کیا یہی ہوتی ہے جمہوریت؟

کون کہتا ہے مسئلے حل نہیں ہو رہے۔ ہمارے پیارے ارکان اسمبلی،ارکان سینٹ دن رات مسئلے حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اب کچھ حاسدین کہیں گے وہ تو سب اپنے کام کرا رہے ہیں، عوام کی تو انہیں دور دور تک فکر نہیں،ایسے لوگوں کو کون سمجھائے کہ ارکان اسمبلی کیا پاکستانی نہیں۔

 کیا ان کا اس ملک پر کوئی حق نہیں، کیا انہوں نے اپنی زندگی عوام کے لئے وقف نہیں کر رکھی،ان کی آل اولاد کے بھی عوام پر سینکڑوں احسانات ہیں،اس لئے اگر وہ اپنے کام کرا رہے ہیں، مسائل حل کرانے میں دن رات مگن ہیں تو انہیں خوشدلی سے اجازت دینی چاہیے کہ پہلے سب کام کرالیں اور پھر اس بھوکے ننگے، غربت و مہنگائی میں ڈوبے ہجوم پر بھی توجہ دیں، جسے عوام کہا جاتا ہے۔ اصل میں بے صبرے عوام یہ چاہتے ہیں یہ عوامی نمائندے سب کام چھوڑ کر، اپنی کروڑوں روپے کی گاڑیوں سے اتر کر ذرا عوام کے حالات کا جائزہ لیں، وہ کس حال میں زندہ ہیں اور ان پر آج کل کیا بیت رہی ہے۔

یہ عجیب خواہش ہے، عجیب فرمائش ہے۔ ایک بار ووٹ دے کر یا ان ووٹوں سے بننے والوں نے سینٹ کے ارکان بنا کر کیا انہیں خرید لیا ہے۔ ان کی اپنی بھی خواہشیں ہیں، اپنی بھی مجبوریاں ہیں، کچھ  تو ان کا بھی خیال کیا جائے۔ اب یہ ہاہا کار مچی ہوئی ہے کہ سینیٹ کے ارکان بلیو پاسپورٹ کے لئے کیوں مرے جا رہے ہیں، کیا ملک کا یہی آخری مسئلہ رہ گیا ہے۔ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی اولاد اور جو ریٹائرڈ ہو کر جا چکے ہیں ان سینیٹرز کے لئے بھی بلیو پاسپورٹ مانگ رہے ہیں۔ اگر وزارت داخلہ نے یہ کہہ دیا ہے کہ بچوں کی پولیس کلیئرنگ کے بعد بلیو پاسپورٹ جاری ہوں گے تو اس بات نے بھی سینیٹرز کے تن بدن میں آگ لگا دی ہے۔ وہ سب تو خود کو قانون سے ماورا اور دودھ کے دھلے سمجھتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بھی اوتار مانتے ہیں اس لئے انہیں اس بات پر بھی شدید اعتراض ہے۔ کوئی بچہ اگر کسی جرم میں ملوث رہا ہے، کہیں اس کا نام ایف آئی آر میں ہے تو حکومت کو کیا تکلیف ہے ، وہ بس بلیو پاسپورٹ جاری کرے۔ وہ عوام کی طرح کیڑے مکوڑے تو نہیں کہ ایف آئی آر ہو تو بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔بعض اوقات  تو پاسپورٹ تک نہیں بنوا سکتے۔ اب بلیو پاسپورٹ تو ایک شاہکار ہے، قانون، ویزے اور امیگریشن کی ہر پابندی سے آزاد۔ یہ موقع ہاتھ سے جانا نہیں چاہیے۔ کمزور حکومت، کمزور ادارے سب قابو میں آئے ہوئے ہیں، ان سے جو مرضی منظور کرالو۔ سو یہ بلیو پاسپورٹ جو کسی زمانے میں ایک نایاب چیز ہوتا تھا، اب اسے بھی ٹکے ٹوکری کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ ملک اتنے سنگین حالات سے گزر رہا ہے اور ان شاہی نمائندوں کو دن رات اس خواہش کی پڑی ہے کسی طرح بلیو پاسپورٹ اگلی نسل تک کو مل جائے۔ ایسے لوگوں کی بے حسی، حوصلے اور جرات مندی کی داد تو بنتی ہے۔

یہ شیدا ریڑھی والا بھی کوئی کمال کی چیز ہے، بال کی کھال اتارتا ہے اور بندے کو ہلکان کر دیتا ہے۔ کل پوچھنے لگا بابو جی کیا ان سب کو یہ خطرہ تو لاحق نہیں ہو چکا کہ انہیں اچانک  ملک سے جانا پڑ سکتا ہے، اتنا وقت بھی نہیں ملے گا کہ ویزا ہی لگوا سکیں۔ اس لئے بلیو پاسپورٹ پاس ہونا چاہیے تاکہ فٹا فٹ ملک سے نکل جائیں۔ میں نے کہا شیدے یہ تو تم ایسے کہہ رہے ہو، جیسے ان کا ملک سے بھاگنے کا منصوبہ ہو۔ بھلا وہ کیوں جائیں گے، یہ تو ان کا پیارا ملک ہے۔ یہاں ان کی بادشاہی ہے۔ جو کروفر انہیں یہاں حاصل ہے، دنیا کے اور کسی ملک میں نہیں مل سکتا۔ شیدے نے پوچھا تو پھر وہ بلیو پاسپورٹ کیلئے اتنا دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں۔ میں نے کہا وہ عوام سے ذرا فاصلہ رکھنا چاہتے ہیں۔سبز پاسپورٹ رکھ کر انہیں ائرپورٹس پر عوام کے ساتھ قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے جو بڑی تکلیف دہ بات ہے۔ اس لئے بلیو پاسپورٹ چاہتے ہیں تاکہ شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ سفر کر سکیں۔ اتنا تو ان کا حق بنتا ہے۔ آخر وہ عوام کے نمائندے اور حکومت بنانے والے ہیں۔

 شیدا کہاں بازآتا ہے، کہنے لگا مگر بابو جی پہلے تو کہا جاتا تھا حکومت عوام بناتے ہیں کیا عوام درمیان سے نکل گئے ہیں۔ میں نے کہا ہاں نکل گئے ہیں، ویسے جب پہلے یہ کہا جاتا تھا، تب بھی صرف جھوٹ اور ملمع کاری عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش ہوتی تھی۔ عوام اس ملک میں کبھی بھی اسٹیک ہولڈرز نہیں رہے۔ وہ نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں۔ شیدے سے جان چھڑا کر میں واپس تو آ گیا مگر یہ سوچ گلے پڑ گئی کہ شیدے ریڑھی والے جیسے عوام کی کیا واقعی عوامی نمائندوں کو کوئی فکر نہیں رہ گئی۔ کیا وہ ان سے بالکل لاتعلق ہو چکے ہیں۔ انہیں اپنے مشاہرے اور الاؤنس بڑھانے، بلیوپاسپورٹ لینے اور دیگر مراعات لینے سے فرصت ہی نہیں رہی۔ ابھی کل ہی ایک دوست کہہ رہے تھے۔ یہ سینیٹ آخر ہے کیا بلا۔ کیا اس میں کبھی عوام کی کوئی بات ہوئی، کیا مہنگے پٹرول پر کسی نے قرارداد پیش کی، کیا مہنگائی پر عوام میں جو اضطراب ہے اس پر حکومت سے جواب طلبی کی۔ پھر انہوں نے اچھے دل کی بھڑاس اس طرح نکالی کہ اب تو اسے بلیو پاسپورٹ والی سینیٹ کا خطاب ملنا چاہیے۔

میں اس بات کا کھوج لگاتا رہا کہ سیاست میں یہ کلچر شروع دن سے ہے یا یہ کچھ دہائیوں کی پیداوار ہے۔ نہیں صاحب یہ شروع دن کی برائی نہیں، میں نے وہ زمانے بھی دیکھے ہیں جب مراعات بڑھانے کا کوئی بل ایوان میں پیش ہوتا تھا تو اپوزیشن اس کی شدید مخالفت کرتی تھی حتیٰ کہ  حزب اقتدار میں سے بھی کئی نمائندے بول پڑتے تھے کہ عوام کو اگر ہم کچھ نہیں دے سکتے تو ہمیں بھی اس کا کوئی حق نہیں کہ اپنے لئے فیصلے کریں۔ کئی بار حکومت کو بل واپس لینے پڑتے تھے، مگر افسوس اب اس حوالے سے سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ عام معاملات میں ایک دوسرے سے لاکھ اختلاف رکھنے والے تنخواہوں میں اضافے، الاؤنسز بڑھانے اور بلیو پاسپورٹ لینے جیسے معاملات میں ایک ہوجاتے ہیں۔ پارٹی کا اختلاف نہ اپوزیشن کا کوئی خیال۔ تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت 25کروڑ عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔تنخواہ دار طبقہ علیحدہ پریشان ہے۔ مزدور بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا پا رہے۔ تاجر، کسان،ریڑھی تانگہ بان سب پریشان ہیں مگر ہمارے نمائندے، ہمارے حکمران اپنی دنیا میں مگن ہیں، کیا یہی ہوتی ہے جمہوریت؟

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)