سعودی حکام کا ریاض ائرپورٹ کھولنے کا اعلان، حوثیوں کی دھمکیاں

  • اتوار 25 / اکتوبر / 2026

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار 25 اکتوبر سے اس کے دونوں ٹرمینلز سے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق ٹرمینل ون اندرونِ ملک پروازوں جبکہ ٹرمینل ٹو سعودی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص ہو گا۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ اتوار کی صبح ریاض ایئرپورٹ سے ایک طیارہ جدہ کے لیے روانہ ہوا۔

اکتوبر میں یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے باعث ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا تھا۔ حوثیوں نے 10 اکتوبر کو ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

پروازیں بحال کرنے کے اعلان کے باوجود حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ بدستور ’غیر محفوظ‘ ہے اور ’فوجی ہدف‘ ہے۔ اس پر حوثیوں کے حملے جاری رہیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اتوار 25 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ریاض میں اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکوں سے قبل شہر کے رہائشیوں کو موبائل فون پر ’فضائی خطرے‘ سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے، جن میں انہیں محفوظ مقام پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ریاض میں سنے جانے والے دھماکے میزائل کو روکنے کے نتیجے میں ہوئے یا نہیں۔ کسی ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی جنگجوؤں نے حالیہ دنوں میں سعودی ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ یہ حملے جاری رکھیں گے۔