پولیس حراست میں ایک ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت ہے

ملتان میں ایک روز پہلے ایک پندرہ سالہ بچے کو کار کے نیچے کچل کر ہلاک کرنے والا شخص پولیس حراست کے دوران ہلاک ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھیوں نے اسے   فرار کرانے کی کوشش کی لیکن وہ ان ہی کی فائرنگ سے  موقع پر ہلاک ہوگیا۔  اسی قسم کی اطلاع ایک روز قبل اسلام آباد سے  ایک ہونہار طالبہ کو  امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلانے کا جھانسہ  دینے کے الزام میں  گرفتار ایک شخص  کی ہلاکت کے بارے میں بھی سامنے آئی تھی۔

اس وقوعہ کے بارے میں وہاں کی پولیس کا یہی دعویٰ ہے کہ  اسے بھی اس کے ساتھیوں نے فرار کرانے کی کوشش کی لیکن ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی  گولیوں کا نشانہ بن گیا۔  یہ دونوں واقعات انوکھے نہیں ہیں۔ پنجاب کی انسداد دہشت گردی پولیس گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ایسے متعدد واقعات  کے بارے میں رپورٹس جمع کروا چکی ہے جن میں کوئی خطرناک  ملزم یا سنگین الزامات میں گرفتار ہونے والا  شخص پولیس حراست میں ہلاک ہوجاتا ہے اور بعد میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے ساتھیوں نے اسے رہا کرانے کی کوشش کی تھی لیکن ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ البتہ پولیس کی فائرنگ سے نہ کوئی زخمی ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی  پولیس والا نامعلوم حملہ آوروں  کی زد میں آتا ہے۔ ایسی کوئی خبر بھی سامنے نہیں آئی  جس میں پولیس نے دعویٰ کیا ہو کہ ایسے کسی واقعہ میں اپنے ہی ایک ساتھی کو ہلاک کرنے کا سبب بننے والے افراد کو گرفتار کرکے  قانون کے حوالے کردیا گیا ہے۔ بدقسمتی  یا پولیس کی ڈھٹائی کے سبب ان تمام واقعات میں ایک ہی وجہ اور ایک ہی طریقہ سے زیر حراست  ملزموں کے ہلاک ہونےکی اطلاع دی جاتی ہے۔ عام طور سے یہ طریقہ کسی ایسے شخص کے  بارے میں اختیار کیا جاتا  ہے جس کے بارے میں عوام میں شدید ناراضی اور ہیجان پایا جاتا ہو۔

ملتان والے واقعہ پر  ملک بھر میں شدید غم و غصہ موجود تھا اور ملزم کو سخت سزا  دلوانے  کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ سوشل میڈیا کے عام صارفین سے قطع نظر بعض ممتاز صحافیوں اور اینکرز نے  ’ایکس‘ پر جو پیغامات جاری  کیے ان میں ملزم کو اسی جگہ پر گاڑی کی ٹکر مار کر  ہلاک کرنے کو مناسب سزا قرار دیا گیا۔ ایک پیغام میں تو یہ بھی کہا گیا کہ  ’اگر مقتول بچے کی قبر کی مٹی خشک ہونے سے پہلے ملزم کیفر کردار کو نہیں پہنچتا تو جان لینا چاہئے کہ  اس ملک میں انصاف موجود نہیں ہے‘۔ ملتان پولیس نے شاید اسی قسم کی  ’حوصلہ افزائی ‘  کی وجہ سے ملزم کو جلد از جلد  ’انصاف کے مطابق سزا‘ دینے کا فیصلہ کیا ہوگا۔  تاہم اسے کوئی بھی نام دیا جائے ، یہ طریقہ  نہ کسی مہذب معاشرے کا وتیرہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس طریقے سے کسی سماج میں  امن و سکون پیدا کیا جاسکتا ہے۔

اس کے برعکس معصوم یتیم بچے کی ہلاکت اور اس کے بعد ضلع کچہری میں وکلا کے ہاتھوں ملزم کی پٹائی اور بعد میں پولیس حراست میں اس کی پراسرار ہلاکت، ایک ہی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور متشدد رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔  غور کیا جائے تو اس کہانی کے تینوں کردار اپنی اپنی جگہ معزز اور معاشرے کے ذمہ دار لوگ ہیں۔ جس  شخص نے 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی کے نیچے کچلا اور اس کی موت کا سبب بنا وہ ایک کاروباری شخص تھا۔ ایک یتیم خانہ  سے یہ بچہ فنی تربیت کے لیے اس کے حوالے کیا گیا تھا لیکن وہ کام پر کسی پریشانی کی وجہ سے وہاں سے بھاگ رہا تھا۔ اس ’معزز تاجر‘ کو بچے کی گستاخی قبول نہیں تھی اور وہ کسی بھی قیمت پر اسے واپس لاکر عبرت کا نشان بنانا چاہتا تھا  تاہم گاڑی کی ٹکر سے بچہ جان سے گیا اور اب  ملزم بھی ہلاک ہوچکا ہے۔ اس ملزم کی عدالت میں پیشی کے دوران  وکلا نے اسے گھیر لیا اور تھپڑوں گھونسوں سے اس کی تواضع کی۔  خبروں کے مطابق ایسی آوازیں بھی سنائی دیں کہ ’اگر  تم کسی طرح عدالت سے بچ بھی گئے تو ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے‘۔

وکلا  کسی بھی معاشرے میں قانون کی عملداری  کی علامت ہوتے ہیں۔ کالا کوٹ پہن کر عدالت کے احاطے میں موجود شخص ایک ایسے سماج کا نمائیندہ ہوتا ہے جس میں کسی کے ساتھ ناانصافی  نہیں ہوگی اور   قانون کے مطابق ہر  ملزم کو سزا ملے گی اور بے قصور  کو رہا کرایا جائے گا۔ لیکن جب قانون کی علامت کہلانے والا یہی طبقہ کسی وحشی گروہ کی طرح پولیس حراست میں ایک ملزم کو زد و کوب کرتا ہے تو  یہ رویہ معاشرے میں قانون کی بالادستی کے اصول اور ہر شخص کو انصاف ملنے جیسے تصورات  کی نفی کرتا ہے۔  لیکن اس کے باوجود ایک خاص وقوعہ سے  پیدا ہونے والے ماحول میں یہ گروہ بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ملزم کو سزا دینے  سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا تھا۔ گویا وکلا خود ہی اعلان  کررہے ہیں کہ وہ عدالت کو نہیں مانتے بلکہ خود ہی فیصلہ سنا کر سزا نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر  ملک کی وکلا تنظیمیں مل کر ملک سے عدالتی نظام کے خاتمہ کا  مطالبہ بھی کردیں  تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

اسی طرح ملزم کو حتمی انجام تک پہنچانے والی پولیس  کو بھی ایک معتبر اور معاشرے میں  باہمی احترام قائم کرنے والے ادارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کا کام   قانون کے مطابق ہر قصور وار کو سزا دلوانا  اور قانون پر عمل کر نے والے سب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب کسی سنگین  جرم میں ملوث ملزمان پولیس ہی کی  حراست میں ایسے مشکوک طریقے سے ہلاک ہوجائیں جس کے بارے میں پولیس کے پاس اپنے ہی اہلکاروں کی چند گواہیوں اور کاغذ پر لکھی ایک جھوٹی سچی رپورٹ کے علاوہ کوئی  ثبوت نہ  ہو تو  ایسے ادارے  کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے کہ  وہ قانون نافذ کرے گا  اور  اور سب کو انصاف دلانے  کا فرض  پوراکرسکتا ہے۔ پولیس سے زیادہ کون اس حقیقت سے آگاہ ہوسکتا ہے کہ  کسی ملزم کو سزا دینا یا بری  کرنا  عدالت کا کام ہے۔ اگر پولیس ہی یہ دونوں کام خود کرنے پر مصر ہوگی تو ایسے معاشرے کو کیسے قانون کے مطابق چلانے کی امید کی جاسکتی ہے۔

یہ تو معاشرے کے تین ذمہ دار اور بہتر رتبے پر فائز  طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا حال ہے۔ اگر عام لوگ کسی جرم کے بعد ملزم کو گلیوں میں گھسیٹنے یا کسی چور ڈاکو کو پکڑ کر تشدد سے  ہلاک کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو  یہ رویے پورے ملک کے لیے تشویش و پریشانی کا سبب ہونے چاہئیں۔ یہ علامات  تخریبی،  منفی اور توڑ  پھوڑ کی نشانیاں ہیں۔ ان میں تعمیر کا کوئی پہلو نمایاں نہیں ہوتا۔   جب ایک خاص واقعہ سے پیدا ہونے والی جذباتی فضا میں تعمیر کی بجائے مار داھاڑ  ہی کی  طرف رخ کیا جاتا ہے تو اس سے معاشرتی توڑ پھوڑ اور منفی رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے۔ حکومتیں ان رجحانات کو معاشرے کی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھ کر ان کے خاتمے  کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے، اسے سستی شہرت یا سیاسی  پوائینٹ اسکورنگ کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں انسداد دہشت گردی پولیس کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے  متعدد ملزمان کی ہلاکت درحقیقت موجودہ صوبائی حکومت کی سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ ہے جس نے پولیس کو انتہائی معاملات  میں ’فوری انصاف‘ فراہم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ حالانکہ ایسا کوئی اختیار ملک کا آئین یا قانون خود کسی حکومت کو بھی عطا نہیں کرتا۔

عوامی دباؤ سے نجات کے لیےطویل  و پیچیدہ عدالتی کارروائی سے گلو خلاصی اور سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے   ان ہتھکنڈوں سے البتہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا اور تشدد کو فروغ  ملے گا جو معاشرے میں مزید لاقانونیت  کا سبب بنیں گے۔  اس  مسئلہ سے نمٹنے کے لیے عدالتی نظام کی اصلاح، مقدمات کے جلد فیصلے اور قانون سازی کے ذریعے ان پیچیدگیوں کو دور کرنا  ضروری ہے جو بیشتر صورتوں میں ملزموں کی رہائی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔  ملتان میں ایک ملزم کی  ہلاکت کا واقعہ صرف عدالتی نظام کی کمزوری ہی ظاہر نہیں کرتا  بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملک کا اجتماعی شعور کمپرومائز ہوچکا ہے۔ گویا تعلیمی نظام اپنا فرض پورا کرنے اور شہریوں کو امن پسند اور قانون کو ماننے والا بنانے میں ناکام ہورہا ہے۔ جس ملک کا نظام عدل و تعلیم ناقص  و ناکارہ ہوجائیں، اس کی ترقی و کامیابی کی امید کیسے قائم کی جاسکتی ہے؟

ملتان  میں پولیس حراست میں ایک ملزم کی ہلاکت  کوئی ایک سادہ واقعہ نہیں ہے جسے بھلاکر آگے بڑھا جائے۔ ملک کی حکمران  جماعتوں کو اس وقوعہ کے پس منظر  کے علاوہ ان عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جن کی وجہ سے ایسے جرائم  رونما ہوتے ہیں۔ اس وقت ملک  دو صوبوں میں  دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ ہر حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ حتی کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے نام پر ایک صوبے کی منتخب حکومت بھی ختم کردی گئی ہے۔  لیکن  اس بنیادی نکتے پر غور کیے بغیر ملک میں امن و مان کی امید کرنا عبث ہوگا کہ    معاشرے میں  کیوں شدت پسندی  کے رجحانات  فروغ پارہے ہیں۔ ان کا تدارک کیے بغیر شاید کوئی بڑا قومی مقصد حاصل نہ ہوسکے۔