آصف حسن کے لئے پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 24 / اکتوبر / 2026
جب برطانیہ میں اسلاموفوبیا اور تارکینِ وطن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب بعض حلقوں کی جانب سے مہاجرین کی موجودگی کو ایک مسئلے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی شناخت، وفاداری اور سماجی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں آصف حسن جیسے لوگ اپنی محنت، قابلیت، دیانت داری اور انسان دوستی سے نہ صرف تارکینِ وطن کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان اس کا مذہب، رنگ، نسل یا جائے پیدائش نہیں، بلکہ اس کے کردار اور خدمت سے ہوتی ہے۔
برطانیہ میں رہتے ہوئے ہم آئے دن اکثر ایسی بحثوں سے گزرتے ہیں جن میں تارکینِ وطن کو معاشی بوجھ، سماجی مسئلہ یا بیرونی شناخت رکھنے والے لوگوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن ان بحثوں کے درمیان کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی زندگی اور خدمات ہر تعصب کے سامنے ایک مضبوط دلیل بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ وہ تقریروں سے نہیں، اپنے عمل سے جواب دیتی ہیں، نعروں سے نہیں، انسانوں کی زندگیاں بچا کر اپنی اہمیت ثابت کرتی ہیں۔ آصف حسن ایسی ہی ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ آصف حسن ممتاز برطانوی پاکستانی پیڈیاٹرک کارڈیوتھوراسک سرجن ہیں، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک شدید بیمار بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے خدمات انجام دیں۔ پاکستان میں پیدا ہوئے اور 1979 میں ڈاؤ میڈیکل کالج، کراچی سے فارغ التحصیل ہوئے۔ 1981 میں برطانیہ منتقل ہوئے اور 1991 میں نیو کیسل کے فری مین ہسپتال کی ٹرانسپلانٹ ٹیم میں شامل ہوئے۔ پیچیدہ ترین کیسز میں ان کی خدمات نے اس ہسپتال کو بچوں کے امراضِ قلب اور ٹرانسپلانٹیشن کے عالمی مراکز میں نمایاں مقام دلایا۔
برطانیہ کے معتبر اخبار ڈیلی مرر کے پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے آصف حسن کا انتخاب محض ایک کامیاب سرجن کی پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف نہیں، بلکہ اس انسانی جذبے کا احترام بھی ہے جس نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک انہیں بیمار بچوں اور پریشان حال خاندانوں کی خدمت میں مصروف رکھا۔ یہ اعزاز اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تارکینِ وطن جب اپنے علم، صلاحیت اور محنت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دیتے ہیں تو وہ اس معاشرے کا قیمتی اثاثہ بن جاتے ہیں جس میں وہ رہتے اور کام کرتے ہیں۔
آصف حسن نے نیو کیسل کے فری مین ہسپتال میں اپنے طویل طبی کیریئر کے دوران چار ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ آپریشن کیے، جن میں تقریباً تین ہزار آپریشنز میں وہ مرکزی سرجن کی حیثیت سے شریک رہے۔ ان اعداد و شمار کو محض طبی کامیابیوں کی فہرست سمجھنا ان کی خدمات کی معنویت کو محدود کرنا ہوگا۔ ہر آپریشن کے پیچھے ایک زندگی تھی، ایک خاندان تھا، والدین کی دعائیں تھیں اور مستقبل کے وہ خواب تھے جنہیں کسی بچے کی بیماری نے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ذرا تصور کیجیے کہ ایک ایسے بچے کے والدین پر کیا گزرتی ہوگی جسے پیدائش کے فوراً بعد بتایا جائے کہ اس کے دل میں سنگین نقص ہے۔ جس گھر میں بچے کی آمد خوشیوں کا پیغام بن کر آئی ہو، وہاں اچانک اسپتال کے چکر، طبی اصطلاحات، آپریشن کا خوف اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال چھا جاتی ہے۔ ایسے وقت میں ڈاکٹر کا کردار صرف جسمانی علاج تک محدود نہیں رہتا۔ اس کی آواز میں اعتماد، گفتگو میں نرمی، فیصلوں میں دیانت اور رویے میں ہمدردی بھی مریض اور اس کے خاندان کے لیے علاج کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے۔آصف حسن کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں محض ایک ماہر سرجن سے بڑھ کر ایک قابلِ احترام انسان بناتا ہے۔
1995 میں فری مین ہسپتال میں کنسلٹنٹ کارڈیو تھوراسک سرجن مقرر ہونے کے بعد انہوں نے بچوں کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام کی قیادت کی اور نیو کیسل کو بچوں کی دل کی سرجری اور پیوندکاری کے ایک نمایاں عالمی مرکز کے طور پر ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیڈیاٹرک ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن اور مکینیکل ہارٹ سپورٹ کے شعبوں میں ان کی خدمات نے ان بچوں کے لیے امید کے نئے دروازے کھولنے میں مدد کی جنہیں عطیہ کردہ دل ملنے تک زندہ رکھنے کے لیے جدید طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کسی ڈاکٹر کی کامیابی کا اصل پیمانہ کیا ہے؟ اس کے نام کے ساتھ لگے القابات، اس کے عہدے، اس کی آمدنی یا اس کے اعزازات؟ یقیناً یہ سب اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن آصف حسن کی مثال بتاتی ہے کہ کامیابی کا سب سے معتبر پیمانہ ان زندگیوں میں تلاش کیا جانا چاہیے جنہیں کسی انسان کی صلاحیت نے نئی امید دی ہو۔ان کی خدمات کا دائرہ آپریشن تھیٹر تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے سرجنوں کی نئی نسل کو تربیت دی، جن میں سے کئی آج دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بیرونِ ملک فلاحی جراحی کیمپوں میں شرکت کے ذریعے محروم طبقات کے بچوں کے علاج اور طبی عملے کی تربیت میں بھی حصہ لیا۔ یوں ان کا کام انفرادی مریضوں کی زندگیوں سے آگے بڑھ کر ایک ایسے طبی ورثے میں تبدیل ہوا جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔کسی ایک بچے کی جان بچانا ایک خاندان کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہے، لیکن ایسے سرجن تیار کرنا جو آگے چل کر سینکڑوں اور ہزاروں مریضوں کا علاج کریں، دراصل امید کو نسل در نسل منتقل کرنے کا عمل ہے۔
آصف حسن کی خدمات کی گواہی ان خاندانوں کی داستانیں بھی دیتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل لمحات میں ان پر اعتماد کیا۔ سیب ہولنگس ورتھ کی مثال اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے۔ 2009 میں پیدائش کے فوراً بعد اسے دل کی ایک سنگین پیدائشی بیماری، ٹیٹرالوجی آف فیلوٹ، کی تشخیص ہوئی۔ اس کے علاج کے دوران آصف حسن نے نہ صرف طبی ذمہ داری ادا کی بلکہ اس کے والدین کو بھی اعتماد اور حوصلہ دیا۔چھ ہفتے اسپتال میں گزارنے کے بعد سیب صحت یاب ہوا اور ایک بھرپور بچپن کی طرف لوٹا۔ پھر تیرہ برس کی عمر میں اسے دوبارہ اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت پیش آئی۔ اس مرتبہ صورتِ حال مختلف تھی۔ سیب اب اتنا بڑا ہو چکا تھا کہ وہ اپنی بیماری، آپریشن اور اس سے وابستہ خطرات کو سمجھ سکتا تھا۔ آصف حسن نے اس کے سوالات کے جواب دیے، اسے علاج سے متعلق گفتگو میں شامل رکھا اور اس کے ساتھ ایک نوجوان کی طرح احترام کا برتاؤ کیا۔اس کی والدہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کی مہارت کے ساتھ اس کا انسانی رویہ بھی خاندان کے لیے کس قدر اہم ہوتا ہے۔ والدین کا اعتماد صرف اس یقین سے پیدا نہیں ہوتا کہ سرجن اپنے کام میں ماہر ہے، بلکہ اس احساس سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ان کے بچے کو محض ایک طبی کیس نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں طب، پیشہ نہیں رہتی بلکہ خدمت بن جاتی ہے۔
آصف حسن کی کہانی کو برطانیہ میں تارکینِ وطن کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے۔ جب کسی انسان کو اس کی جائے پیدائش یا پس منظر کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے تو اس کے علم، محنت اور کردار کو نظرانداز کرنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن معاشرے کی تعمیر میں حصہ لینے والے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کسی فرد کی صلاحیت کا فیصلہ اس کے نام یا شناخت سے نہیں کیا جا سکتا۔تارکینِ وطن کی زندگیوں میں مشکلات، جدوجہد اور قربانیاں شامل ہوتی ہیں۔ نئے ملک میں جگہ بنانا، اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا، پیشہ ورانہ معیار پر پورا اترنا اور اپنے خاندان کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود بے شمار افراد اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہیں۔ کوئی سائنس میں نئی راہیں کھولتا ہے، کوئی تعلیم کے ذریعے نسلوں کا مستقبل بدلتا ہے، کوئی کاروبار اور معیشت میں حصہ ڈالتا ہے، اور کوئی آصف حسن کی طرح اپنے علم سے ان بچوں کو زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتا ہے جن کے دل پیدائشی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کسی ایک کامیاب تارکِ وطن کی مثال پیش کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہر مہاجر کو اپنی افادیت ثابت کرنے کے لیے غیر معمولی کارنامہ انجام دینا چاہیے۔ بنیادی انسانی حقوق اور عزت و احترام کسی ایوارڈ، دولت یا پیشہ ورانہ کامیابی کے محتاج نہیں۔ آصف حسن کی مثال کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ تعصب پر مبنی عمومی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور ہمیں انسانوں کو ان کے حقیقی کردار کی بنیاد پر دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں کتنے بڑے ایوارڈ دیے جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں انسان کی قدر کس طرح کی جاتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ایک طرف تارکینِ وطن کے خلاف نفرت انگیز آوازیں بلند ہوں اور دوسری طرف اسی معاشرے کے اسپتالوں میں تارکینِ وطن اپنی مہارت سے بچوں کی زندگیاں بچا رہے ہوں تو یہ تضاد ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کسی کی شناخت کو نشانہ بنانے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ممکن ہے وہی شخص ہمارے بچے، ہمارے والدین یا ہمارے کسی عزیز کی زندگی بچانے والوں میں شامل ہو۔آصف حسن اس لیے قابلِ تحسین نہیں کہ انہوں نے اپنے پس منظر کے باوجود کامیابی حاصل کی، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی صلاحیت کو دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کیا۔ ان کا اصل اعزاز ان کے نام کے ساتھ جڑنے والا کوئی تمغہ نہیں، بلکہ وہ بچے ہیں جو آج زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں، وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں کو صحت مند دیکھ کر شکر ادا کرتے ہیں، اور وہ نوجوان سرجن ہیں جو ان سے سیکھے ہوئے علم کو آگے منتقل کر رہے ہیں۔اب وہ کلینیکل پریکٹس سے ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن خدمت کے اثرات ریٹائر نہیں ہوتے۔ ایک سرجن آپریشن تھیٹر سے رخصت ہو سکتا ہے، مگر اس کے ہاتھوں بچائی گئی زندگیوں میں اس کی محنت کی کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے۔ ایک استاد کلاس روم چھوڑ سکتا ہے، مگر اس کے شاگردوں کے علم میں اس کی موجودگی باقی رہتی ہے۔ ایک انسان دنیا سے رخصت بھی ہو جائے تو اس کی نیکی ان لوگوں کے ذریعے زندہ رہ سکتی ہے جن کی زندگی اس نے بہتر بنائی ہو۔
آصف حسن کی کہانی ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ نفرت انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرتی ہے، مگر خدمت ان دیواروں کو گرا دیتی ہے۔ تعصب نام اور شناخت دیکھتا ہے، جبکہ انسان دوستی درد اور ضرورت کو پہچانتی ہے۔آخر میں، شاید ہمیں اپنے معاشرے کے لیے کسی بڑے فلسفے کی نہیں، صرف ایک سادہ اصول کی ضرورت ہے: کسی انسان کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے کردار کو دیکھیں، اس کے کام کو سمجھیں اور اس کی انسانیت کو پہچانیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں لوگوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر رد کیا جاتا ہے، وہ اپنی ہی صلاحیتوں سے محروم ہوتا ہے اور جس معاشرے میں لوگوں کو ان کی خدمت کی بنیاد پر عزت دی جاتی ہے، وہ سب کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرتا ہے۔
آصف حسن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملنا یقیناً ان کے طویل اور غیر معمولی کیریئر کا قابلِ فخر اعتراف ہے۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز شاید وہ لمحہ ہے جب کسی بچے کے والدین یہ جان کر سکون کا سانس لیتے ہیں کہ ان کا بچہ اب محفوظ ہے اور اس کا مستقبل دوبارہ امید سے روشن ہو گیا ہے۔نفرت کے شور میں انسانیت کی آواز کبھی کبھی دھیمی ضرور پڑ جاتی ہے، مگر آصف حسن جیسے لوگ اپنے کردار سے ثابت کرتے ہیں کہ آخرکار تاریخ شور مچانے والوں کو نہیں، زندگیاں بدلنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔آصف حسن کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ علم، محنت، دیانت داری اور انسان دوستی کسی بھی انسان کو معاشرے کے لیے قیمتی اثاثہ بنا سکتی ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف برطانوی طبی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں جو اپنے علم اور صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔