خیبر پختونخوا میں دو حکومتیں
- تحریر سلیم صافی
- بدھ 28 / اکتوبر / 2026
خیبر پختونخوا واقعی صوبہ کم اور لیبارٹری زیادہ ہے ۔ جس کا جو جی میں آتا ہے یہاں پر وہ تجربہ کرلیتا ہے ۔ نیا تجربہ یہ کیا جارہا ہے کہ اسے انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کرلیا گیا ۔
ایک حصہ قبائلی اضلاع اور ان سے جڑے ہوئے چار اضلاع پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا حصہ باقی ماندہ صوبے پر مشتمل ہے ۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ قبائلی اضلاع اور ان سے متصل چار اضلاع کیلئے یہ انتظام کیا گیا ہے کہ ان پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتظام ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں جسکی وجہ سے صوبے کا کام بھی مشکل ہورہا ہے اور ان بارہ اضلاع میں بھی کام مشکل ہوگا۔
باقی صوبے کے چیف ایگزیکٹیو گورنر ہیں اور ان کے ساتھ گیارہ مشیروں کی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک ٹیم بنائی گئی ہے لیکن ان بارہ اضلاع کا چیف ایگزیکٹیو ایک سرکاری افسر یعنی ایڈیشنل چیف سیکرٹری بنا دیا گیاہے جو گورنر کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو رپورٹ کرے گا ۔ اسی طرح ان کے ساتھ ایک اڑتالیس رکنی مشاورتی کونسل بنا دی گئی ہے جس میں روایتی قبائلی ملکانان شامل ہیں۔ یہ وہ ملکانان ہیں جن سے فاٹا مرجر کے ذریعے بڑی مشکل سے جان چھڑائی گئی تھی لیکن اب ان کو اس اقدام کے ذریعے دوبارہ زندہ کردیا گیا ہے ۔اس کونسل کے چیئرمین سابق گورنر شوکت اللہ کو بنایا گیا ہے جبکہ وائس چیئرمین ملک خان مرجان ہیں ۔ شوکت اللہ صاحب فاٹا مرجر کے مخالف تھے جبکہ ملک خان مرجان اس کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے ۔اسی طرح ممبران میں بھی زیادہ تر روایتی ملکانان کو شامل کردیا گیا ہے جبکہ جے یو آئی کے چھ نامزد ارکان نے ممبر بننے سے انکار کر دیا۔
وائس چیئرمین بنتے ہی ملک خان مرجان کی دو ویڈیو ز سامنے آئیں ۔ ایک ویڈیو میں وہ لوگوں سے مبارک باد لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے پولیس ، عدالت اور انضمام سے آپ کی جان چھڑا دی۔ دوسری ویڈیو میں وہ افغان اور پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر حکومت ہمیں اختیار دے تو ہم قبائلی مشران مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں ۔ ملک خان مرجان پر ایک روز میں اتنی تنقید ہوئی کہ اس کونسل کے ترجمان محمود جان بابر کو بیان دینا پڑ گیا کہ یہ ملک خان مرجان کی ذاتی رائے ہے حالانکہ خود ملک صاحب ذاتی اور سرکاری رائے کے فرق کو سمجھتے ہی نہیں۔
اس مشاورتی کونسل کاچرچہ تو بہت ہے لیکن وفاق کے حکمنامے میں سرے سے اس کا کوئی کردار ہی متعین نہیں کیا گیا ہے ۔ مثلاً یہ نہ تو اپنے لئے سربراہ منتخب کرسکتا ہے اور نہ اس کا کوئی فیصلہ ان اضلاع کے چیف ایگزیکٹیو (ایڈیشنل چیف سیکرٹری) کیلئے ماننا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ بس مشاورتی کونسل ہے اور مشورے کرتی رہے گی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر گورنر ہی ان بارہ اضلاع کا چیف ایگزیکٹیو ہوتا تو اچھا ہوتا یا پھر اگر گریڈ اکیس کا ایک افسر چیف ایگزیکٹیو ہے تو اچھا ہے ؟ اگر گورنر باقی ماندہ پورے صوبے کا نظام سنبھال سکتا ہے تو ان بارہ اضلاع کا کیوں نہیں سنبھال سکتا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس غرض سے کیا گیا ہے کہ ان اضلاع میں ترقی کی رفتار تیز ہو لیکن حقیقت میں ان اضلاع میں ترقی کی راہ میں بہت رکاوٹیں آئیں گی۔ مثلا ڈی آئی خان کی یونیورسٹی صوبائی وزیر تعلیم یا گورنر کے ماتحت ہے ۔ اگر وہاں پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری کوئی کام کرنا چاہیں گے تو کیا انہیں گورنر اور صوبائی وزیر سے رجوع کرنا پڑے گا یا نہیں ۔
اسی طرح اب گورنر اور وزیر تعلیم ڈی آئی خان کی یونیورسٹی کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے اور اگر انہیں وہاں کوئی کام کرنا ہوگا تو انہیں چیف ایگزیکٹیو سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بعینہ اگر ٹانک کے کسی ہسپتال کا مسئلہ ہو تو کیا بارہ اضلاع کے چیف ایگزیکٹیو ان میں کوئی تغیر و تبدیل صوبائی وزیر صحت کے بغیر کرسکے گا یا نہیں۔ یہ چیزیں واضح نہیں۔ ان بارہ اضلاع میں مختلف محکموں کیلئے الگ سیکرٹری بھی مقرر کئے جارہے ہیں جو صوبائی حکومت انہیں فراہم کرے گی ۔ اب وہ سیکرٹری تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوجائیں گے لیکن باقی جتنا ماتحت اسٹاف ہوگا وہ صوبائی حکومت کا ہوگا ۔ سوال یہ ہے کہ اس ماتحت اسٹاف کی ٹرانسفر پوسٹنگ کون کرے گا۔ صوبائی حکومت یا پھر بارہ اضلاع کے چیف ایگزیکٹیو؟ تماشہ یہ ہے کہ اس چیف ایگزیکٹیو کی نگرانی کیلئے وفاقی سطح پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار صاحب کی قیادت میں وفاقی وزرا کی بھی ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کمیٹی کس مرض کی دوا ہوگی کیونکہ بیشتر وزرا وہی ہیں جنہوں نے پچھلے ڈھائی سال کے دوران مذکورہ اضلاع میں سے کسی ایک کا بھی دورہ نہیں کیا اور وہ وہاں کے زمینی حقائق سے بالکل واقف نہیں۔
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ الگ انتظام اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کیلئےبھیجی گئی رقم ماضی کی طرح دیگر اضلاع کی طرف منتقل نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ اس کیلئے اتنے لمبے چوڑے انتظام کی کیا ضرورت ہے ۔ وہ تو چیف سیکرٹری کے ایک نوٹیفیکیشن سے ہوسکتا تھا کہ یہ رقم ان ان اضلاع میں خرچ ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اضلاع میں ترقیاتی کام ہوں یا پھر امن و امان کیلئے اقدامات ، وہ صوبائی حکومت کے زیرانتظام سرعت سے اور بہتر انداز میں ہوسکتے تھے لیکن اس الگ انتظام سے الٹا ہر کام مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ اسی طرح مشاورتی کونسل بھی ایک فضول عمل ہے ۔ یہ کونسل اس کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتی کہ اس کے ممبران اپنے اپنے علاقوں میں تیس مارخانی کرتے رہیں گے ۔
اس وقت اس دوہرے نظام کے خالقوں کو میری یہ باتیں ناگوار گزریں گی لیکن لکھ کر رکھ لیجئے کہ چند ماہ کے بعد وہ خود سر پیٹ رہے ہوں گے کہ یہ ہم نے کس مصیبت میں علاقے کے عوام اور اپنے آپ کو مبتلا کر رکھا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)