ہماری بدمزہ دیگ کے غلط اجزا

یارِ عزیز نے دلچسپ سوال پوچھا ہے کہ ’ہماری دیگ لذیذ کیوں نہیں ہے‘۔ سوال نہایت مناسب ہے۔ پوچھنے والا ایک کشمیری نژاد دلبر جواں ہو تو اس کے سوال میں شب دیگ، ہریسہ، گشتابہ اور کشمیری چائے جیسے استعارے شامل نہ ہوں، یہ ممکن ہی کس طرح ہے۔

البتہ اگر جواب دینے والا مشرقی پنجاب کا ایک غریب الوطن، تہی دست، پناہ گیر ہو تو جواب میں فواکہات کی بجائے کچھ تجریدی استدلال کا چلا آنا بھی ایسا ہی فطری ہے۔ برادر عزیز نے دراصل نہایت بنیادی نوعیت کا سوال اٹھایا ہے، لکھتے ہیں کہ ’ہم اپنے طرزِ حکمرانی میں ہر دس پندرہ برس بعد ایک نیا ’جادوئی مسالہ‘ دریافت کرتے اور فرض کر لیتے ہیں کہ دراصل یہی وہ خرابی تھی جس کی وجہ سے ہماری ہانڈی میں لذت نہیں آئی۔ گزشتہ ایک سو بیس برس سے ہم اسی قسم کے نت نئے تجربات کا نشانہ بن رہے ہیں۔‘ بے خبر صحافی نے اس سوال پر غور کیا تو روغن جوش یا کشمیری چائے کی اشتہا انگیز خوشبویات کی بجائے کچھ تلخ حقائق سامنے آئے۔

ستمبر 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے تک ہندوستان کی تحریک آزادی ایک سادہ اصول پر استوار تھی۔ ہندوستان کے باشندوں کو اپنی سرزمین پر حکومت کا مکمل اختیار ملنا چاہیے تاکہ بیرونی حکمرانوں کے ہاتھوں ان کا معاشی اور تمدنی استحصال ختم ہو سکے۔ عالمی جنگ میں ہندوستان کی شمولیت کے سوال پر کانگریس نے صوبائی حکومتوں سے استعفے دیے تو تحریک آزادی کا رنگ بدل گیا۔ ٹھیک چھ ماہ بعد مارچ 1940 میں مسلم لیگ نے اپنے لاہور اجلاس میں نظریاتی بنیادوں پر ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا۔ اسی برس اگست میں وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے اعلان کیا کہ اگر ہندوستان جنگ میں اتحادی قوتوں کا ساتھ دے تو جنگ میں کامیابی کے بعد ہندوستان کو آزادی دینے کے لیے خود مختار دستور ساز اسمبلی کا انتخاب کرایا جائے گا۔

یہ وہ موڑ ہے جہاں آزادی ہند کی تحریک دو دھاروں میں بٹ گئی۔ جمہوریت کا بنیادی اصول مذہبی ، لسانی یا نسلی بنیادوں پر تقسیم کی بجائے تمام شہریوں کا مساوی درجہ اور حقوق ہے۔ مسلم لیگ کا مطالبہ مختلف تھا اور اس میں ہندوستان کی ساڑھے آٹھ سو برس کی تاریخ ، مذہبی اختلافات نیز معاشی اور ثقافتی ارتقا کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ تقسیم ہند کا مطالبہ ان علاقوں کے مسلمانوں نے زیادہ جوش و جذبے سے قبول کیا جو اپنے علاقوں میں بمشکل چودہ یا پندرہ فیصد آبادی کے حامل تھے۔ لیکن تاریخی وجوہ کی بنا پر بہتر معاشی حیثیت رکھتےتھے۔

ہر سیاسی تحریک کی طرح تحریک پاکستان بھی طرح طرح کے خوابوں سے مملو تھی ۔ قائداعظم محمد علی جناح کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک جدید جمہوری اور فلاحی مملکت ہو گا جس میں سماجی انصاف ، مساوات اور بھائی چار ے کے اسلامی اصولوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ 9اپریل 1946 کو دہلی میں مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز کے مسلم لیگی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا کہ ’ہم کس چیز کے لیے لڑ رہے ہیں؟ ہمارا مقصد کیا ہے؟ یہ پیشوائیت نہیں ہے، اور نہ ہی ہمیں کوئی تھیوکریٹک اسٹیٹ چاہیے۔ مذہب ہمیں عزیز ہے اور وہ ہمیں بہت پیارا ہے۔ جب ہم مذہب کی بات کرتے ہیں تو دنیا کی تمام مادی چیزیں ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں، لیکن زندگی کے لیے دیگر چیزیں بھی بے حد ضروری ہیں…ہماری معاشرتی زندگی، ہماری معاشی زندگی۔ اور بغیر سیاسی اقتدار کے، آپ اپنے عقیدے اور اپنی معاشی زندگی کی حفاظت کیسے کر سکیں گے؟‘

جاننا چاہیے کہ قائداعظم نے اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اسلام کے بنیادی اصولوں کا ذکر کیا ، دیگر معاملات یا پیشوائیت کا نہیں ۔ 14 دسمبر 1947 کو خالق دینا ہال کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری اجلاس کے دوران سردار شوکت حیات کے مطابق قائداعظم نے ’پاکستان کا مطلب کیا ‘ والے نعرے سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 26ستمبر 1926 کو پیدا ہونے والے اصغر سودائی کے تخلیق کردہ اس نعرے کا 1948 سے قبل کوئی دستاویزی ثبوت کہیں موجود نہیں۔

ہماری دیگ کا دوسرا غلط جزو جدیدیت سے ہماری دیرینہ مخاصمت ہے۔ شبلی نعمانی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دوسروں کی ترقی آگے جانے میں ہے اور ہماری ترقی پیچھے کی طرف لوٹنے میں ہے۔ اسی کو سیاسی اصطلاح میں احیا پسندی کہا جاتا ہے جس کے بارے قائداعظم نے 21مئی 1947کو ڈون کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’جدیدیت کی یہ مخالفت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ جو نظام ماضی میں ناکام ہوا ہو، وہ نئے زمانے میں قطعی طور پر ناقابل عمل ہوتا ہے‘ ۔ ہماری اجتماعی پسماندگی کا تیسرا حصہ قصہ خوانی نیز داستان گوئی سے ہمارا شغف ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک کا مقبول ترین فکشن نگار نسیم حجازی ہے ۔ سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ’شہاب نامہ‘ ہے اور جدید فکشن کا سیالکوٹ سے لکھا گیا ایک مقبول ترین ناول ہے جو سرے سے ادب کے ذیل ہی میں نہیں آتا بلکہ ایک تبلیغی اور تلقین شاہی تصنیف ہے۔

نتیجہ یہ کہ ہمارا تاریخ کا علم بھی سینہ گزٹ ہے اور اس سے اخذ کردہ نتائج بھی خوش کن لیکن ناگوار حد تک من گھڑت ہیں۔ ہماری دیگ کا چوتھا جزو ہماری استثنیٰ پسندی ہے ۔ 1958 میں قدرت اللہ شہاب کو سول سروس کا حصہ بنے اٹھارہ برس گزر چکے تھے ۔ اس کے باوجود ان کے سیاسی شعور کا یہ عالم تھا کہ لکھتے ہیں کہ’ میں بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ نیا صدر جو نیا نظام لانا چاہتا ہے شاید وہی ملک کے لیےسودمند ثابت ہو۔ اس وقت یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ آئی کہ یہ نظام ریت کا گھروندا ہے‘۔

ہمارے ملک کی دیگ میں ہمارے اساتذہ، صحافیوں ، اہل دانش اور صاحبان اختیار نے ذاتی مفاد پر اخلاقی دیوالیہ پن کا ایسا شرم ناک کھیل رچایا ہے کہ اسے قائداعظم کے خوابوں کے مقابل رکھیں تو بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں ہماری حقیقی ناکامی ہماری اخلاقی گراوٹ ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)