سفارتی حلقے میں ملاقاتیں اور بدلتی ہوئی دنیا
- تحریر محمد مہدی
- بدھ 21 / اکتوبر / 2026
اسلام آباد گئے ہوئے کچھ طویل وقفہ گزر چکا تھا مگر گیا، حالاں کہ صحت ایسا رنگ دکھا رہی ہے کہ ایک روز ہسپتال کی ایمرجنسی بھی جانا پڑا۔ لیکن جرمن اتحاد کے دن کی تقریب تھی، اس لیے شرکت ضروری سمجھی۔
جرمنی سے ایک پرانا تعلق ہے۔ تعلق بھی کیا، ایک ایسی محبت ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوئی۔ کسی یورپی ملک کی دعوت پر میرا پہلا سفر بھی جرمنی ہی کا تھا، جرمن سفیر اینا لیپل پاکستان میں دوسری مرتبہ سفیر بن کر آئی ہیں۔ اس سے پہلے نائب سفیر کی ذمہ داری بھی ادا کر چکی ہیں۔ میں سنہ 2010 میں جرمنی گیا تو ان کے گھر قیام رہا۔ اسٹیشن پر لینے اور ائر پورٹ پر الوداع کہنے کے لئے بھی خود موجود تھی۔ بعض ملاقاتیں وقت گزرنے کے باوجود پرانی نہیں ہوتیں۔ ان میں وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔
اسلام آباد موجودگی کے دوران سفارت کاروں سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے موضوعات بہت تھے، لیکن ایک سوال بار بار سامنے آتا رہا: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث گورنر راج نافذ کیا گیا ہے تو اس کے نتائج کب دکھائی دیں گے؟ دہشت گردی میں کمی آئے، خوف کی فضا چھٹے، لوگوں کو زندگی معمول پر آتی محسوس ہو، تب کہیں جا کر اس فیصلے کا حاصل سامنے آئے گا۔ اس کے ساتھ گورنر کی سیاسی حیثیت کا سوال بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ جو شخص اپنی نشست جیتنے کی قوت نہیں رکھتا، وہ ایسے کڑے وقت میں حکومت کے لیے سیاسی اثاثہ کیسے بن سکتا ہے؟ سوال واضح تھا مگر جواب ابھی کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ایک پرانے سفارتی شناسا نے گفتگو کے دوران کہنے لگے، مشرف کے زمانے میں آپ سفارت کاروں سے رابطے میں رہتے تھے اور آپ کے مستقل روابط مسلم لیگ نون کی قیادت سے بھی موجود تھے۔ خواہ وہ سعودی عرب میں ہو یا کسی اور ملک میں اور اس سبب سے ہی مسلم لیگ نون کی قیادت کی ترجیحات کو ہم آپ کی بدولت جان پاتے تھے۔ اور آپ پاکستان کے دوسرے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کراتے تھے۔ اس طرح ہمیں اندازہ رہتا تھا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے اور سیاسی جماعتیں کس سمت سوچ رہی ہیں۔ لیکن اب حزب اختلاف میں ایسا کوئی منظم رابطہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک رہنما کی بات دوسرے سے نہیں ملتی۔ قائد حزب اختلاف سے ملاقات ہو تو گفتگو 1947 اور اس کی تعبیرات کی طرف نکل جاتی ہے، حالاں کہ سفارت کار آج کے پاکستان کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
میں سوچتا رہا کہ سیاست میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ہنر بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔ لیکن حزب اختلاف کی یہ کمی حکومت کی ذمہ داری کو کم نہیں کرتی، بلکہ اس کا بوجھ مزید بڑھا دیتی ہے۔ روس کا ذکر آیا تو گفتگو مزید پیچیدہ ہو گئی۔ روسی وزیر داخلہ پاکستان میں تھے تو اسی سطح کے روسی عہدیدار دہلی اور کابل میں بھی موجود تھے۔ روسی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تینوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش ہے۔ لیکن اس کوشش کے پس پردہ اصل ارادہ کیا ہے، اس پر ابھی دھند چھائی ہوئی ہے۔ بعض لوگوں کو گمان ہے کہ روس جنوبی ایشیا کو اب بھی سوویت زمانے کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کا رویہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک برادر مسلم ملک کے انٹیلی جنس سربراہ کابل گئے تو طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ نے یہ کہہ کر ملاقات سے انکار کر دیا کہ وہ مغرب کے نمائندے ہیں۔ ملاقات نائب سربراہ سے ہو سکی۔ زمانہ بدل گیا مگر بدگمانیاں اب بھی اپنے پرانے ٹھکانوں پر بیٹھی ہیں۔
امریکہ میں بھی تبدیلی کی ایک آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ وہاں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ جمہوریتیں ہوں یا بادشاہتیں، ان کے رہنما اب عوام کی توقعات پوری نہیں کر پا رہے۔ یہ بات صرف دوسروں کے لیے نہیں، خود امریکہ کے لیے بھی ہے۔ کبھی ٹیکساس میں بش خاندان ریپبلکن سیاست کی پہچان ہوا کرتا تھا، آج وہ نظروں سے اوجھل دکھائی دیتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر ٹرمپ تیسری مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے تو کیا ان کے بیٹے ان کی جگہ منصب صدارت کے امید وار ہوں گے؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے سیاسی گھرانوں کے چراغ بھی اب پہلے کی طرح روشن نہیں رہے۔
ایران کے بارے میں گفتگو ہوئی تو ایک مختلف کہانی سامنے آئی۔ معتبر ایرانی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کو متبادل تجارتی راستہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور ایرانی تجارت کا تقریباً نصف حصہ جو دبئی سے ہوتا تھا، کو پاکستان کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کام پاکستان کے مشورے سے شروع ہوا، مگر تقریباً بارہ ہزار کنٹینر راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کلیئرنس اب شروع ہوئی ہے، وہ بھی سست رفتاری سے۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس میں امریکی دباؤ کارفرما ہے؟ جواب ملا کہ اصل مزاحمت امریکہ کی طرف سے نہیں، بلکہ اس ملک کی جانب سے ہے جس سے تجارت کا رخ موڑ کر پاکستان کی طرف کیا گیا ہے۔ یوں ایک راستہ کھلتا دکھائی دیتا ہے اور اسی لمحے اس پر رکاوٹیں بھی کھڑی ہونے لگتی ہیں۔ ایرانی حلقوں میں یہ خیال بھی مضبوط ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے دہشت گردی کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک بھارت، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات اس عمل میں سرگرم ہیں۔ وہ پاکستانی حکومت، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں اور اخلاص کے معترف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی سرحد کی بندش کا تعلق ایران کے علاقوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں سے ہے اور پاکستان ان معاملات میں تعاون کر رہا ہے۔ ایران کے بعض ارکان پارلیمنٹ یا دوسرے افراد کے پاکستان معاندانہ بیانات کے حوالے سے ان کا واضح موقف ہے کہ یہ سرکاری موقف نہیں ہیں۔
اسلام آباد اعلامیے کو ایرانی حلقے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے اس کا احترام کیا، جبکہ ٹرمپ نے اس کی توہین کی۔ ایرانی فضائی معاملات میں پاکستان کے کردار کو بھی وہ اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان ایران کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے، کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ امریکہ کے دوبارہ حملے کا امکان بھی اسی وقت تک موجود ہے جب تک ٹرمپ اور ان کے کاروباری مشیر اس میں کوئی ذاتی مالی فائدہ دیکھتے ہیں۔ ورنہ واشنگٹن یہ سمجھ چکا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے پہلوی خاندان یا کسی دوسرے امریکی حمایت یافتہ گروہ کو ایران پر مسلط کرنا آسان نہیں۔
واپسی پر یہی خیال ذہن میں رہا کہ دنیا میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ کہیں پرانے سیاسی خاندان پس منظر میں جا رہے ہیں، کہیں نئی بدگمانیاں جنم لے رہی ہیں اور کہیں تجارت کے نئے راستے کھولنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پاکستان کے سامنے بھی راستے ہیں اور رکاوٹیں بھی۔ سفارت کاری میں بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے، لیکن دروازہ کھل جانے سے منزل نہیں ملتی۔ منزل تک پہنچنے کے لیے گھر کے اندر بھی کچھ چراغ جلانے پڑتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)