تہران اجلاس: امریکی حملوں سے بچنے کی آخری امید
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 26 / اکتوبر / 2026
آج تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی نمائیندوں نےتہران میں ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ اس اجلاس کا اعلان اچانک ہؤا اور اس کے خاتمے پر بنیادی خیر سگالی کے علاوہ کوئی خاص اشارہ بھی سامنے نہیں آیا ۔ البتہ مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے دوبارہ حملوں کے شدید اندیشوں کی خبروں کے دوران یہ ملاقات نہایت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ چار ملکوں کی اعلیٰ سطحی قیادت کے درمیان یہ ملاقات پاکستان کے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجویز پر ہوئی تھی۔ فیلڈ مارشل نے چند روز پہلے دورہ تہران کے دوران اس حوالے سے بات چیت کی اور سب ممالک کی رضامندی سے آج تہران میں اجلاس منعقد ہؤا۔ پاکستان کی طرف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔ جبکہ سعودی وفد کی قیادت وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کی۔ ترکیہ کے انٹیلیجنس ادارے کےسربراہ ابراہیم قالن اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کررہے تھے۔ ایران کی طرف سے صدر مسعود پزشکیان کے علاوہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شریک گفتگو تھے۔ اس طرح چاروں ممالک کی طرف سے ایسے لیڈر موجود تھے جو حتمی فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عام طور سے صدر پزشکیان اگر ایران کی سیاسی قیادت کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں تو محسن رضائی کو رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ’ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور باہمی مفاہمت کا باعث بننے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا کے سامنے انصاف اور ترقی کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ اسلامی ممالک کا اتحاد اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے سے روک سکتا ہے‘۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ ملت اسلامیہ کے اتحاد کے بارے میں یہ بلند بانگ دعوے نہ تو ایران کی عسکری و دفاعی پالیسی میں دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی اس اجلاس کا موضوع بطور خاص اسلامی ملکوں کا اتحاد تھا۔ اس کے باوجود عام لوگوں کی تفہیم اور ایرانی عوام کو یہ بتانے کے لیے کہ ان کا ملک مسلمان ممالک کے اتحاد کو اہم سمجھتا ہے، شاید ایسا بیان ضروری تھا۔ لیکن اس اتحاد کے لیے راہ ہموار کرنے کی بنیادی ذمہ داری بھی اس وقت ایرانی لیڈروں ہی پر عائد ہوتی ہے۔
اس کے برعکس امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی مدت میں ایران نے خود میزائل چلانے کی بجائے یمن کے حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کے خلاف بالواسطہ محاذ آرائی شروع کررکھی ہے۔ اس جنگ کا مقصد آبنائے ہرمز کے علاوہ باب المندب کی آبی شاہرہ کو غیر یقینی بناکر اور سعودی تیل و گیس کی سپلائی کو متاثر کرکے عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہونا تھا۔ تاکہ امریکہ اور مغربی ممالک مجبور ہوکر ایران کی شرائط پر جنگ بندی پر راضی ہوجائیں۔ البتہ ایسا اقدام کرتے ہوئے ایران نے خود کو نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ پوری دنیا میں تنہا کیا ہے۔ دنیا کا مفاد اس وقت معاشی راستوں کی بحالی اور جنگ کا خاتمہ ہے۔ ایران کے انتہا پسند لیڈر اسے اپنی ’طاقت‘ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ دنیا کی معیشت کے لیے اہم سمجھےجانے والے آبی راستوں کو مخدوش بناکر اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال کر وہ امریکی صدر کو ہتک آمیز شرائط پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور کردیں گے۔ حالانکہ اسلام آباد یاداشت کے نام سے ہونے والا معاہدہ ایران کے حق میں تھا اور اسے اس پر عمل کرنے سے معاشی سہولت کے علاوہ پابندیوں سے چھٹکارا پانے کا آسان راستہ فراہم کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایران کی تعمیر نو کے لیے 300ارب ڈالر کے فنڈ کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
بدقسمتی سے ایرانی لیڈر اس شاندار کامیابی کو ہضم کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اب اس سے بڑھ کر ہمیشہ سے ایک بین الاقوامی آبی راستے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے۔ اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس وصول کرکے ایران کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ ایران کی سیاسی قیادت کے برعکس پاسداران نے اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آبنائے ہرمز کے ’غیر ایرانی‘ علاقے سے گزرنے والے جہازوں پر حملے شروع کردیے جس کی وجہ سے ایک بار پھر امریکہ ایران کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ ہؤا اور حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایران نے ہر امریکی حملے کا جواب عرب ممالک پر میزائل داغ کر دیا ۔ اس طرح اس نے مسلسل یہ واضح کیا کہ وہ اپنے مفادات کے لیے پورے مشرق وسطیٰ کا امن داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہے۔ تصادم کی اس صورت حال میں یمن کے حوثیوں کی ہلہ شیری کے ذریعے ایران نے بالواسطہ طور سے ایک نئی جنگ کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں اس کا مقابلہ صرف امریکہ و اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ براہ راست مسلمان ممالک میں احترام و نمایاں مقام رکھنے والے سعودی عرب کی خود مختاری کو چیلنج کررہا ہے۔ اسی لیے ایرانی صدر کی طرف سے اسلامی بھائی چارے کی باتیں بے بنیاد اور عملی رویہ کے برعکس ہیں۔
اس کے مقابلے میں ساری صورت واضح ہونے کے باوجود سعودی عرب نے ایران کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کرتا رہا۔ اب ایرانی صدر کہتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل مسلمان ممالک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس سچائی کو فراموش کرتے ہیں کہ گزشتہ چند ماہ سے ایران نے دیگر عرب ممالک کو جنگ میں فریق کا درجہ دے کر اور اپنی پراکسی حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب پر حملے کرواکے درحقیقت اس پورے ریجن میں اسرائیل کو طاقت ور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ مسلمان ممالک کی باہمی لڑائی میں صرف اسرائیل ہی مضبوط اور فتحیاب ہوگا۔ اسے ایران کی زیرک قیادت کیسے نظر انداز کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود خود کو علاقے کی منی پاور ثابت کرنے کے جوش میں ایرانی لیڈروں نے سعودی عرب کو کمزور کرنے کی سازش کی۔ حالانکہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف اسرائیلی امداد کی پیشکش مسترد کرکے اسلامی اتحاد اور یک جہتی کی مثال قائم کی ہے۔
اس دوران پاکستان و ترکیہ مکہ معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاع کی حکمت عملی پر اتفاق کرچکے تھے۔ تینوں ممالک نے واضح کیا تھا کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ حوثیوں نے سعودی عرب پر حملہ کرکے اس معاہدے میں شامل دوسرے دونوں ممالک کو براہ راست چیلنج کیا ہے۔ اسی لیے پاکستان اور ترکیہ واضح کرچکے ہیں کیہ سعودی عرب کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے باوجود ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں سے باز رکھنے میں ’کامیاب‘ نہیں ہؤا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران پر اچانک اور شدید نئے حملوں کی دھمکیوں کے علاوہ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پاکستان اور ترکیہ کے عزم کے پس منظر میں تہران کا اجلاس مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور کسی قابل قبول امن معاہدہ کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ خوشگوار اور اعتماد پر مبنی قریبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تینوں ممالک سعودی عرب کی خودمختاری کی حفاظت کا ارادہ و عزم رکھتے ہیں۔ اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ہفتہ عشرہ میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک کی مدت میں اگر ایرانی لیڈر کسی قابل قبول جنگ بندی معاہدہ پر راضی ہوجاتے ہیں تو علاقے میں وسیع تر جنگ سے گریز کیا جاسکتا ہے۔ ایرانی لیڈروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ 2 نومبر کو اگر ڈیموکریٹک پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بھی وہ صدر کو ایران پر حملہ کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ایران خواہ دیگر ممالک کو تباہ و برباد کرنے کی جیسی بھی دھمکیاں دے لیکن نئے امریکی حملوں کی صورت میں ایران کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے ۔ اس کے علاوہ رہی سہی ایرانی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
تہران میں مکہ معاہدہ کے ممالک نے ایرانی لیڈروں کو یہی سمجھانے کی کوشش کی ہوگی کہ اس وقت صلح اور جنگ بندی ہی میں سب کا فائدہ ہے اور تہران غیر ضروری طور سے امریکہ کے ساتھ جنگ کو طول دینے اور عرب ممالک کو دشمن بنانے کی پالیسی اختیار نہ کرے۔ ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ تہران اجلاس مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے آخری مؤثر کوشش ثابت ہوسکتا ہے۔