وزیر اعلی پنجاب توجہ، سفارتی دنیا کی ہل چل
- تحریر محمد مہدی
- جمعرات 29 / اکتوبر / 2026
بستیوں کے بھی اپنے دکھ ہوتے ہیں۔ کچھ دکھ گلیوں میں پڑی گرد میں چھپے رہتے ہیں، کچھ بند نلکوں میں اور کچھ ان زمینوں میں جن پر کبھی بچوں کے کھیلنے، پڑھنے یا عبادت کرنے کے خواب دیکھے گئے تھے۔ وقت گزرتا رہتا ہے، عمارتیں بلند ہوتی رہتی ہیں، مگر خوابوں کی زمین رفتہ رفتہ سکڑنے لگتی ہے۔
ایل ڈی اے ایونیو ون بھی ایسی ہی ایک بستی ہے، جہاں ہزاروں گھروں کے درمیان زندگی تو آباد ہے، لیکن زندگی کی بنیادی سہولتیں کہیں گم ہوتی جا رہی ہیں۔ میں یہ گزارشات وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے بالمشافہ بھی بیان کر سکتا تھا، مگر مقصد تمام متعلقہ اداروں کو بھی احساس ذمہ داری دلانا ہے ہر جگہ پر وزیر اعلی خود نہیں پہنچ سکتی ہے، بس انتظامی مشینری کو فعال ہونا چاہیے۔
ایل ڈی اے ایونیو ون میں صفائی کا حال یہ ہے کہ گلیاں اپنی محرومی کا اعلان کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ پانی کے لیے پائپ لائنیں دو مرتبہ بچھائی گئیں، مگر پانی اب تک اپنی منزل تک نہیں پہنچا۔ یوں لگتا ہے جیسے زمین کے نیچے راستے تو بن گئے، مگر ان راستوں پر چلنے والی زندگی کہیں اور بھٹک گئی اور صرف فائلوں کے پیٹ بھرے گئے۔ آوارہ کتوں کے خوف سے خواتین اور بچوں کا گزرنا دشوار ہوتا ہے۔ گھر رہنے کے لیے بنائے گئے تھے، مگر ان میں سے بعض تجارت کے اڈے بنتے جا رہے ہیں۔ رہائش اور کاروبار کے درمیان جو حد مقرر کی گئی تھی، وہ بھی دھندلا رہی ہے۔ ایل ڈی اے نے ایک کلب بنایا، عمارت بن گئی مگر فعال کرنے کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا کہ کہی مکینوں کو کوئی سکون کا سامان نہ میسر آ جائیں، اسکول کے لیے سترہ کنال زمین مختص کی گئی تھی۔ پھر یہ زمین کہاں گئی، بس اسکول ختم اور تقسیم ہو گئی۔ اس پر طلبا کی آوازیں سنائی دینی تھیں یا پلاٹوں کی قیمتیں بڑھنی تھیں؟ اس سوال کا جواب متعلقہ اداروں ہی کو دینا ہے۔
ایل ڈی اے کے اہلکاروں کے بارے میں بدعنوانی کے جو الزامات سامنے آتے ہیں، انہیں بھی محض شکایت سمجھ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ بلکہ اتنے زبان زد عام ہیں کہ سب کو نام بھی علم ہے۔ مساجد کے لیے آٹھ پلاٹ مختص کیے گئے تھے۔ ان میں سے صرف ایک پر تعمیر ہو سکی مگر اس میں بھی بد انتظامی اتنی کہ مسلکی اختلافات کو بھڑکنے دیا گیا اور اس آگ نے ایسی صورت اختیار کی کہ ایک وقت میں مسجد کو تالا لگانا پڑا۔ عبادت گاہ کا دروازہ بند ہو جائے تو معاملہ صرف اینٹوں اور تالے کا نہیں رہتا،اس کے پیچھے انتظامیہ کی ناکامی اور معاشرے کے باہمی اعتماد میں دراڑ بھی ہوتی ہے۔ اگر تمام مسالک کے لیے مناسب انتظام کیا جاتا اور مختص پلاٹوں پر تمام مسالک کے لئے مساجد تعمیر ہو جاتیں تو مختلف گروہوں کی جانب سے گھروں کو مسجد بنانے اور آنے والے دنوں کے تنازعات سے بچنے کی صورت نکل آتی، مگر ایل ڈی اے حکام کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے چاہے بعد میں کوئی بڑا تنازعہ اس علاقے کی فضا کو مکدر کردے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے امید ہے کہ وہ اس بستی کی آواز سنیں گی۔
یہ سب دیکھتے دیکھتے نگاہ دنیا کے نقشے تک جا پہنچتی ہے۔ وہاں بھی زمینیں ہیں، سرحدیں ہیں، وسائل ہیں اور ان پر اپنے اپنے حق کے دعوے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں پانی کا انتظار ہے اور وہاں امن کا۔ مسلم اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسی بدلتی ہوئی دنیا کی ایک علامت ہے۔ دنیا کے پرانے رشتے ڈھیلے پڑ رہے ہیں اور نئے تعلقات کی گرہیں لگائی جا رہی ہیں۔ مسلم دنیا میں انڈونیشیا جیسے بڑے ممالک کی اپنی اہمیت ہے، لیکن چند ممالک جب ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کا وزن بدل جاتا ہے۔ ان کا اثر وسطی ایشیا سے افریقہ تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس ملاقات نے واضح کر دیا ہے کہ اب مسلم ممالک میں سے کون صف اول میں ہوں گے اور یورپ کا چہرہ کون۔ ایران کی کمی تھی مگر ظاہر ہے کہ موجودہ مشکلات اس کی شرکت کو سر دست نا ممکن بناتی ہیں۔ یورپ بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ کبھی اس کے پاس دولت تھی، منڈیاں تھیں اور دنیا کے دور دراز خطوں تک پھیلا ہوا اثر تھا۔ اب روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور معاشی بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ عوام کو وہ آسائشیں فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے جنہیں کبھی معمول سمجھا جاتا تھا۔
یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ روس یورپ کی بے چینی کا ماسٹر مائنڈ ہے اور یورپ پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یورپ کی یہ بے چینی محض دور کی خبر نہیں۔ ہماری برآمدات، جی ایس پی پلس کی سہولت اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ پھر اب دوبارہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے لئے درخواست دے۔ یورپی منڈیوں میں ہماری جگہ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے وعدوں پر عمل کریں، متعلقہ معیارات پورے کریں اور بدلتی ہوئی ترجیحات کو سمجھیں۔ دنیا کے بازار میں جگہ صرف خواہش سے نہیں ملتی، اعتماد بھی اس کی ایک قیمت ہے۔ ادھر ایران کے معاملے میں پاکستان جنگ کے شعلوں کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، حوثیوں کے مسائل پر گفتگو کے لئے پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کو ایک میز پر لا بٹھایا ہے، ایران میں حالیہ یہ اعلی ترین سطح کا اجلاس اس قضیہ کو نمٹانے کے لئے پاکستان، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بہترین کوشش ہے۔ اسی طرح امریکہ و اسرائیل اور ایران کے جنگی حالات کو رفع کرنے کے لئے اسلام آباد اعلامیے پر عمل درآمد اور مذاکرات میں قابلِ اعتماد ضمانتیں اہم ہیں اور ایران کی یہ خواہش ہے کہ اس پر عمل ہو۔
ایران کا یورینیم کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کی تجویز پر تحفظات رکھنا اس کے سابقہ تجربے سے جڑا بتایا جاتا ہے۔ اس لیے مسئلے کا حل محض ایک پرانا نسخہ دوبارہ آزمانے میں نہیں، بلکہ ایسے سمجھوتے میں ہے جس پر متعلقہ فریق اعتماد کر سکیں۔ ایران کے جوہری موقف میں تبدیلی اور ایٹمی ہتھیاروں کے جواز سے متعلق موجودہ مذہبی قیادت کے فتوے کی اطلاعات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر ایسا کوئی فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس کے اثرات ایران سے آگے تک جائیں گے۔ بیان کیا جا رہا ہے کہ روس وغیرہ سمیت ممالک ایران کو ایسے فتوے کے مضمرات سے آگاہ کرنے کے لئے بہت فعال ہیں ریاستوں کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو کاغذ سے نکال کر زندگی میں کیسے اتارتی ہیں۔ ورنہ بستی ہو یا دنیا، دروازے بند ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ انہیں کھولنے کے لیے البتہ نیت، تدبیر اور انصاف درکار ہوتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)