دہشت گردی کے خلاف کوششیں ناکام کیوں ہیں؟

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عزم ظاہر کیا  ہےکہ مسلح افواج بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھرپور مہم جاری رکھیں گے ۔ ’وہ جہاں کہیں بھی موجود ہوں گی، ان پر کاری ضرب لگائیں گے‘۔  پاک فوج کے سربراہ کا یہ بیان ان کے ان عزائم کے عین مطابق ہے کہ پاکستان کو سافٹ اسٹیٹ سے ہارڈ اسٹیٹ بنانا چاہئے تاکہ دہشت گردی کا  خاتمہ ہوسکے۔

البتہ فیلڈ مارشل کو پاک فوج کی سربراہی سنبھالے چار برس پورے ہونے والے ہیں لیکن ان سالوں میں دہشت گردی   میں کمی کی بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ اس حوالے سے دو پہلو اہم ہیں۔ ایک تو   یہ کہ عام طور سے یہ عہدہ  تین سال کے لیے ہوتا تھا اور کسی بھی فوجی جنرل کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے اور اپنی وراثت کا تعین کرانے کے لیے اسی  مختصر مدت میں  فوج کے کردار اور ملک و قوم کو درپیش چیلنجز  کے مطابق  تبدیلیاں لانے اور ان  سے نمٹنے کے لیے اپنی کارکردگی واضح کرنا ہوتی تھی۔ البتہ نومبر 2024 میں ہونے والی قانون سازی کی وجہ سے انہیں تین کی بجائے پانچ سال  تک اس عہدے پر کام کرنے  کا اعزاز حاصل ہؤا ہے۔ لیکن اگر معیاری سہ سالہ مدت  کے حساب سے جائزہ لیا جائے تو  اس مدت میں دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہؤا ہے اور پاک فوج یا سیاسی قیادت کی  طرف سے اس کے تمام پہلوؤں پر آگاہ کرنے کی بجائے محض یہ دعوے کرکے  عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  مسلح افواج مستعد ہیں اور ہر قیمت پردہشت گردوں کا قلع قمع کردیا جائے گا۔

اس حوالے سے دوسرا اہم پہلو ملک میں سیاسی تصادم کی صورت حال اور حکومت پاکستان کے علاوہ عسکری قیادت بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بنفس نفیس ریجنل اور بین الاقوامی سفارت کاری میں گہری دلچسپی  ہے ۔ انہوں نے  اس  میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں لیکن عملی طور سے دیکھا جائے تو یہ کوششیں پاکستان کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوسکیں۔ ان میں ایک تو معاشی معاملات ہیں۔ فوجی لیڈر اور سیاسی قیادت  اپنی توقعات اور اعلانات کے برعکس غیرملکی سرمایہ کاری لانے اور معاشی پیداوار میں اضافہ میں ناکام رہی ہے۔ دوسرے دہشت گردی کا  مسئلہ مسلسل حل طلب ہے۔

کسی منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس   دوران اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا رہے تاکہ کسی بھی خامی کو دور کرکے اصل اہداف حاصل کیے جاسکیں۔  جیسا کہ حال  ہی میں حکومت نے خیبر پختون خوا  کی حکومت کو دہشت گردی میں عدم تعاون کی وجہ سے فارغ کرکے اس صوبے میں گورنر رول اور ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ یعنی یہ مانا گیا ہے کہ وہاں کا جمہوری سیٹ اپ صوبے میں پائی جانے والی دہشت گردی  پر قابو پانے میں کامیاب نہیں  ہورہا۔ لیکن ایسے انتہائی فیصلے صرف کسی منتخب سیاسی حکومت کو ہٹانے ہی کے لیے  کافی نہیں ہوسکتے بلکہ ناکامیوں کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے  کر اس کے نتائج عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

 جیسا کہ وفاقی حکومت اور فوج بظاہر بلوچستان کے سیاسی انتظام سے مطمئن ہیں  کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ بلوچستان کی  صوبائی حکومت، عسکری قیادت اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کررہی  ہے۔ یہ دعویٰ تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ سوال توبہر حال موجود رہتا ہے کہ پھر وہاں دہشت گردی میں کیوں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ درحقیقت یہ اضافہ خیبر پختون خوا میں ہونے والی دہشت گردی کے مقابلے میں  20 فیصد زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق   سال رواں کے دوران  بلوچستان  میں دہشت گردی سے  829 ہلاکتیں ہوئیں  جبکہ خیبر پختون خوا میں یہ تعداد  556 رہی۔ اس طرح بلوچستان میں دہشت گردی  کے واقعات اور ہلاکتوں میں اضافہ ہؤا لیکن وفاقی حکومت  اور عسکری قیادت  نے اس دوران   ساری توجہ خیبر پختون خوا میں ناکامیوں پر مبذول رکھی اور صوبائی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا۔  حتی کہ  اس ماہ کے شروع میں کے  پی کے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرکے منتخب حکومت سے اختیارات چھین لیے گئے۔ اب فوج اور وفاقی حکومت کو چند ہفتوں کے اندر ثابت کرنا ہوگا کہ   صوبے میں دہشت گردی کیوں کر کم ہوتی ہے۔

یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ فوج دہشت گردی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال کے بارے میں کوئی ایسا جائزہ  رپورٹ بھی سامنے لائے گی جس میں محض یک طرفہ اعداد و شمار کے ذریعے پروپیگنڈے کا کام لینے کی بجائے حقیقی معاملات سے آگاہی ہو۔ عسکری قیادت  گاہے بگاہے پارلیمنٹ کو خفیہ اجلاسوں میں تو   کچھ تفصیلات فراہم کرتی رہی ہے لیکن عوام کو اس سے آگاہ کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ تاہم اب یہ پہلو اس لحاظ سے اہم ہوگیا ہے کہ خیبر پختون خوا میں ایک منتخب حکومت کو ہٹا کر یہ بتایا گیا ہے کہ صوبے میں ان ناکامیوں کا تعلق تعاون نہ کرنے والی صوبائی حکومت  سے رہا ہے۔ اس طرح اس معاملہ کو براہ راست سیاسی معاملات سے منسلک کردیا گیا ہے۔   ملک میں چونکہ آئینی جمہوری نظام کام کررہا ہے  ، اس لیے اس انتہائی اقدام کے بعد لازم ہے کہ وہ تفصیلات  بھی منظر عام پر آئیں کہ  چوکس فوج کی موجودگی کے باوجود دہشت گرد کیوں مستحکم ہوتے رہے۔ اب   خفیہ عسکری معلومات کے عذر پر اس معاملہ میں خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں پاک فوج نے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں سرگرم دہشت گردوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ  الہندوستان کانام دیا ہے۔ فیلڈ مارشل کے تازہ  بیان میں دہشت گردوں کو کاری ضرب لگانے کا اعلان کرتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ یہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر ہیں۔ البتہ  پاکستان ابھی تک کسی عالمی فورم پر اپنا یہ مقدمہ  ثابت نہیں کرسکا اور نہ ہی دنیا کے کسی ملک نے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک دوست ملک کے خلاف ایسی کارروائیاں ختم کرے۔ اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ  بھارتی حکومت اور ایجنسیاں ’دشمن کا دشمن ہمارا دوست‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہوسکتا ہے  پاکستان میں سرگرم  عناصر کو سفارتی تحفظ یا سیاسی حمایت فراہم کرتی ہوں لیکن اس قسم کا طریقہ دنیا کی تقریباً ہر ایجنسی اختیار کرتی ہے۔ دیکھنا  چاہئے  کہ   ایک بڑے ہمسایہ ملک  پر مسلسل الزامات    سے  کیسے باہمی تعلقات میں  پیدا کی جانے والی دوریاں پاکستان کے وسیع المدت مفادات  کے لیے مناسب ہوں  گی۔

پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کرنے پر کابل حکومت کے ساتھ  بھی تعلقات کشیدہ کیے ہیں۔ دونوں  ملکوں کے درمیان سرحدی تجارت بند ہوئے ایک سال ہوچکا ہے اور پاکستان نے افغانستان میں حملوں کا سلسلہ شروع کرکے باقاعدہ افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان دیرینہ اختلافات کی وجہ سے  بھارت کے ساتھ بھی حالت جنگ میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم جانتے  ہیں کہ  نہ پاکستان کے قومی وسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور نہ اس کے امکانات پیدا ہوپائے ہیں۔ اس لیے  یہ جائزہ لینے کی ضرورت بہر حال موجود ہے کہ دو سرحدوں پر حالت جنگ میں رہنے سے جو مالی و سماجی نقصانات برداشت کیے جا رہے ہیں، کیا  ان سے دہشت گردی کا قلع قمع  ہؤا ہے۔ اگر  یہ مقصد حاصل نہیں ہورہا تو  اضافی طور سے  ملک کو مسلسل حالت جنگ میں رکھنے کا نقصان   کیوں برداشت کیا جارہا ہے۔

اگر یہ مان  بھی  لیا جائے کہ پاکستان کی داخلی سیاست میں پائے جانے والے مسائل کا دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کوئی تعلق نہیں  ہے تو بھی یہ تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کوئی بھی حکومت یا قیادت بیک وقت کئی محاذوں پر برسرپیکار رہ کر مکمل کامیابی کی امید نہیں کرسکتی۔ دہشت گردی کا تعلق اگر بھارت اور افغان  حکومتوں کی سرپرستی سے جوڑا جاتا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے اندر سیاسی اتفاق رائے اور ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔ یہ ہم آہنگی محض تصور کرلینے سے  پیدا نہیں  ہوتی بلکہ اس کے لیے  باہمی اعتماد سازی اور کسی وسیع قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے ضروری ہے۔  لیکن دیکھا جارہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف کو ختم  کرنے  اور اس کے لیڈروں کو کسی بھی طرح قید رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اب وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناللہ نے اعلان کیا ہے کہ جو سیاسی جماعت فورسز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی ،  وہ مائنس ہوجائے گی۔ حالانکہ کسی سیاسی جماعت کو رانا ثناللہ یا حکومت مائنس نہیں کرسکتے  بلکہ ملکی آئین یہ استحقاق پاکستانی عوام کو دیتا ہے۔

اس پس منظر میں تو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایک ملک کی سرحدوں کے اندر جبکہ دو اطراف سے بیرونی خطرہ  بھی موجود ہو کیوں  سیاسی اختلافات کو اتنا سنگین اور شدید کرلیا گیا ہے کہ مکالمہ اور سیاسی افہام و تفہیم کی ساری امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔  خارجی محاذ پر کامیابیاں اس وقت تک مکمل نہیں  ہوسکتیں جب تک ملک کے اندر مکمل سیاسی افہام و تفہیم کا ماحول پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح دہشت گردی بھی محض بھارت اور افغانستان کو مورد  الزام ٹھہرانے سے  ختم نہیں ہوگی۔