ماورائے عدالت انصاف نہیں، نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے!
- تحریر ضمیر آفاقی
- بدھ 21 / اکتوبر / 2026
شخصیات نہیں، نظام درست کریں۔ کیونکہ انصاف قانون کی حکمرانی سے ملتا ہے، قانون توڑنے سے نہیں۔ کسی معاشرے کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہریوں کو کتنا تحفظ دیتا ہے۔
جس بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے، ماں کی مجبوری اسے تنہا کر دے اور رشتے دار ذمہ داری سے منہ موڑ لیں، اگر وہ ریاست کے زیرِ انتظام ادارے میں بھی محفوظ نہ رہے تو یہ صرف ایک بچے کا المیہ نہیں، پورے نظام کی ناکامی ہے۔
یتیم بچوں پر تشدد، جبری مشقت اور ان کی ہلاکتوں کے واقعات کے بعد ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں موت کو فوری انصاف قرار دے کر سراہا جاتا ہے۔ عوام کا غصہ اپنی جگہ بجا، لیکن سوال یہ ہے کہ جرم روکنے، بچے کو تحفظ دینے، شواہد جمع کرنے اور مجرم کو عدالت سے سزا دلوانے والے ادارے کہاں تھے؟
ہم ماورائے عدالت کارروائیوں پر واہ واہ کرتے ہیں مگر تفتیش، استغاثہ، عدالتی تاخیر اور ادارہ جاتی غفلت کی اصلاح پر بات نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماورائے عدالت قتل کسی نظام کی کامیابی نہیں، اس کی ناکامی کا اعتراف ہے۔
یتیم بچے کس کی ذمہ داری ہیں؟
باپ کی وفات کے بعد ماں دوسری شادی کر لے، سوتیلا باپ بچے کو قبول نہ کرے اور رشتے دار بھی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیں تو کیا بچہ بے سہارا چھوڑ دیا جائے؟ کیا یتیم خانے صرف بچوں کو اپنے اندر جگہ دینے کے لیے ہیں یا انہیں محفوظ مستقبل فراہم کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے؟ ملتان میں نابالغ وسیم عباس کی موت سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ اگر بچے کو تحفظ دینے والے اداروں کی نگرانی میں غفلت ہوئی تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کیوں نہ ہوں؟ چائلڈ پروٹیکشن بیورو، یتیم خانوں کی نگرانی کرنے والے محکموں اور متعلقہ انتظامیہ کے کردار کا تعین کیوں نہ کیا جائے؟
ادارے کی سربراہی سیاسی شخصیت کے پاس ہو یا سرکاری افسر کے، جواب دہی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ بچے کی موت کے بعد ملزم کی ہلاکت ان سوالات کا جواب نہیں کہ بچے کو بروقت تحفظ کیوں نہ ملا، نگرانی کا نظام کہاں ناکام ہوا اور آئندہ ایسے واقعات کیسے روکے جائیں گے۔
پولیس مقابلہ یا تفتیش کی ناکامی؟
پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کرنا، شواہد جمع کرنا اور مقدمہ عدالت میں پیش کرنا ہے۔ جرم ثابت کرنا عدالت کا اختیار ہے۔ اگر ملزم کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں تو اسے عدالت سے سزا دلوائی جائے۔ اگر پولیس تفتیش اور مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام ہے تو اصلاح پولیس کے نظام کی ہونی چاہیے، نہ کہ ملزم کو عدالتی عمل سے باہر سزا دینے کی۔ توقیر سمیت مختلف واقعات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب شفاف تحقیقات سے ملنا چاہیے۔ اگر کسی ملزم کی موت کے بارے میں دعویٰ کیا جائے کہ وہ پولیس حراست سے فرار ہوا یا ساتھیوں کی فائرنگ میں مارا گیا تو اس دعوے کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔
یہ کہنا درست ہے کہ عدالتوں میں تاخیر ہوتی ہے، مقدمات کا بوجھ ہے اور استغاثہ میں خامیاں ہیں۔ مگر ان مسائل کا حل عدالتوں کو غیر مؤثر قرار دینا نہیں، بلکہ پولیس تفتیش، استغاثہ اور عدالتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ جعلی پولیس مقابلے وقتی خوف تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر مستقل امن نہیں۔ ایسے واقعات میں اصل جرم کے محرکات، سہولت کاروں اور دوسرے ملوث افراد کے بارے میں حقائق بھی چھپ سکتے ہیں۔ غلط شناخت یا ذاتی دشمنی کے باعث کسی بے گناہ کی جان جانے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ قانون کا تحفظ ہر شہری کا حق ہے، خواہ اس پر کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ ہو۔
اب عملی اقدامات کا وقت ہے
حکومت، پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کو اپنے اپنے آئینی اور قانونی فرائض ادا کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔
وسیم عباس کی موت کی شفاف تحقیقات: واقعے کے تمام پہلوؤں اور متعلقہ اداروں کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔ غفلت یا جرم ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو۔
یتیم خانوں کا فوری آڈٹ: تمام متعلقہ اداروں کے باقاعدہ اور اچانک معائنے ہوں۔ بچوں کی تعلیم، رہائش، سرپرستی اور تحفظ کی جانچ کی جائے اور جبری مشقت یا تشدد پر کارروائی ہو۔
چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جواب دہی: نگرانی کے نظام اور شکایات پر کارروائی کا جائزہ لیا جائے۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کارکردگی جانچی جائے۔
پولیس مقابلوں کی آزادانہ تحقیقات: حراست میں موت اور مشکوک مقابلوں کے شواہد محفوظ کیے جائیں اور غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
تفتیش اور عدالتی نظام کی اصلاح: فرانزک سہولتیں بہتر ہوں، تفتیشی افسران کی تربیت کی جائے، استغاثہ مضبوط ہو اور مقدمات کی غیر ضروری تاخیر کم کی جائے۔
بچوں کے تحفظ کا مؤثر نظام: ہر ضلع میں شکایات درج کرانے، ہنگامی مدد اور محفوظ رہائش کی سہولت ہو۔ حکومت نگرانی اور کارروائی کی سالانہ رپورٹ عوام کے سامنے رکھے۔
ان اقدامات کے لیے واضح مدت مقرر ہونی چاہیے اور متعلقہ محکموں کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔ مقصد اداروں کو بدنام کرنا نہیں، انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند بنانا ہے۔
انصاف کا راستہ اصلاح سے نکلتا ہے
اگر یتیم خانے بچوں کو تحفظ نہیں دیتے، پولیس مؤثر تفتیش نہیں کرتی، استغاثہ مقدمہ ثابت نہیں کر پاتا اور عدالتوں میں انصاف تاخیر کا شکار رہتا ہے تو کسی ملزم کی ہلاکت سے یہ مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں جرم کی روک تھام ہو، مظلوم کو بروقت تحفظ ملے، ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہو اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
انصاف کا مطلب صرف مجرم کو سزا دینا نہیں، مظلوم کو حق دلانا، بے گناہ کو تحفظ دینا اور نظام کی خامیوں کو دور کرنا بھی ہے۔ ہمیں ماورائے عدالت کارروائیوں کی تحسین کے بجائے قانون کی حکمرانی، مؤثر تفتیش، آزاد عدلیہ اور جواب دہ ریاست کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ شخصیات بدلنے سے معاشرے نہیں بدلتے، نظام کی اصلاح سے بدلتے ہیں۔
آخری سوال یہی ہے: ہم ہر سانحے کے بعد کسی ملزم کی موت پر خوشی مناتے رہیں گے یا ایسا نظام بنائیں گے جہاں کسی بچے کی زندگی ادارہ جاتی غفلت کی نذر نہ ہو اور ہر مظلوم کو قانون کے مطابق انصاف ملے؟