اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں

زندگی کا ہر گزرتا لمحہ غنیمت ہے سو اسے مہلتِ جان کر استعمال کرنا چاہیے۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سی چیزوں کیلئے وقت ملتا نہیں نکالنا پڑتا ہے اور اگر یہ وقت گزر جائے تو باقی صرف ملال رہ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ چھبیس سال چھ ماہ اور سترہ دن جو بظاہر چوتھائی صدی سے زیادہ لمبا عرصہ بنتا ہے۔

مگر یقین جانیے اس تیزی سے گزرا کہ لگتا ہے یہ 9697دن گزرے نہیں، بس ہاتھ سے پھسل گئے اور اب ملال ہوتا ہے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ملال جو بظاہر اس وقت کسی شمار قطار میں ہی نہیں تھیں۔ ایک دو نہیں بیسیوں ایسی چیزیں جنہیں پورا کرنا شاید ایسا مشکل بھی نہیں تھا۔ نہ جانے کیسے رہ گئیں ؟ تب یہی خیال تھا کہ بھلا وقت کہیں بھاگا چلا جا رہا ہے ؟ کل کر لیں گے  اور اب سچ کہوں تو ان گزرے ہوئے چودہ برسوں میں یہ ملال ساتھ ساتھ چلتا آ رہا کہ یہ چھوٹے چھوٹے کام اگر تب ہی کر لیے جاتے تو بھلا کیامشکل درپیش تھی۔

 لیکن تب شاید کچھ معاملات میں مجبوریاں اور مشکلات بھی تھیں لیکن اس میں سارا قصور میرا نہیں، اس میں وہ بھی برابر کی قصوروار تھی۔ اس نے کبھی کسی بات پر اصرار ہی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی خواہشات میں بھی ترجیحات کی قائل تھی اور اس کی کئی خواہشات تو خود اس کی ترجیحات کی نذر ہو گئیں۔ برآمدے کا معاملہ ہی دیکھ لیں جب کبھی بارش ہوتی تو اسے یاد آتا کہ گھر میں بارش سے لطف اندوز ہونے کیلئے کوئی برآمدہ نہیں ہے۔ جیسے ہی بارش گزر جاتی وہ یہ سب کچھ بھول بھال کر اپنے کاموں میں ایسے مصروف ہو جاتی کہ برآمدہ خواب و خیال بن جاتا تاوقتیکہ نئی بارش برس پڑتی۔ اگر کسی وقت اس کا خیال آیا تو اس دوران کبھی مالی مسئلہ آن پڑا اور کبھی سستی درپیش آ گئی اور معاملہ آگے سے آگے جاتا رہا۔ اسی اثنا میں ایک دو بار میں نے برآمدہ بنانے کا ارادہ کیا اور اسے بتایا تو اس نے برآمدے سے زیادہ اہم چیزوں کی طرف میری توجہ دلاتے ہوئے مجھے خود اس کام سے روک دیا اور کہا کہ برآمدے کا کیا ہے، کبھی پھر بنا لیں گے ابھی یہ کام زیادہ ضروری ہے۔ سو ہم زیادہ ضروری کاموں کی تکمیل میں لگے رہے اور برآمدہ درمیان میں ہی رہ گیا۔ اب بارش ہوتی ہے تو ملال ہوتا ہے۔ اور اس سال تو بارش بھی خوب ہوئی لیکن اب برآمدہ بنانے کو دل نہیں کرتا۔

گھر میں صرف اسی کو بارش میں برآمدے میں بیٹھ کر لطف اندوز ہونے کا شوق تھا۔ اب وہ نہیں رہی تو برآمدے کا کیا کرنا ہے۔ سو بارش ہوتی تو وہ اور برآمدہ یاد آتے ہیں۔ لیکن صرف برآمدے پر ہی کیا موقوف ؟ایمانداری کی بات ہے کہ خیر سے میں تو مزاج کا تیز تھا ہی ،شروع شروع میں اپنی جگہ پر وہ بھی کم نہیں تھی۔ مجھے آج بھی اپنے دوست فرخ نسیم انصاری مرحوم کا جملہ یاد ہے جو اس کی رخصتی سے قبل خانیوال والے گھر کے برآمدے میں اس نے سب کو سناتے ہوئے بظاہر میرے کان میں کہا۔ میں اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ فرخ نسیم انصاری جس کے والد نسیم انصاری صاحب میرے سسر مرحوم کے عزیز ترین دوست بلکہ فیملی ممبر تھے، نے سرگوشی سے ذرا بلند آواز میں مجھے انتباہی وارننگ دیتے ہوئے کہا: ابے بندوقوں کے شوقین! ہم نے بیاہ میں تجھے کلاشنکوف دی ہے۔ سچ پوچھیں تو فرخ نسیم انصاری کا یہ انکشاف پہلے پہل جزوی طور پر تو درست ثابت ہوا، تاہم پھر آہستہ آہستہ وہ تقریباً ویسی ہی ہو گئی جیسا میں چاہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے مزاج کی تیزی میں بھی کمی ہوئی مگر اس نے تو کمال ہی کر دیا تھا۔ یہ عام دنوں کی بات ہے مگر آخری دو سال میں تو حد ہی ہو گئی۔ بیماری عام طور پر انسان کو چڑچڑا اور بات بات پر الجھنے والا بنا دیتی ہے۔ مگر اس پر اس کا بالکل الٹا اثر ہوا۔ جتنی شانت، متحمل،خیال رکھنے اور درگزر کرنے والی وہ آخری دو سال میں ہو گئی تھی۔

وقت کی بھی بھلی پوچھو۔ چھبیس سال چھ ماہ اور سترہ دن تو چٹکی بجاتے گزر گئے اور اب ان چودہ سال کے طوالت کا یہ عالم ہے کہ وہ اب خواب و خیال لگتی ہے۔ آخری دنوں میں اسے بس یہی فکر لاحق تھی کہ مجھ جیسا سست، کاہل اور اپنی بعض خراب عادتوں کا اسیر یہ شخص اس کے بعد کیا کرے گا؟ اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں اس کی اپنے بارے میں تمام تر فکر مندی کے باوجود اس موضوع پر سوچنے کیلئے ہی تیار نہیں تھا۔ یہ ایک عجب معاملہ ہے کہ آپ جس شخص سے جتنی زیادہ محبت کرتے ہوں، آپ اس کے جانے کے بارے میں شاید سوچ ہی نہیں سکتے۔ آپ معجزوں کے منتظر رہتے ہیں جیسا میں اُس رات تھا۔ سترہ اکتوبر کو اسے ہسپتال میں داخل کرواتے وقت یہ بات ہم گھر والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ اسے اس طرح واپس لائیں گے۔

 جس دن اس کو ہسپتال داخل کروایا عین اسی روز میری لاہور سے امریکہ کی فلائٹ تھی۔ سولہ اکتوبر کی دوپہر وہ مجھے کہنے لگی: کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ امریکہ نہ جائیں ؟ میں نے کہا کہ میں نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اس لیے جانا تو پڑے گا۔ ہاں البتہ واپس دو تین دن میں ہی آجاؤں گا۔ پھر میں نے ملتان سے لاہور اپنی شام والی فلائٹ کینسل کر دی اور لاہور کیلئے اگلے روز دوپہر کی فلائٹ میں نئی ٹکٹ لے لی۔ صبح میں پہلے دفتر اور پھر وہاں سے ایئر پورٹ جانے کیلئے اپنا سامان اٹھانے کیلئے جانے لگا تو اللہ جانے اس کے جی میں کیا آئی کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میں نے آپ کو کبھی نہیں روکا لیکن آپ آج نہ جائیں۔ اس نے اس طرح مجھے کبھی بھی نہیں روکا تھا۔ پھر کہنے لگی میری طبیعت ٹھیک نہیں، اگر آپ چلے گئے تو پھر بعد میں پچھتائیں گے۔

ایمانداری کی بات یہ ہے کہ میں نے پہلے یہ سمجھا کہ یہ صرف مجھے روکنے کیلیے طبیعت کی خرابی کا کہہ رہی ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن اللہ جانے میرے بھی دل میں کیا آئی کہ میں نے امریکہ فون کر کے کہہ دیا کہ میں نہیں آ رہا۔ دوپہر کو اچانک ہی اس کا بلڈ پریشر ایک دم خطرناک حد تک گر گیا۔ میں نے مذاق سے کہا کہ اب جبکہ میں امریکہ نہیں جا رہا تو اس ڈرامے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مسکرائی اور کہنے لگی آپ کو تو کبھی میری بیماری کا یقین ہی نہیں آیا۔ میں نے کہا تم نے بیماروں والی حرکتیں کی ہوتیں تو مجھے تمہاری بیماری کا یقین بھی آتا۔ تم بھلا کہیں سے بیمار لگتی ہو؟ تمہارے بہت سے جاننے والوں کو تمہاری علالت کا علم ہی نہیں۔ بھلا جو بندہ بیمار دکھائی نہ دیتا ہو وہ کتنا بیمار ہو سکتا ہے ؟ ہم اپنے پیاروں کے بارے میں آخر وقت تک معجزے کے منتظر ہوتے ہیں۔ اکیس اکتوبر کی شب نو بجے جب میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے بستر کی بائیں جانب کھڑا ہوا تھا تو ڈاکٹر اس کا سانس بحال کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ کومل، سارہ،  انعم اور اسد اس کے سرہانے کھڑے آنسو بہا رہے تھے۔ خاص طور پر کومل جو ڈاکٹر تھی،  اسے صورتحال کا سب سے زیادہ ادراک تھا۔ وہ سب سے زیادہ پریشان اور مایوس کھڑی تھی۔ مجھے تب بھی کسی معجزے کا یقین تھا لیکن ضروری تو نہیں کہ واقعی معجزہ ہو بھی جائے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ملال بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ سب سے بڑا ملال تو یہ ہے کہ اب مجھے کبھی کبھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ وہ اس شاید اس گھر میں میرے ساتھ تھی ہی نہیں۔ اس کا ہونا ایک وہم و خیال لگتا ہے۔ آپ ہی بتائیں جب کوئی حقیقت خواب لگنے لگے تو پھر اس بڑا ملال اور کیا ہوسکتا ہے ؟ پھر خیال آتا ہے کہ اگر وہ تھی ہی نہیں تو پھر میں ایسا کیوں ہوں جیسا میں نہ تو کبھی تھا اور نہ ہی کبھی ایسا ہونے کا سوچا ہی تھا ؟ اور اب ایسا ہونے کا فائدہ بھی کیا ہے۔ فہمی بدایونی کا شعر شاید میرے جیسوں کیلئے ہے:
اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں، بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا

وقت بڑی سست روی سے چل رہا ہے مگر ہر گزرتا سال بہرحال درمیان میں حائل فاصلے کو کم ضرور کر رہا ہے:

 اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں

 اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ

اس مرحلے کو موت بھی کہتے ہیں دوستو

اک پل میں ٹوٹ جائیں جہاں عمر بھر کے ساتھ

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)