ملتان کا تاریخی ورثہ کیفے لائبریری اور بدلتا ملتان

1954 میں قائم ہونے والی میونسپل کارپوریشن ملتان کی لائبریری کو اب ایک نیا رنگ دے دیا گیا ہے۔ کئی ماہ وسال کی گرد کو جھاڑ اور کہنہ سالی کے آ ثار اتار کر اس کو نیا رنگ و روپ دے کر لائبریری کا نیا اور روشن اجلا چہرہ نکھارا گیا ہے۔

اس روشنی اور نکھار میں شمس رح کے شہر کے شمس نما کمشنر ملتان جناب عامر کریم خان کا مرکزی کردار ہے۔ تاریخی ورثہ اور اولڈ سٹی ملتان نے بھی اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے اور اب اس قدیم تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک جدید کیفے کی صورت قدیم اور جدید حسن کا امتزاج بھی نظر آ نے لگا ہے۔

جناب نجم الثاقب اور جناب عامر کریم خان نے یہ نوید بھی دی ہے کہ سی ایم پنجاب محترمہ مریم نواز نے ملتان کے تاریخی اور ثقافتی قلعہ دمدمہ فصیل اور نگار خانہ کےلئے 5 ارب کا خطیر فنڈ بھی دیا ہے، جس سے بدلتے ملتان کا ایک اور حسین منظر سیاحوں اور دوسرے شہروں سے آ نے والوں کے لئے دلکشی اور دلچسپی کا باعث بنے گا۔ اس لائبریری میں مقابلے کے امتحان کی تیاری کرنے والوں کے لئے بھی ایک خاص گوشہ مختص ہوگا، جب کہ نسل نو کو لائبریری اور کتاب سے جوڑنے کی یہ ایک اچھی کوشش ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ادیبوں، شاعروں۔، دانشوروں صحافیوں اور اہل قلم کے لئے یہ اس وقت گوشہ عافیت ثابت ہوگا، جب لائیبریری کے اوقات کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ کیفے کے مہتتم جناب خواجہ جواد رعائتی اور خصوصی ہیکج کا انتظام بھی کریں گے۔

کمشنر ملتان نے اہل قلم کو ادب کا سفیر قرار دیتے ہوئے توقع کی ہے کہ وہ اس تاریخی اور جدید لائبریری کی رونق کو دوبالا کریں گے اور جس طرح ملتان کے اہل قلم اور میڈیا نے تقریب کو سجانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہ اس لائبریری کی ویرانی کو بھی دور کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ویرانے میں بہار لانے کے لئے جناب عامر جریم خان گاہے بگاہے کیفے لائبریری کا وزٹ کر رہے ہیں اور یہاں آ نے والے ادیبوں اور صحافیوں کی دلجوئی بھی کر رہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کی اس قدیم لائیبریری میں کتب کی تعداد میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ راقم نے افتتاحی تقریب میں مختلف موضوعات پر مبنی سو کتابوں کا تحفہ دیا ہے اور باقی اہل قلم بھ اس کار خیر میںں حصہ ہے رہے ہیں۔

ایم پی اے سلمان نعیم نے بھی کمشنر ملتان جناب عامر کریم خان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس تاریخی لائبریری کیفے کے قیام کو ملتان کی اہم شناخت قرار دیا ہے۔ شاکر حسین شاکر اور دیگر اہل قلم کی تجویز پر کمشنر ملتان اور خواجہ جواد نے اہل قلم کے لئے خصوصی پیکج کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہی وجہ یے کہ ادیبوں اور صحافیوں اور رات کے راہیوں کی طرف سے بزم شب اور محفل آ رائیاں شروع ہو چکی ہیں۔ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں چائے خانوں اور کتاب بینی کی بہت اہمیت ہے۔ شام کے اوقات میں لائیبریری کھولنے سے رونق اور بڑھے گی۔

ملتان کے سئنیر اور نمائندہ اہل قلم کے علاوہ معروف سیاسی اور عوامی نمائندوں اور صحافیوں کی افتتاحی تقریب میں بھرپور نمائندگی رہی، جس کی صدائے بازگشت اب تک سنائی دے رہی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز نے بھی اس تقریب کی بھرپور کوریج کی۔ South Pulse digital channel کی اینکر پرسن مس سوہیرا رانا نے اپنے چینل کی طرف سے بھرپو کوریج کرتے ہوئے لائبریری کا مکمل تعارف کرایا ہے۔ جبکہ اسٹنٹ کمشنر جناب فہد اریب اور پی آر او کمشنر محترمہ ارم سلیمی اور ان کی ٹیم بھی اس حوالے سے خاصی فعال رہی ہے۔

اب جبکہ تاریخی قلعہ شہریوں کی دلچسپی بڑھنے سے رونقیں بحال ہو گئی ہیں تو ہمیں بھی اہنے ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لئے اپنا بھرپور اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ بدلتے ملتان کی ایک اور پہچان ملتان ایونیو پر گندھارا آ رٹ کے سنگل شطرنج شاہکار کا نصب ہونا ہے جس کی اونچائی 11.40 فٹ ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا اور ایشیا کا سب سے بڑا شاہکار ہے، جسے ملتان کی شناخت بنانے اور دنیا میں متعارف کرانے کے لئے کمشنر ملتان محترم عامر کریم خان نے گینز بک ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرانے کے لئے کوششیں شروع کی ہیں۔

حقیقت ہے کہ ملتان بدل رہا ہے اور ان بدلتے رنگوں میں کمشنر ملتان عامر کریم خان کی ذاتی دلچسپی اور کاوشیں قابل تقلید اور لائق تحسین ہیں۔