اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی سے کیا فرق پڑے گا؟

اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد  ہونے والے عام انتخابات میں   عرب پارٹیوں کو بڑی کامیابی  ملی ہے اور اب وہ  کنیسٹ میں 19 نشستوں پر قابض ہوں گی۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو ابھی تک یہ واضح ہے  کہ ان میں سے ایک یا دونوں پارٹیاں مستقبل کی کسی مخلوط حکومت کا حصہ بن سکیں گی یا انہیں امور مملکت میں کوئی شنوائی نصیب ہوگی۔  وزیر اعظم نیتن یاہو نے  ابھی سے عرب پارٹیوں پر دھاندلی کے ذریعے کامیاب ہونے کا الزام بھی عائد کرنا شروع کردیا ہے۔

120 ارکان پر  مشتمل  اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں کسی سیاسی پارٹی یا  اتحاد کو واضح اکثریت نہیں مل سکی۔ نیتن یاہو کی  لیکوڈ پارٹی اور ان کے اتحادی 53 نشستوں پر کامیاب  ہوئے ہیں جبکہ  گزشتہ سال سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں بننے والی پارٹی یاشار اور ان کے اتحادیوں نے  48 نشستیں حاصل کی ہیں۔ عرب پارٹیوں کو مجموعی طور پر 19  نشستیں  ملی ہیں جو ماضی کے مقابلے قابل ذکر اضافہ ہے کیوں کہ اس بار  اسرائیل میں آباد عرب ووٹروں نے ماضی کے مقابلے میں بڑھ چڑھ   انتخابی عمل میں حصہ لیا ۔ اس رجحان کی وجہ  وزیر اعظم نیتن یاہو اس حد تک بدحواس  تھے کہ وہ پولنگ کے دوران   اپنے حامیوں  اور رجعت پسند ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتے رہے کیوں کہ ان کے خیال میں  عرب نمائیندوں کی کامیابی صیہونی نظریات  کے لیے خطرناک  ہوسکتی تھی۔  اوراب وہ دھاندلی کا الزام لگا کر عرب نمائیندوں کے انتخاب کو مشکوک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم   نیتن یاہو کے مخالف گادی آئزن کوٹ نے کہا  ہے کہ نیتن یاہو  اپنی ناکام چھپانے کے لیے  دھاندلی کا شور  مچا رہے ہیں تاکہ  انتخابات کو  کالعدم قرار دلاسکیں۔

وزیر اعظم نیتن  یاہو کی پارٹی اور ان کی حلیف پارٹیوں کو اگرچہ  اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ  میں واضح اکثریت نہیں مل سکی ہے لیکن ان کی  لیکوڈ پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بنی ہے اور اسے   29 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ مجموعی انتخابی نتائج میں  کامیابی حاصل کرنے کے باوجود نیتن یاہو کے لیے نئی حکومت  بنانا آسان نہیں ہوگا۔   بظاہر عرب پارٹیوں کو ’کنگ میکر‘ کی حیثیت حاصل ہوئی ہے لیکن  نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کے  اتحاد اپنے اپنے طور پر عرب ووٹروں کے ساتھ شراکت اقتدار پر آمادہ نہیں ہیں۔ نیتن یاہو تو عرب پارٹیوں کی کامیابی کے خلاف پروپگنڈا کر ہی رہے ہیں لیکن دوسری طرف گادی آئزن کوٹ بھی انتخابی مہم کے دوران عرب پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے  کی تجویز مسترد کرتے رہے ہیں۔   نتائج کے مطابق ان کی پارٹی ’یاشار‘ کو 22 اور ان کے  سیاسی اتحاد کو مجموعی طور پر 48 نشستیں ملی  ہیں۔  گو کہ مختلف سیاسی حلقے آئزن کوٹ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے عرب پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرلیں تاکہ اسرائیل ایک نئی سیاست کا آغاز کرسکے۔ البتہ دونوں گروپوں کی طرف سے ابھی تک اس طرف کوئی اشارہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ لیکن دونوں ہی گروپ اس اعتماد کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ  وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرلیں گے۔

کنیسٹ  میں کسی بھی گروپ کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے یا تو عرب پارٹیوں کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ کرنا  پڑے گا یا وہ  مخالف گروپ میں سے بعض چھوٹی پارٹیوں کو توڑ کر اکثریت  حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔  تاہم  تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسے جوڑ توڑ میں نیتن یاہو زیادہ مہارت رکھتے ہیں ۔ وہ  1996 سے مختلف ادوار میں متعدد بار  وزیراعظم  منتخب ہوئے اور اب تک 19 سال تک ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وہ  ہر قیمت پر ایک بار پھر یہ عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور امکان ہے کہ اگر وہ وزیر اعظم نہ بنے تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔ البتہ اقتدار میں رہنے کی بدولت انہیں  عدالتی کارروائی سے استثنی ٰ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ   اسرائیل میں ہونے والے  یہ انتخابات خاص طور سے نیتن یاہو کی  شخصیت کی بنیاد پر ہی لڑے گئے ہیں۔ ان کی مخالفت میں آئزن کوٹ کی قیادت میں اکٹھے ہونے والی پارٹیاں سیاسی طور سے  نیتن یاہو کی پالیسیاں تبدیل نہیں کرنا چاہتیں لیکن وہ  انہیں  7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کا ذمہ دار سمجھتی ہیں اور ملک کا وزیر اعظم بننے کے نااہل قرار دیتی ہیں۔ دوسری طرف نیتن یاہو کی  حمایت کرنے والے انہیں اسرائیل کا نجات دہندہ اور تجربہ کا رمضبوط لیڈر سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی انتخابات میں کامیاب ہونے والی عرب پارٹیاں بھی  نیتن یاہو کی سربراہی میں نئی حکومت کی حامی نہیں ہیں۔ ان کا رجحان بھی نئی بننے والی پارٹی یاشار اور اس کے لیڈر  گادی آئزن کوٹ کی طرف ہے۔ عرب پارٹیوں کے  بھی  دو گروہ ہیں۔ رعام اور اس کی اتحادی پارٹیاں اسلام پسند کہلاتی  ہیں ۔ انہیں کنیسٹ میں 6 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ جبکہ دوسرا گروہ متعدد پارٹیوں کے مشترکہ انتخابی اتحاد پر مشتمل ہے جسے تازہ انتخابات  میں 10 سیٹیں ملی ہیں۔  یہ اتحاد بائیں بازو کے نظریات  رکھنے والی پارٹیوں پر مشتمل ہے۔  تاہم سب عرب پارٹیاں  اسرائیل میں آباد عربوں کی بہبود اور بنیادی سہولتوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ اگرچہ وہ فلسطینی ریاست کی حامی ہیں اور  دو ریاستی  حل کی بنیاد پر فلسطین کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے برعکس دونوں بڑے سیاسی اتحاد فلسطینی ریاست کے خلاف ہیں اور دو ریاستی حل کو مسترد کرتے ہیں۔  تاہم اگر عرب پارٹیوں نے حکومت سازی کے معاملہ میں لین دین  کیا تو وہ فسلطینیوں کے  عمومی حقوق، فلسطینی ریاست اور غزہ و مغربی کنارے کے حالات تبدیل کرانے کی بجائے اسرائیلی عربوں  کے سماجی و معاشی مسائل حل کرانے کے لیے ہوگا۔ یہ پارٹیاں عرب علاقوں میں شہری سہولتوں کی فراہمی پر بھی زور دیتی ہیں۔ سیاسی مذاکرات میں غالباً یہی امور اہم ہوں گے۔

تاہم عرب پارٹیوں کی کوشش ہوگی کہ  نئی حکومت میں ایسے انتہاپسند لوگ شامل نہ ہوں جو مسلمانوں و فلسطینیوں کے لیے حالات مشکل بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ جوائنٹ عرب لسٹ کے رہنما یوسف جبارین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عرب اسرائیلیوں نے اس امید پر ووٹ دیا  ہےکہ اسرائیل کے انتہا پسند وزیر قومی سلامتی اتمار بین گویئر کو عہدے سے ہٹایا جا سکے اور ان کی روزمرہ زندگی بہتر ہو۔عرب آبادی میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ امید تھی کہ بین گویئر سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے‘۔ انہوں نے بین گویئر کے رویے اور اقدامات کو ’نسل پرستانہ اور  فاشسٹ ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عرب برادری کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔  البتہ اس کا انحصار انتخابات کے بعد ہونے والے جوڑ توڑ  پر ہوگا کہ کون سا گروپ عرب ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رعایت دینے پر آمادہ ہے۔

انتخابات کے انعقاد کے باوجود اسرائیل میں نئی حکومت قائم ہونے میں  طویل مدت صرف ہوسکتی ہے۔ ابھی ساڑھے چار لاکھ کے لگ بھگ ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے۔ اگرچہ ان ووٹوں سے انتخابی نتائج میں کوئی خاص فرق پڑنے کا امکان نہیں ہے لیکن  دونوں سیاسی بلاکوں کی پوزیشن میں کچھ تبدیلی ہوسکتی ہے۔   حتمی انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان ہونے کے بعد سیاسی مذاکرات بلکہ جوڑ توڑ کا آغاز ہوگا۔ نیتن یاہو اور ان کے حامیوں کو امید ہے کہ اس دوڑ میں  انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔ کیوں ماضی  کی مثال لی جائے تو نیتن یاہو اقتدار میں رہنے کے لیے کوئی بھی سیاسی اصول قربان کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔