جب آواز حدود توڑ دے تو اسے خاموش کر دیا جاتا ہے!
مغربی میڈیا، جو خود کو آزادی اظہار اور انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے، اکثر ان آوازوں کو ترجیح دیتا ہے جو ایک مخصوص سیاسی بیانیے کے اندر رہیں۔ جیسے ہی کوئی شخصیت اس دائرے سے باہر نکلتی ہے،چاہے وہ کتنی ہی معتبر کیوں نہ ہو۔اس کی ساکھ پر سوال اٹھائے جانے لگتے ہیں، یا اسے خاموشی کے اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔گریٹا تھنبرگ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ طاقتور مفادات کے خلاف بولنے والوں کو دبانے کی کوشش کی گئی ہو۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی آواز جمود کو چیلنج کرتی ہے، اسے بدنام کرنے، ڈرانے یا نظر انداز کرنے کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔گریٹا تھنبرگ نے بھی یہی سب دیکھا، تنقید، تمسخر، حتیٰ کہ دھمکیاں بھی دی گئی۔لیکن فرق یہ ہے کہ وہ رکی نہیں اور اپنے موقف پر اب تک قائم ہیں۔
گریٹا تھنبرگ کا نام دنیا بھر میں موسمیاتی انصاف کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک کم عمر لڑکی جس نے سچ بولنے کی ہمت کی، عالمی رہنماؤں کو للکارا، اور نوجوان نسل کو بیدار کیا۔ لیکن آج سوال یہ ہے کہ کیا وہی آواز، جو کبھی مغربی میڈیا کی آنکھوں کا تارا تھی، اب غیر اہم بنا دی گئی ہے؟گریٹا کی کہانی صرف ماحولیاتی تبدیلی تک محدود نہیں رہی۔ اس نے طاقت کے مراکز کو چیلنج کیا، منافقت کو بے نقاب کیا، اور انسانیت کے وسیع تر مسائل پر بھی آواز اٹھائی۔ حالیہ دنوں میں جب اس نے غزہ میں ہونے والی انسانی المیے پر کھل کر تنقید کی اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی تو منظرنامہ یکسر بدلتا نظر آیا۔تاہم وہی میڈیا جو کبھی اس کے ہر جملے کو شہ سرخی بناتا تھا، اب خاموش ہے۔ نہ بڑے انٹرویوز، نہ نمایاں کوریج، نہ ہی وہ پذیرائی جو پہلے اس کا مقدر تھی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا پھر سچ بولنے کی ایک قیمت ہے؟
یوں تومغربی میڈیا خود کو آزادی اظہار کا علمبردار کہتا ہے، مگر جب بات کچھ مخصوص سیاسی حساسیتوں کی آتی ہے تو یہی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ گریٹا درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ کیا ہر آواز کو برابر سنا جا رہا ہے؟اگر ایک ماحولیاتی کارکن صرف اس لیے نظر انداز ہونے لگے کہ اس نے ایک متنازعہ مگر انسانی مسئلے پر رائے دی، تو یہ میڈیا کے کردار پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ کیا صحافت کا مقصد صرف مقبول بیانیے کو فروغ دینا ہے؟ یا پھر ہر سچ کو بھی جگہ دینا چاہیے؟گریٹا تھنبرگ کی مثال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آج کی دنیا میں بیانیہ کون طے کرتا ہے۔ کیا آواز کی اہمیت اس کے مواد سے ہوتی ہے یا اس بات سے کہ وہ کس کے حق میں یا خلاف ہے؟یہ لمحہ محاسبے کا ہے، صرف میڈیا کے لیے نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے۔ کیونکہ جب سچ کو منتخب انداز میں دکھایا جائے، تو خاموشی بھی ایک بیان بن جاتی ہے۔
ایک وقت تھا جب گریٹا تھنبرگ مغربی میڈیا کی پسندیدہ ترین آواز تھی۔ ایک کم عمر لڑکی جس نے موسمیاتی تبدیلی جیسے پیچیدہ اور اکثر نظر انداز کیے جانے والے مسئلے کو عالمی بحث کا مرکز بنا دیا۔ اس کی سادگی، اس کی سنجیدگی، اور اس کا غیر متزلزل عزم اسے کروڑوں لوگوں کے لیے امید کی علامت بنا گیا۔لیکن وقت کے ساتھ ایک دلچسپ اور تشویشناک تبدیلی رونما ہوئی ہے۔جب تھنبرگ نے اپنے دائرہ کار کو صرف موسمیاتی انصاف تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع تر انسانی مسائل، خاص طور پر غزہ میں جاری انسانی بحران، تک پھیلایا، تو اس کے ساتھ میڈیا کا رویہ بھی بدلنے لگا۔ وہی مرکزی دھارے کا میڈیا جو کبھی اس کے ہر جملے کو نمایاں کرتا تھا، آج اس کی آواز کو یا تو نظر انداز کر رہا ہے یا اسے متنازع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ محض اتفاق نہیں لگتا۔گریٹاتھنبرگ نے نہ صرف اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی بلکہ انہیں جنگی جرائم اور نسل کشی سے تعبیر کیا، اور واضح الفاظ میں کہا کہ "خاموشی بھی شراکت داری ہے"۔ اس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انصاف کی کوئی بھی تحریک، خواہ وہ ماحولیاتی ہو یا انسانی، غیر جانبدار نہیں رہ سکتی۔یہ وہ مقام ہے جہاں مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
گریٹانے کیفیہ پہن کر، فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر کے، اور کھل کر بات کر کے یہ واضح کیا کہ انصاف کی جدوجہد کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ماحولیاتی انصاف اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کا مطالبہ کرنا ایک ادھورا مؤقف ہے۔سوال یہ نہیں کہ آپ تھنبرگ سے متفق ہیں یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیاخاص طور پر میڈیا ان آوازوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے جو سچ بولتی ہے؟اگر ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ کارکن صرف اس لیے پس منظر میں دھکیل دی جائے کہ اس نے ایک حساس سیاسی مسئلے پر رائے دی، تو یہ نہ صرف میڈیا کی ساکھ پر سوال ہے بلکہ اس آزادی اظہار پر بھی، جو مغرب اپنی پہچان سمجھتا ہے۔
گریٹا تھنبرگ کی کہانی ہمیں ایک تلخ حقیقت سے رو برو کرتی ہے۔سچ بولنا آسان نہیں ہوتا اور جب سچ طاقتوروں کے مفادات سے ٹکرا جائے، تو اسے سننے والے کم ہو جاتے ہیں۔دنیا کے ہر بڑے انسانی بحران کی طرح غزہ کا المیہ بھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ بیانیے کی جنگ بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب غزہ میں ہونے والے مظالم پر آوازیں اٹھتی ہیں تو انہیں کیوں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اور یہ خاموشی آخر کس کے مفاد میں ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ اس کی پہلی وجہ سیاسی مفادات ہیں۔ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کے اپنے اسٹریٹجک اتحادی ہوتے ہیں، اور اسرائیل ان میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس تعلق کے باعث اکثر مغربی حکومتیں اور ان سے جڑے میڈیا ادارے ایسے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں جو ان کے سفارتی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ نتیجتاً، وہ آوازیں جو اس بیانیے سے اختلاف کرتی ہیں، یا تو نظر انداز کر دی جاتی ہیں یا انہیں متنازع بنا دیا جاتا ہے۔دوسری بڑی وجہ میڈیا کا ادارہ جاتی ڈھانچہ ہے۔ مرکزی دھارے کا میڈیا مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتا، اس پر کارپوریٹ مفادات، اشتہاری دباؤ اور سیاسی اثرات غالب آ سکتے ہیں۔ ایسے میں وہ موضوعات جن سے طاقتور حلقے ناخوش ہوں، انہیں کم کوریج دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب گریٹا تھنبرگ جیسی عالمی سطح کی شخصیت غزہ کے حوالے سے مؤقف اختیار کرتی ہے، تو اس کی بات کو وہی توجہ نہیں ملتی جو اسے موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر حاصل تھی۔
تیسری وجہ بیانیے پر کنٹرول ہے۔ کسی بھی تنازع میں یہ طے کرنا کہ کہانی کیا ہے، ایک طاقتور عمل ہوتا ہے۔ اگر ایک فریق کو مکمل مظلوم اور دوسرے کو مکمل مجرم کے طور پر پیش کیا جائے، تو عوامی رائے آسانی سے ہموار کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں پیچیدگی، تنقیدی سوچ اور متبادل آوازوں کے لیے جگہ کم ہو جاتی ہے۔ جو لوگ اس سادہ بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں، وہ اکثر غیر ذمہ دار یا جانبدار قرار دے دیے جاتے ہیں۔چوتھی وجہ خوف اور دباؤ ہے۔ صحافی، کارکنان اور حتیٰ کہ عام شہری بھی اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ بعض موضوعات پر بات کرنے کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پر حملے ہوں، پیشہ ورانہ نقصانات ہوں یا قانونی پیچیدگیاں۔ یہ ماحول خود ساختہ سنسرشپ کو جنم دیتا ہے، جہاں لوگ بولنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔پانچویں اور شاید سب سے گہری وجہ اخلاقی تضاد ہے۔ مغربی دنیا خود کو انسانی حقوق، آزادی اظہار اور انصاف کا علمبردار قرار دیتی ہے، مگر جب انہی اصولوں کا اطلاق اپنے اتحادیوں پر کرنے کی بات آتی ہے تو رویہ بدل جاتا ہے۔ یہ تضاد نہ صرف اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ ان آوازوں کو بھی کمزور کرتا ہے جو اصولی بنیادوں پر بات کرنا چاہتی ہیں۔
تاہم، تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ آوازوں کو مکمل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ سوشل میڈیا، آزاد صحافت اور عالمی یکجہتی نے اس خاموشی کو چیلنج کیا ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں لوگ غزہ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ بیانیے پر مکمل کنٹرول ممکن نہیں۔تو سوال یہی رہ جاتا ہے،کیا ہم ایک ایسی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں سچ کو مفادات کے مطابق ناپا جائے؟یا پھر ایک ایسی دنیا جہاں ہر انسانی جان کی قدر یکساں ہو۔بلا تفریق، بلا خوف؟غزہ کا مسئلہ صرف ایک خطے کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقیات کا امتحان ہے اور اس امتحان میں خاموشی، واقعی، ایک مؤقف بن جاتی ہے۔