سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ
- تحریر آصف محمود
- بدھ 21 / اکتوبر / 2026
کہیں پڑھا تھا کہ جب تک سچ سامنے آتا ہے، تب تک جھوٹ آدھے شہر میں غارت گری کر چکا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے مرد اور عورت کو دی گئی سزائے موت کے بعد جھوٹ کی اس غارت گری کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
مسلمان ملک کے خلاف حقوق انسانی کو ویپنائز کرکے ایک طوفان کھڑا کر دینے کی یہ روایت کافی پرانی ہے۔ تاہم تازہ واردات اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی سنگین ہے، اس کا مکمل سیاق وسباق میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شور مچا ہے کہ بنگلہ دیش کے میاں بیوی کو پیشانی پر بوسہ لینے کی وجہ سے سزائے موت سنا دی گئی۔ اس جھوٹ کی بنیاد پر پھر سعودی عرب اور اسلام کے نظام تعزیر کو نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو فطری تجسس کے تحت سوچا کہ ذرا دیکھا تو جائے حقائق کیا ہیں۔
میرے پیش نظر پہلا سوال یہ تھا کہ نذرالاسلام اور سیتی اختر میں رشتہ کیا تھا اور دوسرا سوال یہ تھا کہ انہیں سزائے موت کس جرم میں ہوئی۔ کیا واقعی پیشانی پر بوسہ لینے کے جرم میں سزا ہوئی۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سمری ٹرائل ہوا تھا اور عجلت میں سزا سنا دی گئی تھی یا باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا تھا۔ کیا نذرالاسلام اور سیتی اختر میاں بیوی تھے؟ بنگلہ دیش کے جاگو نیوز 24 کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ نذرالاسلام کے والد عبد البشیر کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی نہیں تھے، اور وہ اس سیتی نام کی خاتون سے واقف بھی نہیں ہے۔
ڈیلی اسٹار نے بھی اپنی خبر میں ان کے لیے بنگلہ دیشی شہری کی اصطلاح استعمال کی ہے، میاں بیوی کی نہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے جو میڈیا بریفنگ دی ہے اس میں بھی دونوں کو بنگلہ دیشی شہری کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ میاں بیوی کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جو شور مچا ہے کہ دونوں میاں بیوی تھے، اس کی بنیاد کیا ہے؟ کوئی بنیاد ہے تو بتائی جانی چاہیے۔ غلط انفارمیشن کی بنیاد پر ایک طوفان کھڑا کر دینا انتہائی نا معقول حرکت ہے۔
تو کیا سزا پیشانی پر بوسہ دینے کی وجہ سے سنائی گئی؟ بظاہراس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ پہلے مرحلے میں، میں نے سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے اخبارات دیکھے، مجھے ایسی کوئی خبر نہیں ملی۔ بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے بھی ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔ انہیں بھی اس کی تفصیل درکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اسے یہ خبر کس نے دی ہے اور کہاں سے اسے پتا چلا ہے کہ جرم محض ’پیشانی پر بوسہ دینا‘ تھا۔ سعودی وزارت داخلہ کے بیان میں اس کے لیے ’فعل الفاحشہ داخل احد المساجد‘ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔ میں عربی زبان سے تو اتنا واقف نہیں لیکن بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے اتنا ضرور جانتا ہوں کہ عربی زبان میں اس کے مفہوم کو سامنے رکھا جائے تو فاحشہ سے نہایت قبیح اور بے حیائی پر مبنی فعل مراد ہوتا ہے۔ یعنی فعل الفاحشہ کا معاملہ کچھ زیادہ سنگین ہے۔ بنگلہ دیش حکومت نے اب جب تفصیلات مانگ لی ہیں تو وہ سامنے آ جائیں گی کہ ان کے فعل الفاحشہ کی نوعیت کیا تھی۔ یہ نوعیت انتہائی سنگین بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ اسے پیشانی پر بوسہ قرار دے کر سوشل میڈیا پر سعودی عرب اور اس کے نظام تعزیر کے خلاف ایک کمپین کیسے کھڑی کر لی گئی۔
تو کیا یہ ایک سمری ٹرائل تھا، ادھر الزام لگا، کوئی ویڈیو بنی اور اس ویڈیو کی بنیاد پر سزا سنا دی گئی یا مروجہ نظام تعزیر کے تقاضے پورے کیے گئے؟ سوشل میڈیا پر جو طوفان برپا کیا جا چکا ہے، اس میں کہا جا رہا ہے کہ ایک پاکستانی نے ویڈیو بنائی اور اس کی بنیاد پر سزا ہو گئی۔ یعنی نہ صرف سعودی عرب کا نظام تعزیر نشانے پر بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو بھی نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔ کیا سعودیہ میں جہاں مساجد میں جگہ جگہ کیمرے لگے ہوتے ہیں، جرم ثابت کرنے کے لیے کسی پاکستانی کی ویڈیو کی کوئی حاجت ہوتی ہے؟ پھر یہ کہ کیا مسجد جیسی حرمت کی جگہ پر فعل الفاحشہ دیکھ کر کوئی ویڈیو بناتا پھرے گا یا سیدھا اسے روک دے گا؟ یعنی یہ ویڈیو والی بات تو انسانی فطرت ہی کے خلاف لگتی ہے۔
دستیاب شواہد کے مطابق یہ ویڈیو یا سمری ٹرائل کا معاملہ نہیں تھا۔ گرفتاری ہوئی، تفتیش ہوئی، عدالت میں ملزمان کو پیش کیا گیا، مقدمہ چلا، الزامات ثابت ہوئے اور اس کے بعد تعزیر میں سزا سنائی گئی۔ تعزیر کا حق صرف سعودی عرب میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ ساری دنیا کا نظام قانون اسی اصول تعزیر پر کھڑا ہے۔ ہر معاشرے کی کچھ حساسیت ہوتی ہے اور مساجد مسلمانوں کے لیے حرمت وتقدس کی غیر معمولی جگہیں ہیں۔ بہت سے وہ کام جو باہر کیے جائیں تو معمول کے مطابق گوارا کر لیے جائیں، وہ مساجد میں گوارا نہیں کیے جا سکتے کیونکہ یہاں تقدس اور ادب و احترام کے پیمانے ہی اور ہوتے ہیں۔ ایسے میں مساجد میں اگر فعل الفاحشہ ثابت ہو جائے تو تعزیر میں ریاست کو سزا سنانے کا حق موجود ہے۔ بہت سے جرائم کی نوعیت جائے وقوعہ کی بنیاد پر سنگین سے سنگین تر ہو جاتی ہے۔
آنے والے دنوں میں، امکان ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت کے مطالبے پر اس مقدمے سے جڑے سارے حقائق سامنے آجائیں گے۔ بات مگر وہی ہے کہ جب تک سچ سامنے آتا ہے، تب تک جھوٹ آدھے شہر میں غارت گری کر چکا ہوتا ہے۔ اس غارت گری سے بچنا چاہیے۔
(بشکریہ: وی نیوز)