سولائزیشن اور ڈیموکریسی کے گہوارے میں


فطرت کے حسین کتبے پڑھا کرو
کتابیں اگر ہیں مہنگی تو چہرے پڑھا کرو
انسان جب سیاحتی دورے پر ہو، خواہ اسے سٹڈی ٹور کا نام ہی دے لیں، تو من کتابوں میں کھو جانے کی بجائے فطری نظاروں یا فطرت کے حسین شاہکاروں کو ملاحظہ کرنا چاہتا ہے۔

ایسے میں اگر آپ لائبریریوں کے اندر بھی ہوں گے تو تمنا یہی ہوگی کہ آؤٹنگ پر جائیں، باہر کی دنیا دیکھیں، مختلف النوع بالخصوص گورےلوگوں سے میل ملاقات کریں۔ یہ درویش روز ازل سے ملٹی کلچرل، ملٹی ریلیجیس، ملٹی لینگویش اور ملٹی تھاٹس سوسائٹی کی رنگا رنگی پر ایمان رکھتا ہے۔ اسے برٹش انڈیا کی یہ خوبصورتی ہمیشہ دلنواز لگی لیکن پارٹیشن کے بعد ہمارا حال کیا سے کیا ہو گیا، اس پر بحث بعد میں کریں گے، پہلے اپنی انگلستان یاترا یا دورے کے حوالے سے اظہار خیال کرنا ہے، جسے درویش سٹڈی ٹور کا نام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہاں پہنچتے ہی نہ صرف یہ کہ عظیم انگلش رائٹر شیکسپیئر کی قبر پر حاضری دی، اس کے بعد اپنے مینٹر، ہیرو، مرشد پاک، عظیم انٹلیکچوئل، مصلح و مدبر سر برٹرینڈ رسل کی کھوج میں دیوانہ وار نکلا۔

خوشی کے ساتھ کئی مواقع پر دکھ اور مایوسی بھی ہوئی۔ علاوہ ازیں اپنے جیسے غریبوں، محنت کشوں اور دکھی انسانوں کے ملجا و ماوا کارل مارکس کی آخری آرام گاہ پر پہنچ کر فاتحہ خوانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ میرے دوست علی اسلم اور کیمبرج یونیورسٹی میں برٹش گورنمنٹ کے خرچ پر پی ایچ ڈی کرنے والے سٹوڈنٹ عزیزم مدثر نذیر پیہم ہمراہ تھے۔ عظیم انسانی مقاصد کے لئے کی جانے والی ہائیڈ پارک کی اس واک یا دوڑ کو بھی ملاحظہ کیا جس میں چالیس ہزار کے قریب نوجوان اور بزرگ خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ ٹرافالگرسکوائر میں ویمن پروٹیکشن کے لئے کئے گئے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کا موقع بھی ملا، ان سب پر لکھنا ہے۔

ہائیڈ پارک کےاسپیکرز کارنر میں دلچسپ مباحث اور نوک جھوک سے بھی لطف اندوز ہوئے، اس حوالے سے کچھ خدشات بھی محسوس کئے اور اپنے شہر میں ایسے مواقعوں کے لئے کچھ تجاویز بھی پیش کرنے کی خواہش ہے۔ کچھ لائبریریوں، میوزیمز، آرٹ گیلریوں، پارکوں، تاریخی مقامات اور عمارتوں، چھوٹے بڑے شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں، قدیمی چرچز، یہاں کے مندروں، گوردواروں اور اپنی کئی مساجد کو وزٹ کرنے کے مواقع بھی ملے۔ اگرچہ مولویت سے ریزائن کر چکا ہوں لیکن مذاہب عالم سے لگاؤ آج بھی بھرپور ہے۔ اپنے دوست شاہزیب دولتانہ کے ساتھ Edgware road پر وکٹوریہ کسینو میں دو مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا جہاں امیر لوگوں کو قسمت کا یہ کھیل کھیلتے ملاحظہ کیا۔

اس مرتبہ دوستوں کی مہربانی سے خصوصی طور پر کلبز، پبز، بارز، سنیما، تھیٹرز، کی چکا چوند روشنیوں اور نوجوان نسل کی خوشیوں کو ملاحظہ کرنے کے مواقع بھی میسر آئے۔ اس حوالے سے سوہو سٹریٹ میں نوجوان نسل کاانہماک قابل دید ہی نہیں تھا، ان کی دل میں اتر جانے والی چاشنی ملاحظہ کرتے ہوۓ یہ کہنا پڑا کہ ہم اپنے خطے پاک ہند میں یہ کہتے ہیں کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ جنما ہی نہیں۔ لیکن یہاں لندن میں کہنا پڑے گا جس نے سوہو سٹریٹ کی رونقیں نہیں دیکھیں اور یہاں کے تھیٹرز ملاحظہ نہیں کیے، اس نے لندن نہیں دیکھا۔ اس کا کریڈٹ بجا طور پر درویش کے دوستوں سروش چوہدری، مدثر نذیر، عمر شیخ اور دولتانہ کو جاتا ہے۔

کس قدر پیار والے لوگ ہیں یہ گورے بھی، ان کی دلچسپیوں پر اظہار خیال کرنا ہے۔ یہاں امیگریشن کے ریفرنس سے یہاں جو ایشوز دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، ان کی وجوہ اور تدارک کی تجاویز بھی پیش نظر ہیں۔ مسلمز اور اقوام دیگر بالخصوص مغربی اقوام کے درمیان موجود بداعتمادی، سماجی و مذہبی فاصلوں کے حوالے سے جائزہ لیتے ہوئے ان دوریوں کو قربتوں میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟ یہ اہم سوال بھی پیش نظر ہے، بالخصوص نام نہاد اسلامو فوبیا اور نفاذ شریعہ کے نعروں، مساجد کی یلغار، سڑکوں پر نمازوں، مذہبیت میں جنونیت، سب سے بڑھ کر برقع بازی، بالخصوص دو آنکھوں کے سوا پورے چہرے اور اس کی شناخت کو چھپانے کے مضمرات اور اس پر مجوزہ پابندیوں کے حوالے سے بھی اظہارخیال مطلوب ہے۔ برمنگھم کے ایک چوک میں پانچ مساجد اور ایک میل میں ساٹھ مسجدیں ملاحظہ کرتے ہوئے اس مذہبی فرقے پرستی کے مفاسد پر اپنے خیالات پیش کرنے ہیں۔

گورے لندن کو چھوڑ کر مضافات میں کیوں منتقل ہو رہے ہیں؟جہاں ہمارے جیسےمسلمان آ جائیں، گورے وہاں سے بھاگ کیوں نکلتے ہیں؟ ان ایشوز کا جائزہ و تجزیہ پیش نظر ہے۔ گریٹ برٹن کی رورل لائف کو کیسا پایا؟، شہری مسائل کیا ہیں؟ ہماری مساجد میں بزرگوں کے ساتھ نوجوان بھی معقول تعداد میں ملے جبکہ چرچز میں سوائے بوڑھے مرد و خواتین کے نوجوان گورے غائب تھے۔ استفسار پر چرچ والوں نے بتایا کہ ہاں ہمارے نوجوان چرچز میں اس لیے نہیں آ رہے کہ انہیں اور بھی بہت سے کام ہیں، ان کی اپنی ترجیحات ہیں۔ انگلینڈ جیسی مغربی جمہوریتوں کا فیوچر کیا ہے؟، جس طرح الحاد مذہب کو کھا گیا ہے کیا اسی طرح تفریحات صلاحیتوں کو کھا جائیں گی؟ کیا برطانیہ جیسی ویلفئیر سٹیٹس یا فلاحی ریاستیں اپنے شہریوں کو مفت خور، ناکارہ و کام چور بنا رہی ہیں؟ سہولیات کی زیادہ فراہمی بھی کیا نقصان کا باعث نہیں بن رہی؟کیا ٹیکسز کی بھرمار اسی وجہ سے ہے؟

امیگریشن کے خلاف دبی چنگاریاں کیا ڈیموکریسی کیلیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں؟ کیا امیگرنٹس اور مقامی لوگوں کی چپقلش مزید بڑھنے والی ہے؟ کیا برطانوی عظمت قصہ پارینہ بن جائے گی یا یہاں آنے کے خواہشمند ہمارے پاکستانی مسلمانوں کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی؟ اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں، جن کا جائزہ یہ درویش یہاں برطانیہ میں قیام کے دوران لے رہا ہے۔ پوری کوشش ہوتی ہے گوروں کو ملتے ہوئے ان کے اذہان پڑھے، ان کی سنے اور اپنی سنائے۔ اس طرح کے تمام سوالات پر بحث اپنے ان کالموں میں اٹھانے کا متمنی ہے۔