیادی سہولیات فراہم کر کے بہت سے قومی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔