کیا عدالتیں فوری انصاف نہیں دے سکتیں؟
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 23 / اکتوبر / 2026
پاکستان وہ ملک ہے جہاں عدالتوں کی کمی نہیں، اوپر سے لے کرنیچے تک ایک نظام موجود ہے، مگر فوری انصاف فراہم کرنے کے لئے پولیس مقابلوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ملزم کے ساتھی چھڑانے آتے ہیں اندھا دھند فائرنگ کرتے ہیں مگر یہ ایسی اندھا دھند فائرنگ ہوتی ہے جس میں صرف ملزم مارا جاتا ہے، پھر چھڑانے کے لئے آنے والے بھی محفوظ طریقے سے فرار ہو جاتے ہیں۔
یہ لائن بھی سکرپٹ میں شامل ہوتی ہے کہ ان کی تلاش کے لئے پولیس پیچھا کررہی ہے اور یہ بات بھی سکرپٹ کا حصہ ہوتی ہے کہ ان فرار ہونے والوں نے کبھی گرفتار نہیں ہونا۔ کہیں سکرپٹ میں اتنی سی تبدیلی کی جاتی ہے کہ ملزم کو کہیں برآمدگی کے لئے لے جایا جا رہا تھا، وہ کانسٹیبل کو چکمہ دے کر ہتھکڑی سمیت فرار ہو گیا تاہم اگلے کسی ناکے پر روکا گیا تو اس نے کہیں سے جو ریوالورز حاصل کرلیا تھا، اس سے فائرنگ کی اور پھرمقابلے میں مارا گیا۔ پہلے تو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنا ہائی پروفائل ملزم کیا موٹرسائیکل پر لے جایا جا رہا ہوتا ہے۔ اگر پولیس کا نظام اتنا ہی کمزور ہے کہ کوئی بھی ہتھکڑی سمیت بھاگ سکتا ہے تو پھر پولیس کو دوا دارو ں کی ضرورت ہے۔
اب ملتان والے کیس میں کیا ہوا ہے۔ بچے کے بھاگنے کی ویڈیو دیکھ کر بالکل ایسی جذباتی فضا بن گئی تھی کہ ہر کوئی یہ چاہتا تھا ملزموں کو فوری سزا ملے۔ ایک ملزم تو گرفتار بھی ہو گیا تھا، اس کا چار دن کا ریمانڈ بھی لے لیا گیا تھا تو پھر یہ سکرپٹ استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی، یہ کام تو آگے چل کر کسی وقت بھی کیا جا سکتا تھا۔ مگر شاید عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے فوری فیصلہ کیا گیا۔ ا ب سوالات اٹھ رہے ہیں تو جواب دینا مشکل ہو رہا ہے۔سونے پہ سہاگہ حنا پرویز بٹ کا وہ ٹویٹ ہے جس میں انہوں نے کہا ہے مریم نواز کی حکومت میں فوری انصاف ہوتا ہے۔بعد میں انہوں نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا لیکن یہ سوال تو اپنی جگہ چھوڑ گیا کہ فوری انصاف کی پنجاب میں کیا یہی تعریف ہے کہ سی سی ڈی کسی کو لے جا رہی ہو۔ وہ سخت حراست کے باوجود بھاگ جائے اور کسی دوسرے شہر میں گھومتا ہوا، پولیس بلکہ سی سی ڈی کے دوبارہ ہتھے چڑھ کر مارا جائے۔
نہیں صاحب اس کہانی میں بہت جھول ہیں۔ کوئی بھی نہیں مانتا کہ ایسا ممکن ہے تاہم ایک جذباتی فضا میں جو ایک بچے کو صریحاً ارادے سے گاڑی کے نیچے کچلنے کی وجہ سے پیدا ہوئی، اس بات کو ماننے اور شاباش دینے والے بھی کم نہیں۔ یوں ایسے دعوے بھی بے اعتبار نہیں رہتے کہ پنجاب میں فوری انصاف ہوتا ہے۔ اس یکطرفہ انصاف پر انگلیاں اٹھتی ہیں اور اس سوال کی بازگشت زیادہ سنائی دیتی ہے کہ اگر فوری انصاف کا یہی طریقہ رائج ہو چکا ہے تو پھر عدالتی نظام کی کیا ضرورت ہے؟
ایک زمانہ تھا سنگین جرائم کے لئے فوری انصاف کی خصوصی عدالتیں قائم کی گئی تھیں تاہم مناسب قانونی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے وکلانے ایسی موشگافیاں تلاش کرلیں جن کی وجہ سے مقررہ مدت کے اندر فیصلے ناممکن ہو گئے۔ یہ کتنی بڑی غیر ذمہ دارانہ سوچ ہے کہ ایک ہی قانون کے تحت ایک عدالت فیصلوں میں برسوں لگا دے اور دوسری کو کہہ دیا جائے وہ چار ہفتوں میں فیصلہ کرے۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک کوشش ہے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین میں تبدیلیاں لائے بغیر اس ملک میں فوری انصاف کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ صرف جوڈیشل اصلاحات سے کام نہیں بنتا اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کے بااثر افراد یہ بھی نہیں چاہتے کہ ملک میں عدالتوں کے ذریعے فوری انصاف ملے۔
پنجاب میں پولیس مقابلوں کی تاریخ بہت پرانی نہیں اصلی اور جعلی پولیس مقابلوں میں صاف فرق نظر آ جاتا ہے۔ یہ گرفتار ملزموں کو مارنے کی کہانی تو اتنی گھسی پٹی ہوئی ہے کہ اگر کسی فلم میں استعمال کی جائے تو وہ بھی پٹ جائے۔ ماورائے عدالت نصاف کی جو اصطلاح ہمارے ہاں رائج ہے وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں رائج ہو۔ یعنی اس اصطلاح کے اندر ہی ایک لاقانونیت موجود ہے۔ خوف کو خوف سے مارنے کی حکمت عملی اگر ماورائے قانون کو جلد یا بدیر مزید خوف کا باعث بنتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)