’بانی‘ سے بنیادی غلطی کہاں ہوئی

یہ غالباً 2013 کی بات ہے ملک میں عام انتخابات ہونے والے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اپنی پارٹی میں الیکشن کا فیصلہ کیا اور سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کو چیئرمین الیکشن کمیٹی نامزد کردیا۔ یہ بہت خوش آئند عمل تھا کیونکہ ہماری قومی سیاسی جماعتوں میں پارٹی کے اندر انتخابات کا تصور نہیں ہے جو ہماری قومی سیاست کی بڑی کمزوری رہی ہے۔

جسٹس صاحب سے میرے تعلقات اس زمانے سے رہے ہیں جب میں صحافتی ٹریڈ یونین کے قانونی معاملات میں ان سے رہنمائی لیتا رہتا تھا۔ ان کی مجموعی شہرت ایک ایماندار اور اصول پسند شخص کی رہی ہے۔ لہٰذا اس فیصلے کو لوگوں نے سیاست میں ایک مثبت قدم کے طور پرلیا۔ البتہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں کا خیال تھا اور جس کا اعتراف بعد میں خاں صاحب نے بھی کیا کہ پارٹی الیکشن یا تو عام انتخابات سے بہت پہلے کرانے چاہئے تھے یا بعد میں۔ خیر پارٹیوں میں اگر جمہوریت ہوتواس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس انتخابی تنازع نے پارٹی میں تقسیم کی بنیاد ڈال دی۔ اگر خان صاحب اس وقت پارٹی کے انتخابات کے حوالے سے جسٹس صاحب کے فیصلے کو تسلیم کرلیتے اور اس عمل کو جاری رکھتے تو شاید آج پارٹی اندرونی طور پر انتشار کا شکار نہ ہوتی۔

اسی دوران سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی میرے گھر آئے، ان سے میری پہلی ملاقات غالباً 90 کی دہائی میں اس وقت ہوئی جب انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کراچی نیشنل اسٹیڈیم کی ایک زمین کی مبینہ خرید و فروخت کے حوالے سے ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی تھی اور اس کے خلاف بھرپور مہم چلانے کا دعوی کیا تھا مگر وہ کچھ عرصہ نامعلوم رہنے کے بعد چپ ہوگئے۔ اس زمین پر اب گھروں کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ علوی صاحب مجھے بتارہے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف میں الیکشن کا طریقہ کار اور آنے والے وقت میں پارٹی کے آئین کے تحت مستقل الیکشن کا طریقہ کارکیا ہوگا۔ جسٹس صاحب کا جب انہوں نے نام لیا تو میں نے اسے درست سمت میں ایک قدم قرار دیا۔ 2018کے الیکشن کے وقت ایک بار پھر وہ میرے گھر آئے اس باران کے پارٹی کے حوالے سے خیالات2013 میں پارٹی الیکشن اور پارٹی میں جمہوریت کی بابت ذرا مختلف نظر آئے۔

پچھلی بار انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی پارٹی میں دوسری پارٹیوں سے آنے والوں کیلئے ایک اسکرونٹی سے گزرنا لازمی ہے مگر اس بار ان کا رویہ ’لوٹوں ‘ یادوسری جماعتوں کے ’ الیکٹبلز‘ کے حوالے سے مختلف تھا۔ وہ اقتدار میں آنے کیلئے ایسے لوگوں کی شمولیت کے حامی نظر آئے۔ میری ان سے آخری ملاقات ان کے گھر میں2022 میں پی ٹی آئی حکومت ختم ہونے کے بعد ہوئی۔ اس وقت وہ مجھے دوبارہ2013 والے ڈاکٹر عارف علوی نظر آئے۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب سیاست میں غلطیاں ہوتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ ان غلطیوں سے کتنا سیکھتے ہیں۔ آپ نے جن لوگوں کو آنکھیں بند کرکے پارٹی میں لیا، وہ آپ کو اقتدار میں لے آئے مگر وہ جہاں سے آئے تھے انہی لوگوں کے کہنے پر واپس چلے گئے ۔ لہٰذا پارٹی کی بنیادی غلطی جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگوں کے پارٹی الیکشن کے حوالے سے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا تھی۔ پارٹی میں پھر دوبارہ وہ جمہوری عمل واپس نہیں آیا ۔

جسٹس صاحب کے جانے کے بعد خان صاحب کو دوسرا بڑا نقصان معراج محمد خان کے جانے سے ہوا۔ کراچی میں میری اکثر ملاقاتیں ڈاکٹر علوی کے گھر پر یا پھر ایک دومرتبہ غالباً اطہر جمیل جو معراج صاحب کی جماعت کے رہنما تھے، کے گھر پرہوئی۔ پھر آہستہ آہستہ پارٹی کے کئی بنیادی لوگ جن میں معروف وکیل حامد خان بھی شامل تھے سائیڈ لائن ہوگئے۔ حامد خان ان لوگوں میں تھے جنہوں نے پارٹی کا آئین بنایا تھا جس کے بارے میں ایک بار میں نے ٹی وی انٹرویو میں خان صاحب سے پوچھا، کیا آپ نے اپنی پارٹی کا آئین پڑھا ہے تو جواب نفی میں آیا۔ 2023کا پارٹی الیکشن اس لیے بھی اہم تھا کہ اس کے بعد پارٹی شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین گروپس میں بٹ گئی۔ بانی کا واضح جھکاؤ ترین کی طرف رہا اور پھر یوں بھی ہوا کہ قریشی صاحب نے الزام لگایا کہ انہیں ایم پی اے کا الیکشن مبینہ طور پرترین گروپ نے ہروایا۔ اس حوالے سے جب میں نے عمران سے پوچھا تو انہوں نے کہا ’مظہر،عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنانے کی بنیادی وجہ ان دونوں کی لڑائی تھی‘۔

خیر میں نے ایک بار اس کا ذکر چوہدری پرویز الٰہی سے کیا تو وہ کہنے لگے’ ہم نے کبھی اس سے وزارت اعلیٰ کی خواہش ظاہر نہیں کی مگر ایک ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنانا جو نیا نیا پارٹی میں آیا ہو حیران کن تھا‘۔ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنایا جاتا تو وہ تجربہ اور سیاسی بصیرت میں بزدار اور خود عمران سے بھی تجربہ اور خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں بہت آگے تھے۔ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری مگر حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ اکثریت نہیں تھی۔ تاہم اس وقت کی ’مقتدرہ‘ کےاہم کردار کچھ گروپس بناکر انہیں اقتدار میں لے آئے۔ خان سے یہ وہی غلطی ہوئی جو1988 میں بے نظیر بھٹو سے ہوئی تھی اور جس کی بعد میں قیمت بی بی کو دینی پڑی۔ عمران ایک تیسرے آپشن کے طور پر آگے لائے گئے مگر شاید ان کی تیاری مکمل نہیں تھی۔ تاہم کے پی میں پی ٹی آئی نے 2018 میں دوسری بار کامیابی حاصل کرکے نیا ریکارڈ بنایا کیونکہ کے پی میں کوئی جماعت مسلسل دوسری بار جیت کر نہیں آئی۔ تاہم پارٹی میں الیکشن کا سلسلہ اب رک چکا تھا تو دوسری طرف پارٹی حکومت کیلئے تیار ہی نہیں۔ خاص طور پر2013 کے بعد۔ پارٹی کے زیادہ تر لیڈران کو اب حکومت میں شمولیت چاہئے تھی۔ عارف علوی صاحب اب صدر پاکستان بن چکے تھے۔ عمران خان کی زیادہ توجہ حکومت سازی پر رہی۔

تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے اقتدار کے پہلے دوسالوں میں ہی دیگر جماعتوں کی طرح زیادہ فکر حکومت کی رہی پارٹی کی نہیں۔ بانی کے گرد ایسے لوگوں کا ٹولہ مضبوط ہوتا گیا جن کو پارٹی چلانے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ ویسے بھی ان میں زیادہ تر اقتدار کا مزا لینے آئے تھے اور وہ سب پارٹی کواس وقت چھوڑ کر چلے گئے جب پارٹی مشکل میں آئی۔ ایسے میں خان صاحب سے ایک اور بنیادی غلطی ہوئی جب مرکز میں اقتدار چھننے کے بعد بھی ان کے پاس دوبڑی حکومتیں تھیں، پنجاب اور کے پی میں۔ پنجاب پاکستان کی سیاست کا محور رہا ہے اور وہاں اپنی ہی حکومت ختم کرنا بہرحال ایک غیر سیاسی فیصلہ تھا۔ جس کا پی ٹی آئی اور خود خاں صاحب کو بے انتہا نقصان ہوا۔ آج پی ٹی آئی مقبول ترین جماعت اور خان مضبوط ترین لیڈر ہونے کے باوجود کمزور کیوں نظر آرہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ پارٹی کی قیادت اور مسلسل سیاسی غلطیاں ہیں جس کی وجہ سے نہ کوئی مربوط تحریک چل پائی نہ وسیع تر اتحاد بن پایا۔

 پارٹی قیادت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ سیاست کے جن کرداروں کے بارے میں خان خود مذاق بنایا کرتے تھے، محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان، آج کئی حوالوں سے انہی کی طرف دیکھا جارہا ہے۔ یہ بات خان سے بہتر کون جانتا ہے کہ اگر کھلاڑی بڑے عرصہ میدان سے باہر رہے تو نہ صرف فٹنس کے مسائل ہوتے ہیں بلکہ’کم بیک‘ بھی آسان نہیں ہوتا۔ خاص طور پر اگر سلیکشن کمیٹی آپ کے خلاف ہو۔ البتہ ایک بات کا مکمل کریڈٹ اس کو جاتا ہے کہ وہ کھیل کے میدان سے لے کر سیاست کے میدان تک ہارا نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : مظہر عباس

???? ???? ????? ??? ????? ??? ???? ???? ???? ?? ??????? ??? ????? ?? ????? ????? ???? ???? ????????? ??? ??? ???? ?????? ??? ??? ???? ?????? ???? ?? ??? ?? ???? ????? ????