اسرائیلی انتخاب میں کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی
اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق اب تک 70 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے تاہم فی الحال کوئی بھی سیاسی اتحاد ایسا نظر نہیں آ رہا جو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کر سکے۔
بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد اب بھی سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا بلاک ہے۔ البتہ اس کی نشستوں کی تعداد کم ہو کر 54 رہ گئی ہے۔ گاڈی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو اب تک 47 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ عرب جماعتوں کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے۔
حکومت بنانے کے لیے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ موجودہ نتائج حتمی نہیں ہیں اور ووٹوں کی مزید گنتی کے ساتھ ان میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
اس اسرائیلی الیکشن میں دو عرب سیاسی اتحاد حصہ لے رہے ہیں۔ ایک جوائنٹ عرب لسٹ ہے، جو حداش، بلد اور تعال جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسرا نسبتاً چھوٹا اتحاد راعم یا یونائیٹڈ عرب لسٹ ہے،جو ایک اسلام پسند جماعت ہے۔
اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق اب تک گنے گئے ووٹوں میں جوائنٹ عرب لسٹ کو 9.11 فیصد جبکہ راعم کو 4.74 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان جماعتوں کے پاس نشستوں کی قابلِ ذکر تعداد ہو سکتی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ دیگر سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر آمادہ ہوں گی یا نہیں۔
اسرائیل کے بیشتر عرب شہری اُن فلسطینیوں کی اولاد ہیں جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے دوران ہونے والی جنگ کے باوجود اپنے علاقوں میں موجود رہے تھے۔ جبکہ اسی عرصے میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
جوائنٹ لسٹ سیکولر جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہے۔ یہ اسرائیلی عرب شہریوں کے لیے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوجی قبضے کے خاتمے اور اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ انتخابات سے قبل اس اتحاد نے کہا تھا کہ وہ اپوزیشن کے اندر اثر و رسوخ کی حامل پوزیشن حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اس اتحاد نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو حکومت کا متبادل بننے والے سیاسی گروہوں کو انتخابی ’سیفٹی نیٹ‘ فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ عرب اسرائیلیوں کے لیے اہم مسئلہ بننے والے گینگ جرائم جیسے معاملات پر اس کے مطالبات پورے کیے جائیں۔
دوسری جانب راعم کا قیام اسرائیل کی اسلامک موومنٹ کے حصے کے طور پر ہوا تھا جو سماجی طور پر قدامت پسند نظریات رکھتی ہے۔ تاہم اس کے رہنما منصور عباس یہودی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ عرب اسرائیلیوں کے مسائل کے حل کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں کے بارے میں نسبتاً کم بات کرتے ہیں۔
اس انتخاب میں انہوں نے ایک غیر متوقع قدم اٹھاتے ہوئے اپنی انتخابی فہرست میں دوسرے نمبر پر ایک یہودی سابق پولیس اہلکار اور درمیانی راستے کے سیاست دان یوآف سیگالووِٹز کو نامزد کیا۔