6 ارب ڈالر سے زائد کرپٹو کرنسی کی چوری
کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے ایک ایسے سائبر حملے سے متاثر ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک ثابت ہو سکتا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج نے بتایا کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔‘
بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں حملہ آور کو غیر مجاز طور پر رقوم منتقل کرنے کا موقع ملا۔
دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔ یہ حملہ 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری کے ریکارڈ سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائنانس پر حملے کی کئی خصوصیات ماضی کے شمالی کوریا سے منسلک سائبر حملوں، بشمول بائی بٹ ہیک، سے مشابہت رکھتی ہیں۔
ٹی آر ایم لیبز کے عالمی سربراہ برائے پالیسی ایری ریڈبورڈ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بائنانس پر حملہ ’ایک اہم موڑ‘ ہے اور اس نوعیت کا واقعہ ماضی میں کرپٹو صنعت نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور اب بھی چوری شدہ اثاثوں کی ایک بہت بڑی مقدار اپنے قبضے میں رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رقوم کا سراغ لگانے اور انہیں واپس حاصل کرنے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔
ایک اور کرپٹو تجزیاتی کمپنی چین اینالیسس نے بھی کہا ہے کہ اسے ’بہت زیادہ یقین‘ ہے کہ شمالی کوریا کا یہی گروہ اس حملے میں ملوث ہے۔ چین اینالیسس کے سربراہ برائے تحقیق ایرک جارڈین نے تمام کرپٹو ایکسچینجز کو چوکس رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پلیٹ فارمز پر موجود اثاثوں کی بھاری مالیت انہیں ہیکرز کے لیے انتہائی پرکشش ہدف بناتی ہے۔
بائنانس نے بی بی سی کے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا جن میں حملے کے شمالی کوریا سے ممکنہ تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ تاہم کمپنی نے کہا ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں تاکہ ان مجرموں کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘
یہ واقعہ بائنانس ڈاٹ کام سے متعلق ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹے پلیٹ فارم بائنانس ڈاٹ یو ایس نے کہا ہے کہ امریکی صارفین کو خدمات فراہم کرنے والا اس کا پلیٹ فارم اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوا۔