کیا تھپڑ صرف غریبوں کا مقدر ہے؟

تھپڑ کھانے سے جو تذلیل محسوس ہوتی ہے، اس سے بڑی کوئی تذلیل نہیں۔ اِس لئے تھپڑ کے حوالے سے محاورے بھی بنے ہوئے ہیں،نظام کے منہ پر تھپڑ یا قانون کے منہ پر طمانچہ جیسی اصطلاحیں بھی عام ہیں۔

مگر جس طرح کہتے ہیں کتا کاٹے تو خبر نہیں بنتی،اسی طرح غریب کے منہ پر امیر تھپڑ مار دے تو کوئی خبر نہیں بنتی۔ہاں غریب تھپڑ مارے تو طوفان برپا ہو جاتا ہے۔اب پٹرول والے تھپڑ بلکہ تھپڑوں کی گونج تو کہیں سنائی نہیں دے رہی البتہ تھانے میں اسی سیلز مین کی طرف سے تھپڑ نے اچھا خاصا ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ہاں غلط ہوا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا،مگر یہ بھی تو سوچیں یہ غریب سیلز مین کہیں اور تھپڑ کیسے مار سکتا تھا۔ وہ اگر مارنے والا ہوتا تو کیا پٹرول پمپ پرپٹتا۔ تھپڑ پر تھپڑ کھاتا اور اس کے ساتھی سیلز مین اُسے اسی طرح پٹتا دیکھتے۔ جواب میں وہ بھی ایک دو تھپڑ تو مار ہی سکتا تھامگر جانتا تھا کہ غریب ہے اور سامنے والا بڑی گاڑی میں آیا ہے۔ایسا کیا تو نوکری سے بھی جائے گا اور تھانے میں بند بھی ہو گا۔

 وہ یہ تھپڑ کھانے کے بعد اگلے دن جب پٹرول پمپ پر نوکری کے لئے جاتا تو سب اُسے ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھتے۔شاید بعد میں کسی موقع پر تھپڑ کھانے کا طعنہ بھی دیتے۔ میں یہ مانتا ہوں یہ سب پلاننگ سے ہوا، پولیس کی مرضی  اور شاید اوپر والوں کی خواہش سے مگر اِس سارے عمل میں کسی غریب کو حساب چکانے کا موقع تو مل گیا۔ اُسے گھر میں عزت تو ملی، ساتھیوں کو بھی یہ پیغام مل گیا اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، جس کا ازالہ ہو گیا۔اب یہ لاہور میں سکوٹی چلانے والی پر جو تھپڑ برسے تھے،اُس پر ہم کیا کہیں۔مارنے والے کی تو چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں ضمانت ہو گئی۔اب یہ اعتراض کیونکہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ لڑکی کو فون کر کے جوابی تھپڑ مارنے کا کیوں کہا۔ کسی کو اندازہ بھی ہے اُس لڑکی پر اِس کا کیا نفسیاتی اثر ہوا ہو گا۔ وہ شاید ساری زندگی ان تھپڑوں کی چبھن سے نہ نکل سکتی مگر اس فون کے بعد اُس کی ڈھارس بندھی۔ اُس نے تھپڑ مارنے سے انکار کیا اور کہا اتنا ہی کافی ہے کہ حکومت اُس کے تحفظ کے لئے موجود ہے۔ کسی کو اندازہ بھی ہے اگر یہ فون کال نہ گئی ہوتی تو اُس بچی پر ملزم کی ضمانت کا سن کر کیا گزرتی۔اسے اپنا آپ ذرہ بے مایا لگتا۔ وہ سکوٹی نکالتے ہوئے سو بار سوچتی کہ پھر کوئی وحشی راستے میں اسے دھکا دے کر گرا دے گا اور تھپڑوں کی بارش کر دے گا۔ کچھ کام علامتی ہوتے ہیں،جن کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صوبے کی وزیراعلیٰ کا یہ پیغام کہ غریب کو تھپڑ مارنے والے امیروں کو بھی تھپڑ پڑے گا،کیا غلط ہے۔کیا یہ بیان جاری کیا جاتا،امیروں کو حق حاصل ہے کہ وہ غریبوں کہ جہاں اور جب چاہیں تھپڑ ماریں، غریبوں کو یہ تھپڑ ہنسی خوشی برداشت کرنا چاہئیں۔

میں نے خود اپنی زندگی میں ایسے سینکڑوں مناظر دیکھے ہیں،جب کوئی بڑی گاڑی والا یا اُس کے گن مین آگے جانے والے کسی موٹر سائیکل سوار یا لوڈر رکشہ والے کو اُتر کر تھپڑوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوتا ہو گا کہ پاس کھڑا کوئی ٹریفک وارڈن یا پولیس والا اُس غریب کی مدد کو آئے،بلکہ الٹا اُسی کو سرزنش کرتے نظر آتے ہیں کہ  تم نے صاحب کی گاڑی کو راستہ کیوں نہیں دیا۔ایک بار تو میں خود تھپڑ کھانے سے بچا۔ کار پر جا رہا تھا کہ پیچھے سے ہوٹر بجاتی گاڑیوں کا قافلہ آ گیا۔ اب وہ لائٹیں بھی مار رہے تھے اور ہارن بھی بجا رہے تھے جبکہ ہوٹروں کی بھیانک آواز علیحدہ تھی۔ مگر میرے لئے مسئلہ یہ تھا کہ بائیں طرف کرنے کے لئے جگہ ہی نہیں تھی کہ گاڑیاں پھنسی ہوئی تھیں۔ اتنے میں چند وردی پوش آئے اور انہوں نے دو چار سنائیں۔ میں نے کہا آپ ہی بتائیں میں گاڑی کیسے سائیڈ پر کروں، جگہ ہی نہیں۔ ایک نے ایسے ہاتھ اٹھایا جیسے میرے منہ پر طمانچہ مارنے لگا ہے۔ دوسرے نے روک دیا۔ مجھے آج تک اُس طمانچہ مارنے کے لئے اٹھایا گیا ہاتھ یاد ہے۔

ذرا سوچیں جن کو طمانچہ بلکہ زور دار تھپڑ لگ جاتے ہیں، اُن کا حال کیا ہوتا ہو گا۔آپ گولی مار دیں بندہ دنیا سے گزر کر عزت ذلت سے بے نیاز ہو جائے گا لیکن جسے تھپڑ کھا کے زندہ رہنا پڑے اُس کا عذاب اُسے تادیر یاد رہتا ہے۔معاشرے کے بالا دستوں کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ تمہارے لئے تھپڑ ایک معمولی، ایک تفریح ہے، لیکن جس غریب و بے بس پر برستا ہے اُس کی نفسیاتی حالت عمر بھر اُس تازیانے کی ذلت اور تکلیف سے نہیں نکلتی۔ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کسی غریب نے تھپڑ کھایا ہو تو سبھی اسے ہی کہتے ہیں، کوئی بات نہیں، ایک تھپڑ ہی تو لگا ہے۔ ہاتھ پاؤں کی ہڈی تو نہیں ٹوٹی۔ حالانکہ ہڈی جڑ جاتی ہے، تھپڑ سے ٹوٹا دِل نہیں جڑتا۔

مجھے ایسے کئی واقعات بھی یاد ہیں جن میں کسی وڈیرے نے گاؤں کے غریب پر تھپڑوں اور گھونسوں لاتوں کی بارش کر دی۔ جواب میں وہ غریب اگر تھپڑ مارنے کی غلطی کر بیٹھا تو اُس کی ساری زندگی جیل میں کٹی۔ ایسے سنگین جرائم کے پرچے اُس پر کروائے گئے اور خوفزدہ گاؤں والوں کی طرف سے گواہیاں دلوائی گئیں کہ قانون نے اُسے بری طرح جکڑ لیا۔ارے بھائی کسی غریب کی بات آئے تو ہم فوراً قانون پسند بن جاتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ اس طرح تو معاشرہ انارکی کا شکار ہو جائے گا، جو شکار ہو چکا ہے اور جنہوں نے کہا ہے اُن کیلئے بھی تو قانون کو زندہ ہونا چاہئے۔بااثروں کے لئے قانون تو بس اتنا ہے کہ ایک پیشی پر باہر آ جاتے ہیں،اُلٹا یہ واقعہ انہیں اس مولا جٹ پسند کرنے والے معاشرے میں ہیرو بنا دیتا ہے کہ دیکھو سرعام سڑک پر دھکا بھی دیا، تھپڑ بھی مارے،نہ وہاں کسی نے روکا، نہ قانون کچھ بگاڑ سکا،بندہ واقعی ہیرو ہے۔

مجھے معلوم ہے بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گا۔ وہ اسی پرانے نظریئے کو دہرائیں گے کہ اس طرح تو حالات بگڑ جائیں گے،قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ سب کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ وطن ِ عزیز میں بغیر کسی طبقاتی امتیاز کے بغیر سب کو انصاف اور عزت سے جینے کا حق ملے مگر یہ غریب محنت کش،یہ سکوٹی چلانے والی بیٹیاں، یہ کیڑے مکوڑے اسی طرح تھپڑ کھاتے رہیں اور ہم انصاف کا ڈھنڈورا پیٹتے رہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)