جماعت اسلامی احتجاج کررہی ہے یا حکومت کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے؟

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرول لیوی کے خلاف ایک بار پھر  15 نومبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کی قیادت نے آج وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات میں اس معاملہ پر رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔   ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک کو درپیش گوناں گوں مسائل کے بیچ جماعت اسلامی  کو صرف پیٹرولیم مصنوعات سے ہی کیوں مسئلہ ہے؟

اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں  متاثر ہوئی ہیں۔ پیٹرول اور فیول کی قیمتیں چونکہ  ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں، ا س لیے ملک کا ہر شہری بالواسطہ یا بلا واسطہ  طور سے ان سے متاثر ہوتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا فوری اثر دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ایک اہم مسئلہ کے طور پر   سامنے  آتا ہے۔  جماعت اسلامی نے لیوی  ختم کرنے کا مطالبہ کرکے جان بوجھ کر ایک ایسے معاملہ کا انتخاب کیا ہے جس سے ہر شخص متاثر ہورہا ہے۔  لہذا اس معاملہ پر سیاست کرنا آسان اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی سہولت ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی اپنی فرسودہ سوچ اور ناقابل عمل سیاسی  پروگرام کی وجہ سے کبھی عوام کی  تائید و حمایت حاصل نہیں کرسکی۔ البتہ اس پارٹی نے بار بار ناکام ہونے کے باوجود سیاسی عزائم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ نعیم الرحمان اپنی لیڈری چمکانے اور جماعت اسلامی کو عوام کا خیر خواہ ثابت کرنے کے لیے  پیٹرولیم مصنوعات پر  محصول ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔    حالانکہ یہ بھی واضح ہے کہ  حکومت کے پاس قومی آمدنی میں توازن قائم رکھنے کے لیے نہایت محدود شعبے ہیں۔ دیگر حکومتوں کی طرح شہبا زحکومت بھی براہ راست ٹیکس وصول کرنے اور  معاشرے کے نئے  طبقات کو  اپنی آمدنی  پر ٹیکس دینے میں آمادہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف سے مالی پیکیج کی  وجہ سے حکومت مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈیز میں اضافہ بھی نہیں کرسکتی۔ اور نہ ہی اس کے پاس یہ بوجھ اٹھانے کے وسائل ہیں۔  پیٹرولیم مصنوعات پر  محصول  درحقیقت حکومت کا ایک اہم اور محفوظ ترین  ذریعہ آمدنی ہے۔ اس شعبہ میں عائد محاصل  سے حاصل ہونے   والی آمدنی کل قومی آمدنی کا 9 فیصد ہے۔ جماعت اسلامی کی خوشنودی کے لیے اس لیوی کو ختم کرکے حکومت اپنے اخراجات اور ذمہ داریاں پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔

اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر بیس سے پچیس فیصد محصول وصول کیا جاتا ہے جو براہ راست مرکزی حکومت کی آمدنی میں شامل ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمان کے  لیے  اس سوال پر بیان بازی کرنے، احتجاج  منظم کرنے اور نعرے بازی سے ہر شخص کی توجہ حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ  مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تیل کی  قیمتوں میں اضافے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔  اور نہ ہی اس کے پاس ایسے معاشی امکانات ہیں کہ وہ قومی بجٹ میں لگ بھگ 9 فیصد آمدنی سے دست بردار ہوجائے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کے لیے یہ نعرہ سیاسی طور سے  سود مند ہے کیوں کہ وہ  یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ لیوی ختم ہونے سے پیٹرول کی قیمت میں یک بیک ایک سو روپے لیٹر تک کمی واقع ہوجائے گی۔ اور اس کا فائدہ ہر کس و ناکس کو ہوگا۔   حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی کی قیادت کو بھی بخوبی علم ہے کہ یہ مطالبہ ناقابل عمل ہے اور کوئی بھی حکومت اسے تسلیم نہیں کرے گی لیکن اس کے باوجود اپنی مردہ سیاست چمکانے اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے جماعت کے لیڈروں نے یہ بازی گری شروع کی ہوئی ہے۔

جماعت اسلامی نے اس معاملہ پر  سب سے پہلے جولائی  2024  میں اسلام آباد میں دو ہفتے تک دھرنا دیا تھا۔ اس کے بعد سال رواں کے دوران متعدد بار احتجاج  اور لانگ مارچ کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ایسا ہر احتجاج وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات اور حکومت کی طرف سے کمیٹی بنا کر معاملہ حل کرنے کے وعدوں کی بنیاد پر ختم کیا جاتا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان اب نومبر کے وسط سے لانگ مارچ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔  بادی النظر میں اس کا انجام بھی پہلے کیے گئے احتجاج جیسا ہی ہوگا لیکن اس دوران جماعت اسلامی خود کو عوام کی سب سے بڑی ہمدرد پارٹی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی رہے گی۔

تاہم اس احتجاج اور جماعت اسلامی کی سیاست کے حوالے سے اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی قابل غور ہے۔ جماعت اسلامی نے ملکی تاریخ میں ہمیشہ عسکری اسٹبلشمنٹ کی حمایت کی ہے ۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں جماعت اسلامی کبھی  اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد کے بغیر کوئی سیاسی قدم نہیں اٹھاتی۔ ماضی میں جماعت اسلامی نے عسکری قیادت کے ساتھ ساز باز کے ذریعے ہی حکومت میں حصہ  بھی وصول کیا تھا ورنہ اسے کبھی اتنی عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی  کہ وہ  جمہوری طریقے سے  کسی حکومت کا حصہ بننے کے قابل ہوتی۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے  کہ پھر جماعت اسلامی ایک ایسے ہائبرڈ نظام کے خلاف کیسے اور کیوں احتجاج کررہی ہے جس میں عسکری قیادت کو بالا دستی حاصل ہے اور اہم ترین فیصلے جی ایچ کیو کی مرضی و منشا  سے ہی ہورہے ہیں۔

اس کے علاوہ  تصویر کا یہ پہلو بھی قابل غور ہونا چاہئے کہ  مہنگائی یا انرجی کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ ایک اہم عوامی مسئلہ ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صرف جماعت اسلامی ہی کو یہ مسئلہ دکھائی دیتا ہے اور وہ تن تنہا ہی اسے حل کرنے کے لیے میدان  میں نکلی ہوئی ہے۔ اس جد و جہد میں اس نے کسی دوسری سیاسی پارٹی کو ساتھ ملانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی جماعت کو اس بنیادی عوامی مسئلہ پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔   اس صورت حال میں جماعت اسلامی کی سیاسی  ترجیحات کے بارے میں سوال اٹھنا فطری ہے۔

اس وقت ملک میں سیاسی تصادم کی کیفیت ہے۔  خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت ختم کردی گئی  ہے اور اس کے لیڈروں کو مسلسل قید کرکے سراسیمگی اور سیاسی حبس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف صوبوں  کی تعداد میں اضافے کے سوال پر پیپلز پارٹی سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کو شدید تحفظات ہیں اور ملک میں سیاسی بداعتمادی کی فضا عروج پر ہے۔ حکومت سے باہر کم و بیش ہر جماعت آزادی اظہار پر پابندیوں اور سیاسی بے چینی و محرومی کے سوال پر پریشانی کا  اظہار کرتی ہے۔  سرحدوں پر تنازعہ اور دہشت گردی کی صورت حال اس کے علاوہ اہم قومی مسائل کے طور پر موجود ہیں اور ان معاملات پر بھی  مختلف النوع سیاسی مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن جماعت اسلامی اس کشیدہ اور مشکل صورت حال میں صرف ایک ایسے معاملہ پر احتجاج منظم کررہی ہے جس  کے حل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

کیا جماعت اسلامی کسی بڑی خوش فہمی کا شکار ہے یا جان بوجھ کر موجودہ مشکل حالات میں حکومت کی ’بی ٹیم‘ بن کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے عوام کی ایک اہم ضرورت کو موضوع بنا کر احتجاج کررہی  ہے۔ تاکہ اصل مسائل  کی بجائے ایک ایسے مسئلہ پر   توجہ مرکوز رہے جو ایک لاینحل معاملہ کی حیثیت رکھتا ہے۔  اس وقت ملک میں بنیادی حقوق، سیاسی آزادیوں، آزادی رائے اور سیاسی  تصادم کے  اہم معاملات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں لیکن جماعت اسلامی ان تمام معاملات سے لاپرواہ پیٹرول پر لیوی کم کرنے کے لیے ہر حربہ آزمانے  پر آمادہ ہے۔   ایسے میں  سوال تو سامنے آئے گا کہ آخر جماعت اسلامی کا اصل ہدف کیا ہے؟