انگلش مشاعرہ
- تحریر فہیم اختر
- جمعرات 22 / اکتوبر / 2026
پہلی اکتوبر کی شام تھی۔ میں گھر سے نکلا تو دل میں ایک عجیب سا جوش تھا۔ آج ارادہ تھا کہ انگلش مشاعرے میں اپنی شاعری پڑھوں گا۔ یہ خیال ہی میرے لیے کچھ ایسا تھا جیسے کوئی پرانا اردو شاعر اچانک لندن کی کسی گلی میں اپنا دیوان اٹھائے کھڑا ہو جائے اور سوچے کہ آج غزل نہیں، پہلے زبان کا امتحان ہے!
لندن شہر کے مورڈن کا علاقہ میرے گھر سے کوئی پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے اور بس سے بھی تقریباً اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ کچھ دن پہلے وہاں سے گزر رہا تھا کہ ایک کیفے کے باہر نظر پڑی۔ نام تھا میٹرونوم کیفے،
Metronome Café
اور باہر ایک خوب صورت سا اشتہار لگا تھا، پوئیٹری نائٹ،
Poetry Night
اشتہار پڑھ کر میں چند لمحے رکا۔ لکھا تھا کہ ہر ماہ پہلی جمعرات کو شاعری کی شام منعقد ہوتی ہے۔ کوئی بھی اپنی شاعری پڑھ سکتا ہے۔ اپنے پسندیدہ شاعر کی نظم سنا سکتا ہے یا صرف بیٹھ کر دوسروں کو سن سکتا ہے۔ ماحول دوستانہ ہے، یہاں تک کہ ٹکٹ کے ساتھ کسی مشروب پر نصف قیمت کی رعایت بھی ہے۔میں نے سوچا، واہ! یہ تو بالکل مشاعرے والی بات ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ہاں مشاعرہ ہو تو چائے، سموسہ، بسکٹ اور کبھی کبھی بریانی کا سوال پیدا ہوتا ہے، یہاں شاعری کے ساتھ ہاؤس ڈرنکhouse drink کا ذکر تھا۔ یعنی ادب بھی زندہ رہے اور حلق بھی تر۔
لندن میں اردو کے مشاعرے تو میں نے بے شمار دیکھے ہیں، مگر انگلش شاعری کی ایسی باقاعدہ محفل میں کبھی شرکت نہیں کی تھی۔سوچا آخر میں بھی تو دیکھوں کہ انگریز شاعر مشاعرہ کیسے کرتے ہیں۔کیفے کے کاؤنٹر پر کھڑی انگریز حسینہ سے ہم نے پوچھا کہ شرکت کیسے ہوگی؟جواب ملا:آن لائن بکنگ کر لیجیے۔میں نے بھی فوراً آن لائن ٹکٹ بک کیا اور پہلی اکتوبرجمعرات کی شام ساڑھے چھ بجے تیار ہو کر میٹرونوم کیفے پہنچ گیا۔ سات بجے محفل شروع ہونی تھی۔میرے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ لندن میں رہتے ہوئے مجھے تینتیس برس سے زیادہ ہو گئے ہیں، مگر اس شام مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے پہلی بار کسی نئے شہر میں جا رہا ہوں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ شہر نیا نہیں تھا، زبان نئی تھی یعنی انگلش مشاعرہ۔
کیفے میں جیسے ہی داخل ہوئے، ایک حسین و خوش اخلاق انگریزخاتون نے مسکراتے ہوئے ہمارا استقبال کیا اور نام پوچھا۔ سچ پوچھئے تو اُس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ اب میں اس انگلش مشاعرے میں بار بار آتا رہوں گا۔ آخر یہ صرف ایک مشاعرہ نہیں، بلکہ شاعری کے ساتھ ایک خوبصورت استقبال کا حسین تحفہ بھی ہے۔ ایسی دل آویز میزبانی ہو تو مشاعرے میں آنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ہلکی مدھم روشنیوں میں تقریباً بیس پچیس لوگ موجود تھے جن میں آٹھ انگلش شاعر تھے۔ ان میں سات انگریزی میں شاعری پڑھنے والے تھے جن میں دو خواتین بھی تھیں اور ایک اردو شاعر تھا،یعنی میں!دل نے کہا:فہیم میاں، آج آپ واقعی اقلیت میں ہیں۔اور وہ بھی ایسی اقلیت جسے اپنی زبان خود ساتھ لے کر آنا پڑی تھی۔محفل کے ناظم ٹونی تھے۔ انہوں نے بڑے خوش گوار انداز میں شام کا آغاز کیا۔ نہ کوئی لمبی تمہید، نہ شعرا کے پندرہ منٹ کے تعارف، نہ یہ اعلان کہ فلاں شاعر نے اتنی کتابیں لکھی ہیں کہ اگر سب کتابیں ایک دوسرے پر رکھ دی جائیں تو لندن کی زیر زمین ٹرین بھی ان کے نیچے سے گزر جائے۔ بس شاعر آتے گئے، اپنی شاعری پڑھتے گئے اور سامعین سنتے گئے۔پہلے چار شاعروں نے اپنی اپنی تخلیقات پیش کیں۔ پھر اگلے چار کی باری آئی۔ میں خاموشی سے بیٹھا سب کو سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے اندر کے اردو مشاعرے کو بھی دیکھ رہا تھا۔
مجھے سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ محسوس ہوئی کہ زبان بدل گئی تھی، لیکن شاعر زیادہ نہیں بدلا تھا۔ایک صاحب نے اپنی نظم پڑھی، دوسرے نے اپنی زندگی کے تجربات کو شاعری میں ڈھالا، کسی نے محبت کا ذکر کیا، کسی نے تنہائی کا، کسی نے روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو شعر بنا دیا۔میں نے سوچا، شاعر چاہے اردو میں لکھے یا انگریزی میں، آخرکار وہ اپنے دل کا ہی ترجمان ہوتا ہے۔پھر میری باری آئی۔میں نے منتظمین سے اجازت لے کر اپنی ایک اردو نظم پہلے انگریزی میں ترجمہ کر کے سنائی اور پھر اصل اردو نظم بھی پڑھی۔ مجھے خود بھی اس تجربے میں خاص لطف آیا۔ ایک ہی خیال پہلے انگریزی میں اور پھر اردو میں ادا کرنا ایسا تھا جیسے ایک ہی گھر کی دو کھڑکیاں کھول دی جائیں اور دونوں طرف سے الگ الگ ہوا اندر آنے لگے۔میں اردو میں پڑھ رہا تھا اور سامنے بیٹھے لوگ بڑی توجہ سے سن رہے تھے۔یقیناً وہ اردو نہیں سمجھ رہے تھے، لیکن شاعری کے معاملے میں ایک عجیب بات ہے۔ کبھی کبھی زبان سمجھ میں نہ آئے تب بھی لہجہ، آواز، ٹھہراؤ اور احساس اپنی جگہ راستہ بنا لیتے ہیں۔میں نے نظم ختم کی تو سامعین نے خوب حوصلہ افزائی کی اور تالیوں سے میرا حوصلہ بڑھایا تاہم واہ واہ کی کمی کا بھی احساس ہوا۔
مجھے محسوس ہوا کہ شاعر کو ہمیشہ یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ سامعین اس کے ہر لفظ کا لغوی مطلب سمجھیں۔ کبھی کبھی شاعر کے لیے اتنا کافی ہوتا ہے کہ اس کے احساس کو محسوس کر لیا جائے۔اور پھر میں نے وہی نظم اردو میں پڑھی۔دل میں خیال آیا کہ اگر کسی اردو مشاعرے میں یہی تجربہ کیا جاتا تو شاید صورت حال کچھ مختلف ہوتی۔ وہاں کوئی نہ کوئی ضرور کہتا:”فہیم صاحب! پہلے اردو میں ہی پڑھ لیجیے، ترجمہ بعد میں کر لیجیے گا۔“اور اگر مشاعرہ رات گئے تک چلتا تو شاید کوئی دوسرا بزرگ شاعر مشورہ دیتے:”میاں! ترجمے میں شاعری کہاں رہتی ہے؟ اصل زبان ہی اصل ہوتی ہے۔“میں نے سوچا، آج ذرا انگریزوں کے درمیان بیٹھ کر دیکھتے ہیں کہ شاعری زبان سے باہر نکل کر کہاں تک جاتی ہے۔محفل میں ایک ریٹائرڈ استاد پیٹر سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ خود بھی شاعری کرتے ہیں اور بڑی دلچسپی سے اپنی تخلیقات سناتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک بات کہی تو میں چونک گیا۔وہ ایک خاتون شاعرہ کے بارے میں بتا رہے تھے کہ وہ اکثر کہتی ہیں کہ فلاں نظم انہیں بس میں بیٹھے بیٹھے آئی، فلاں شعر راستے میں ذہن میں آیا، یہ نظم انہوں نے سفر کے دوران لکھی، وغیرہ۔میں نے دل ہی دل میں کہا:”پیٹر صاحب! آپ کو کیا معلوم، یہ بیماری تو ہمارے ہاں بھی پرانی ہے!“اردو کے مشاعروں میں بھی اکثر شاعر فرماتے ہیں:”حضرات! یہ غزل میں نے کل رات سفر کے دوران لکھی۔“یا:”یہ شعر مجھے اچانک راستے میں خیال آیا۔“اور کبھی کبھی تو شاعر اس طرح شعر کی پیدائش کی داستان سناتے ہیں جیسے شعر نہیں، کوئی بچہ لندن کی کسی بس میں پیدا ہوا ہو۔
شاعری کے اس پہلو نے مجھے بہت محظوظ کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ زبان الگ ہو سکتی ہے، ملک الگ ہو سکتا ہے، ثقافت الگ ہو سکتی ہے، مگر شاعر کی کچھ عادتیں بین الاقوامی ہوتی ہیں۔شاعر جہاں کا بھی ہو، اسے اپنا شعر خاص طور پر عزیز ہوتا ہے۔اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شاعر کا ہر شعر سامعین کے لیے شاہکار ہو۔ لیکن شاعر کے لیے وہ لمحہ قیمتی ہوتا ہے جب اس کے اندر کوئی خیال جنم لیتا ہے اور وہ اسے لفظوں میں ڈھالتا ہے۔اردو مشاعرے کی اپنی ایک دنیا ہے۔وہاں شاعر آتا ہے تو کبھی کبھی پہلے اپنا تعارف خود کرواتا ہے، پھر کسی دوست سے کرواتا ہے، پھر کوئی دوسرا شاعر اس کا تعارف مزید بڑھا دیتا ہے اور آخر میں سامعین سوچنے لگتے ہیں کہ شاعر صاحب کو شعر پڑھنے کا موقع بھی ملے گا یا نہیں۔انگریزی شاعری کی اس محفل میں مجھے یہ چیز نہیں ملی۔ یہاں سادگی تھی۔ شاعر آیا، مائیک پکڑا، نظم پڑھی اور واپس اپنی نشست پر آ گیا۔نہ کسی نے اپنا ادبی شجرہ نسب بیان کیا، نہ کسی نے یہ بتایا کہ فلاں یونیورسٹی نے ان کے فن پر مقالہ لکھا ہے، نہ کسی نے یہ کہا کہ ان کی شاعری کی گونج برصغیر سے نکل کر یورپ تک پہنچ چکی ہے۔شاید یہی اس محفل کی خوب صورتی تھی۔مجھے یہ بھی اچھا لگا کہ یہاں شاعر بننے کے لیے کسی ادبی گروپ کا رکن ہونا ضروری نہیں تھا۔ کوئی شخص اپنی نظم لے کر آ سکتا تھا، اسے پڑھ سکتا تھا اور سامعین کے درمیان بیٹھ سکتا تھا۔یہ بات مجھے بہت مانوس لگی۔کیونکہ شاعری آخرکار کسی دربار کی جاگیر نہیں۔ شاعری دل کی آواز ہے، اور دل کی آواز کو ہمیشہ کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔البتہ مائیک کے لیے ٹکٹ ضرور خریدنا پڑ سکتا ہے!اس شام ایک اور دلچسپ احساس بھی میرے ساتھ رہا۔
میں تینتیس برس سے برطانیہ میں مقیم ہوں۔ اس عرصے میں لندن اور برطانیہ کی زندگی کے بے شمار رنگ دیکھے ہیں۔ اردو کے کئی مشاعرے پڑھے، سنے، منعقد کیے، ان میں شرکت کی، شاعروں سے ملاقاتیں کیں۔ لیکن پہلی مرتبہ کسی انگریزی مشاعرے میں شریک ہو رہا تھا۔مجھے لگا کہ شاید ہم اردو والے کبھی کبھی اپنی زبان کی عظمت میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ دوسری زبانوں کی شاعری کو سننا بھول جاتے ہیں۔اور انگریزی والے بھی شاید کبھی یہ تصور نہیں کرتے کہ اردو میں شاعری کی ایک ایسی دنیا ہے جو صدیوں سے لفظ، احساس، موسیقی اور تہذیب کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔اس شام مجھے دونوں دنیاؤں کے درمیان بیٹھنے کا موقع ملا۔ایک طرف انگریزی کی سادہ، براہِ راست اور روزمرہ زندگی سے جڑی شاعری تھی، دوسری طرف میرے اندر میر، غالب، فیض، فراق اور بے شمار اردو شعرا کی آوازیں تھیں۔لیکن دونوں کے درمیان ایک بنیادی رشتہ بہت واضح تھا:انسان۔محبت یہاں بھی تھی، تنہائی یہاں بھی تھی، یاد یہاں بھی تھی، خوشی یہاں بھی تھی، دکھ یہاں بھی تھا۔ فرق صرف اظہار کا تھا۔
اردو شعر میں کبھی ایک لفظ کے اندر پوری کائنات سمٹ آتی ہے۔ ایک مصرع میں صدیوں کی تہذیب بول اٹھتی ہے۔ غزل کا ایک شعر اپنے اندر کئی معنی، کئی اشارے اور کئی دروازے رکھتا ہے۔انگریزی شاعری میں بھی مجھے احساس ہوا کہ شاعر اپنے تجربے کو براہِ راست قاری یا سامع تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ زبان نسبتاً سادہ ہو سکتی ہے، مگر جذبہ سادہ نہیں ہوتا۔یہی تو شاعری کا کمال ہے۔زبان بدلتی رہتی ہے، انسان نہیں بدلتا۔میں نے اس شام یہ بھی محسوس کیا کہ اردو مشاعرہ صرف شعر پڑھنے کا نام نہیں۔ یہ ایک تہذیبی روایت بھی ہے۔ شاعر، سامع، داد، واہ واہ، ترنم، طرحی مصرعے، غزل، نظم، قافیہ، ردیف،یہ سب مل کر اردو مشاعرے کو ایک خاص رنگ دیتے ہیں۔انگریزی کی اس محفل میں وہ روایتی ”واہ واہ“ نہیں تھی، لیکن توجہ تھی۔یہاں شاعر کے شعر کے بعد شاید کوئی ”مکرر ارشاد“ نہیں کہتا تھا، مگر مسکراہٹ اور تالیاں موجود تھیں۔وہاں کوئی سامع شاعر سے یہ نہیں کہتا تھا:”حضرت! آخری شعر دوبارہ پڑھ دیجیے۔“لیکن لوگ خاموشی سے سنتے تھے۔اور شاید شاعری کے لیے خاموشی بھی ایک طرح کی داد ہے۔
شام تقریباً اسی ماحول میں آگے بڑھتی رہی۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک چھوٹے سے کیفے میں بیٹھے یہ بیس پچیس لوگ دراصل شاعری کی ایک بڑی دنیا کا حصہ ہیں۔کوئی بس میں بیٹھ کر شعر لکھ رہا ہے، کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد شاعری کر رہا ہے، کوئی اپنے روزمرہ کے تجربات کو نظم میں ڈھال رہا ہے، اور ایک شخص یعنی میں،اردو کی شاعری کو انگریزی کے درمیان لے آیا ہے۔یہ خیال مجھے اندر سے خوش کر رہا تھا۔میں نے سوچا، اگر اردو شاعر کبھی کبھی انگریزی شاعری سنیں اور انگریزی شاعر اردو شاعری سے واقف ہوں تو شاید دونوں زبانوں کے درمیان ایک خوب صورت مکالمہ پیدا ہو سکتا ہے۔زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں ہوتیں۔زبانیں دروازے ہوتی ہیں۔ایک دروازہ کھولو تو ایک دنیا سامنے آتی ہے، دوسرا کھولو تو دوسری دنیااور شاعر کا کام شاید یہی ہے کہ وہ دروازے کھولتا رہے۔اس رات واپس آتے ہوئے میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں پہلی مرتبہ ”انگلش مشاعرے“ میں گیا تھا، مگر واپس آتے ہوئے مجھے یوں لگا جیسے میں ایک نئے مشاعرے سے نہیں بلکہ ایک نئے تجربے سے لوٹ رہا ہوں۔اردو مشاعرہ میرے لیے ہمیشہ گھر جیسا ہے۔ وہاں کی آوازیں، انداز، محاورے، داد، قہقہے اور کبھی کبھی شاعر کی طویل تمہیدیں بھی اپنی لگتی ہیں۔لیکن میٹرونوم کیفے کی وہ شام مجھے یہ سکھا گئی کہ شاعری کا گھر صرف ایک زبان میں نہیں ہوتا۔
اردو اپنی جگہ ایک مکمل تہذیب ہے۔ اس کے لفظوں میں صدیوں کی خوشبو ہے۔ انگریزی کی شاعری اپنی جگہ ایک وسیع دنیا ہے، جس میں جدید زندگی، ذاتی تجربہ اور بدلتے ہوئے معاشرے کی بہت سی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ایک میں غزل کی موسیقی ہے، دوسرے میں نظم کی براہِ راست گفتگو؛ ایک میں ”دل“ کے کئی استعارے ہیں، دوسرے میں روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات؛ ایک میں شاعر کبھی کہتا ہے کہ شعر اسے ”آمد“ میں آیا، دوسرے میں کوئی بتاتا ہے کہ شعر بس میں بیٹھے بیٹھے لکھا تھا۔لیکن آخر میں دونوں ایک ہی جگہ پہنچتے ہیں:انسان کے دل تک۔اور شاید اسی لیے اس پہلی اکتوبر کی شام، لندن شہر کے مورڈن کے ایک چھوٹے سے کیفے میں، مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ مشاعرہ صرف اردو کا لفظ نہیں۔مشاعرہ دراصل ایک کیفیت ہے۔جہاں شاعر اپنے دل کی بات کہے اور کوئی دوسرا اسے سننے کے لیے چند لمحوں کو رک جائے،وہیں مشاعرہ شروع ہو جاتا ہے۔چاہے زبان اردو ہو یا انگریزی۔اور میں؟میں اگلی، پہلی جمعرات کا انتظار کر رہا ہوں۔آخر ایک اردو شاعر نے انگریزی مشاعرے کا دروازہ دیکھ ہی لیا ہے!اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلی بار وہ صرف شاعر بن کر جاتا ہے یا ساتھ میں سموسے بھی لے کر جاتا ہے۔