اردن میں چرچ پر حملے میں مرنے والوں کی تعداد 9 ہوگئی

  • ہفتہ 24 / اکتوبر / 2026

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کرک کے گاؤں حمود میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

یاد رہے کہ جمعے کے روز ہونے والے اس حملے میں نو افراد ہلاک جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اردن کی شاہی عدالت کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہیں چار مسلح افراد کی جانب سے کیے گئے حملے کے بارے میں سکیورٹی بریفنگ دی گئی۔

شاہ عبداللہ دوم نے واقعے کو شرمناک دہشت گردانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اردن کی رواداری، یکجہتی اور قومی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اردن کے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ ایک سرخ لکیر ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’انصاف کا ہاتھ ہر دہشت گرد تک پہنچے گا، ایسی بزدلانہ کارروائیاں نہ تو اردن کو خوفزدہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی ملک کے قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہیں۔‘

اردنی حکام نے تاحال چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران ہونے والے اس حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا ہے۔

اردن کے وزیر اعظم جعفر حسن نے جمعے سے مملکت بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جس دوران پرچم سرنگوں رہیں گے۔