عقل کے ’خلاف‘ ایک مقدمہ

 میں خود کو عقل پرست سمجھتا ہوں، ہر بات کا منطقی جواز مانگتا ہوں، جو چیز سائنس کی کسوٹی پر پوری نہ اترے اسے رد کر دیتا ہوں۔ لیکن درونِ خانہ حال یہ ہے کہ خود کی زندگی کلیتاً عقل کے تابع نہیں۔

 سگریٹ کی ڈبیہ پر لکھا ہے کہ یہ موت کے قریب لے جاتی ہے مگر کوئی پروا نہیں۔ دن میں چھوٹے بڑے کئی فیصلے کرتا ہوں مگر ہر فیصلہ عقلی نہیں ہوتا، بعض جذباتی بھی ہوتے ہیں، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جذباتی فیصلے غلط ثابت ہوں اور عقلی درست۔ اور سچ پوچھیں تو زندگی میں کیے گئے جذباتی فیصلے زیادہ سود مند ثابت ہوئے۔ ممکن ہے یہ قسمت کی بات ہو۔

سوال یہ ہے کہ کیا صرف عقلی نقطہ نظر سے اِس دنیا سمجھا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہونے لگے تو پھر ہر چیز سے معانی ہی ختم ہو جائیں اور یہ زندگی میکانکی ہو جائے۔ میرا ایک دوست ہے جو خدا کو نہیں مانتا۔ یہ بات وہ چھپاتا بھی نہیں بلکہ موقع ملے تو ذرا اہتمام سے بتاتا ہے۔ اسی دوست نے ایک دن مجھے بتایا کہ وہ ہر ماہ اپنی ماں کی قبر پر جاتا ہے، کچھ دیر وہاں بیٹھتا ہے اور ماں سے ’باتیں کرتا ہے‘ ۔ میں نے پوچھا، تم تو یہ بھی نہیں مانتے کہ وہ سن رہی ہیں۔ کہنے لگا، نہیں مانتا۔ میں نے کہا، پھر؟ کہنے لگا، پھر یہ کہ بولے بغیر رہا بھی نہیں جاتا۔ ایسا شخص جو خدا کے وجود پر منطقی دلائل مانگتا ہے، کائنات کی تخلیق کو سائنس پر پرکھتا ہے اور ہر مسئلے کی پڑتال عقلی بنیاد پر کرتا ہے، وہ ماں کی قبر پر جانے سے پہلے عقل کو تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ اُس کے پاس اِس گتھی کا کوئی جواب نہیں، میرے پاس بھی نہیں۔

میکس ویبر نے کہا تھا کہ سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کوئی کام کیسے ہوتا ہے، یہ نہیں بتا سکتی کہ کون سا کام کرنے کے قابل ہے۔ سائنسی انقلاب نے ایک ایسی دنیا کھڑی کر دی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے۔ بجلی کیوں چمکتی ہے، دل کیوں دھڑکتا ہے، محبت کے وقت دماغ میں کون سا کیمیکل پیدا ہوتا ہے، سب معلوم ہے لیکن اِس کے باوجود روزانہ لاکھوں کروڑوں انسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، کوئی یہ نہیں کہتا/کہتی کہ چونکہ یہ ایک خاص کیمیکل وجہ سے ہو رہا ہے۔ لہذا مشین کی طرح ناک کی سیدھ میں چلتے رہو۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بلبل کو چیر کر اس کے اندر سے نغمہ برآمد نہیں ہوتا بلکہ ایک مردہ پرندہ اور چاقو ہاتھ میں رہ جاتا ہے۔ جدید دور کے مغربی مفکرین کا یہی مطمح نظر ہے مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ عقل کے باغی ہیں، اقبال کی طرح بس یہ اسے کبھی کبھی تنہا چھوڑ دینے کے قائل ہیں۔ یہ عقل کو بتا رہے ہیں کہ وہ وزیر ہے، بادشاہ نہیں۔ وزیر بہت ضروری ہوتا ہے، اس کے بغیر سلطنت نہیں چلتی۔ مگر وزیر کو بادشاہ بنا دو تو سلطنت دفتر بن جاتی ہے، اور دفتر میں کوئی رہنا نہیں چاہتا۔

ابنِ رشد کی کتاب ہے ”فصل المقال فیما بین الحکمۃ و الشریعۃ من الاتصال“ ۔ خدا میرے گناہ معاف کرے، مجھے فصل المقال تک یاد تھا باقی کا نام انٹرنیٹ سے تلاش کر کے لکھا ہے تاکہ قارئین پر رعب پڑ سکے۔ ابن رشد لکھتے ہیں کہ عقل اور وحی میں تضاد نہیں، اگر مذہب سچا ہے اور عقل درست استدلال کے ذریعے کسی حقیقت تک پہنچتی ہے تو دونوں میں حقیقی تضاد نہیں ہو سکتا۔ ان کا مشہور اصول ہے، سچ، سچ کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی قرآنی آیت کا ظاہری مفہوم قطعی عقلی دلیل سے متصادم نظر آئے تو اس کی مناسب تاویل کی جا سکتی ہے کیونکہ وحی اور ثابت شدہ حقیقت ایک دوسرے کی نفی نہیں کر سکتے۔ اور میرا پسندیدہ اصول جو ابنِ رُشد نے بتایا کہ ہر شخص کی سمجھ یکساں نہیں، بعض لوگ دلائل و براہین سے حقیقت سمجھتے ہیں، بعض جدلی استدلال سے اور بعض تمثیل اور خطابت سے، اس لیے پیچیدہ فلسفیانہ مباحث ہر شخص کے لیے موزوں نہیں۔ مختصراً یہ کہ مذہب انسان کو حقیقت بتاتا ہے اور فلسفہ عقل کے ذریعے اسی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسری طرف امام غزالی کہتے ہیں کہ انہوں نے حواس اور عقل کی فراہم کردہ معلومات پر بھی شک کیا کیونکہ حواس دھوکا دے سکتے ہیں اور عقل کی حدود بھی ہو سکتی ہیں۔ اُن کے مطابق حقیقی علم وہ ہے جس میں شک کی گنجائش نہ رہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ شدید فکری بحران سے انہیں محض منطقی دلائل نے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دل میں پیدا ہونے والے نور نے نجات دلائی۔ غزالی، ریاضی اور منطق کی افادیت تسلیم کرتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں کہ فلسفی مابعد الطبیعیات کے بعض سوالات میں یقینی علم کا دعویٰ درست طور پر ثابت نہیں کر پاتے۔ خدا کی طرف سے نور ملنے کے بعد غزالی نے عقل کو طلاق نہیں دی بلکہ اسی عقل سے فلاسفہ پر وہ تنقید لکھی جس کا جواب دینے میں ابن رشد کی عمر کا ایک حصہ لگ گیا۔ غزالی نے عقل کو تخت سے اتارا، گھر سے نہیں نکالا۔ بنیادی مقدمے پر واپس آتے ہیں، کیا اِس بے ہنگم، بے ربط اور لا تعلق دنیا کو محض عقل کی بنیاد پر سمجھ کر زندگی سمجھی اور گزاری جا سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ ایک کے پاس مے ہے، جام نہیں، دوسرے کے پاس جام ہے مے نہیں۔ لیکن یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ عقل کے ’خلاف‘ مقدمہ عقلی دلائل کی بنیاد پر ہی بُنا جا رہا ہے۔

مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں نے یہ سارا مضمون محض اپنی تمباکو نوشی کو جواز دینے کے لیے لکھا ہے۔ چونکہ ہر بات کی عقلی تاویل درست نہیں لہذا سگریٹ پینے میں کوئی حرج نہیں حالانکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ کس قدر کھوکھلی بات ہے۔ لیکن میرا دوست؟ اُس کی بات اور ہے۔ وہ اس ماہ پھر اپنی ماں کی قبر پر جائے گا۔ اس کی عقل جانتی ہے کہ وہاں کوئی نہیں سن رہا، عقل کا جام خالی ہو گا، مے اسے قبر پر ملے گی۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)