مجروح استحقاق

آپ جتنی بھی زبانیں جانتے ہیں، ان زبانوں میں کبھی کبھار آپ کو ایسے الفاظ سنائی دیتے ہیں جن کے معنی اور مفہوم آپ کی سمجھ بوجھ سے دور ہوتے ہیں۔ اردو پاکستان کی وہ واحد زبان ہے جو سب کی سمجھ بوجھ میں آتی ہے۔

دوسری زبانوں کے بارے میں ہم پھر کبھی مدح سرائی کریں گے، فی الحال ہم اپنے آپ کو اردو تک محدود رکھتے ہیں۔ اسی میں مجھے عافیت محسوس ہوتی ہے۔ دقیق اور مشکل الفاظ کا سب سے پہلے نوٹس بچے لیتے ہیں۔ اس کے بعد دانشوروں کی باری آتی ہے۔ یہ بات مجھے اچھی لگتی ہے۔ اس لئے آج کے موضوع پر بچوں کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔ یہ بات مجھے اس لئے بھی اچھی لگتی ہے کہ میری ماں کی مادری زبان سندھی نہیں تھی۔ میں نے اپنی ماں کی ماں، یعنی نانی کو کبھی بھی سندھی میں بات کرتے ہوئے نہیں سنا تھا۔ نستعلیق اردو بولنے والے کبھی بھی دل سے بمبئی اور کراچی میں بولی جانے والی اردو کو نرمل اور شفاف اردو میں شمار نہیں کرتے۔ مگر دل کا کیا کیا جائے کہ ممبئی یعنی بمبئی اور کراچی والوں کو اپنی اردو اچھی لگتی ہے۔ ہم خوامخواہ چیختے چلاتے نہیں۔ ہم بومبڑی مارتے ہیں۔

آج کا قصہ نیا نہیں ہے۔ زیادہ پرانا بھی نہیں ہے۔ ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ اردو میں سنائی دینے والا لفظ یعنی نیا اجنبی لفظ نیا ہے یا پرانا ہے۔ نئے لفظ کی طرف ہم بچوں کا رویہ اور اندازِ فکر دیکھیں گے۔ اس کے بعد دانشور جانیں اور ان کا کام۔ جس لفظ نے بچوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی، وہ لفظ تھا استحقاق۔ بچے لفظ استحقاق سن کر شش و پنج میں پڑ گئے۔ شش و پنج لفظ یا محاورہ بچوں کے لئے زیادہ نیا نہیں تھا۔ وہ اس محاورے کے معنی اور مفہوم سے واقف تھے۔ بچے شش و پنج کے معنیٰ اور مفہوم کچھ کچھ سمجھ گئے تھے۔ مستند معنی اور مفہوم کا کام بچوں نے بالغوں پر چھوڑ دیا۔

مگر نیا لفظ استحقاق بچوں کے لئے اجنبی تھا۔ وہ اس سوچ میں غلطاں ہوگئے کہ یہ نیا لفظ کہاں سے آیا ہے اور کیوں آیا ہے۔ یاد رہے کہ بچے صرف نہیں بچے ہوتے۔ بچوں میں کچھ بچے بڑے ہی ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گن سکتے ہیں۔ سیانے اور ہوشیار بچے اڑتی ہوئی چڑیا کے پر کیوں گنتے تھے، اس راز سے کوئی واقف نہیں تھا۔ چڑیا کے پر گن لینے سے آپ کے ملک کا اقتصادی، معاشی، زرعی اور مالیاتی نظام ٹھیک ہوسکتا ہے؟ کسی سیانے کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ سیانے بچے صرف اس لئے سیانے سمجھے جاتے تھے کہ وہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گن سکتے تھے۔ ان کی اس قابلیت کا ملک و ملت کو کیا فائدہ ہوگا؟ کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ بہرحال یہ طے ہے کہ ملک میں ہوشیار اور ذہین بچے بھی ہوتے ہیں جو اڑتی چڑیا کے پر گن سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر آنے والے ہوشیار بچے گھونسلے میں بیٹھی ہوئی چڑیا کے پر گن سکتے ہیں ۔ وہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گن نہیں سکتے۔ اس لئے دوسرے نمبر کے ذہین کہلوانے میں آتے ہیں۔

تیسرے نمبر کے ذہین نہ بیٹھی ہوئی چڑیا کے پر گننے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گننے سے شغل رکھتے ہیں۔ ان کو چڑیاؤں کے پروں میں کسی قسم کی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ اڑتی ہوئی چڑیاؤں کے پر گننے سے آپ کے ملک اور معاشرے کی بگڑی ہوئی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ بچوں کی جنرل باڈی نے سیانے، کچھ کچھ سیانے اور کم سیانے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں پر انحصار کرنا چھوڑ دیا۔ کھوج لگانے کے لئے کہ لفظ استحقاق کہاں سے اور کیسے ہماری لغت کا اٹوٹ انگ بن گیا، بچوں کی جنرل باڈی نے چیدہ چیدہ جاسوسی دماغ رکھنے والے بچوں کو اس کام پر لگا دیا کہ وہ کھوج لگائیں اور جنرل باڈی کو بتلائیں کہ لفظ استحقاق کیا چیز ہے، کہاں سے آیا ہے اور اس قدر چھا کیوں گیا ہے۔ جاسوس بچے حیرت انگیز معلومات جمع کرکے لے آئے۔ پہلی اور اہم معلومات کے مطابق ملک اسی برس سے ایک ہی نوعیت کے سیاسی جال میں جکڑا ہوا ہے۔ ہر آنے اور جانے والا سیاستدان سیاسی جال پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرکے جاتا ہے۔

لفظ استحقاق اسی سیاسی جال کی ایجاد ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ استحقاق ایک طرح کا مقدس حق ہوتا ہے جو صرف اس شخص کو نصیب ہوتا ہے، جس کو لوگ ووٹ دے کر اپنے سر آنکھوں پہ سجاتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ استحقاق کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ استحقاق اہم امانت کی طرح منتخب شخص کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہوتا ہے کہ منتخب شخص سے سیاست کی ابجد پر بات چیت کرتے ہوئے آپ زبانی کلامی ایسا رویہ اختیار نہ کریں کہ منتخب شخص کا استحقاق مجروح ہو جائے آپ کو سیکھنا پڑے گا کہ آپ کو منتخب شخص سے کس نوعیت کی بات کرنی ہے۔ استحقاق مجروح ہو جانے کے بعد منتخب لوگوں سے آپ کی بات چیت ختم ہوسکتی ہے۔ سب سے اہم بات جو جاسوس بچے سنبھال کر لے آئے ہیں وہ کچھ یوں ہے کہ مجروح ہو جانے والا استحقاق صرف آپ کے ووٹ سے منتخب ہونے والے کو نصیب ہونا ہے۔ استحقاق مجروح ہو جانے کے بعد اس شخص کو کئی دن اسپتال میں گزارنے پڑتے ہیں۔ تفتیش کے دوران لاکھ مرتبہ انکار کرتے رہیں کہ آپ نے کسی کا استحقاق مجروح نہیں کیا۔ مگر آپ کے اہم ووٹ کے بعد منتخب ہونے والے شخص کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ آپ کو جھوٹا ثابت کردے اور آپ پر الزام چسپاں کر دے کہ آپ نے منتخب شخص کا استحقاق مجروح کیا ہے۔

جنرل باڈی کے اجلاس میں جاسوس بچوں نے کئی چونکا دینے والے انکشافات کئے اور جنرل باڈی کو حیران اور پریشان کردیا۔ اب جنرل باڈی کے اجلاس میں ایک ہی موضوع پر گفت و شنید ہورہی ہے کہ کیا کیا جائے کہ آپ کے اور میرے ووٹ سے منتخب ہونے والے شخص کے علاوہ ہم ووٹ دینے والوں کے پاس بھی ایک عدد استحقاق ہونا چاہئے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)