پنجاب پولیس،اک گورکھ دھندہ

خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایک میٹنگ میں پولیس کے متعدد اعلیٰ افسروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور آئی جی پنجاب کو ایک ماہ کے اندر صورتحال بہتر بنانے کا ٹاسک دیا ہے۔

ساتھ ہی یہ اختیار بھی سونپ دیا ہے کہ جو پولس افسر کارکردگی بہتر نہیں بناتے، اُن کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ ان افسروں میں اضلاع کے ڈی پی اوز اور کئی ڈویژنوں کے آر پی اوز بھی شامل ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب وزیراعلیٰ نے اپنے ایک خطاب میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب میں جرائم کم ہو گئے ہیں،تو اس پر سوالات اٹھتے تھے۔کیونکہ جرائم تو کم ہوتے ہی نہیں، غالباً اسی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک اپنے ذرائع سے معلومات اکٹھی کیں،جن میں یہ بات سامنے آئی کہ اکثر اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہے اور پولیس افسروں کی کارکردگی نہ صرف ناقص ہے بلکہ اُن کی سرگرمیاں بھی جرائم کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔

ویسے یہ بھی ایک بہت بڑا ڈھکوسلا ہے کہ جرائم کی تعداد کم دکھائی جائے، جرائم کا اندازہ درج ہونے والی ایف آئی آر سے ہوتا ہے۔یہی کاریگر ایس ایچ اوز اور پھر ضلع کے ڈی پی اوز تک یہ تکنیک استعمال کرتے ہیں کہ ایف آئی آر ہی میں درج نہیں ہونے دیتے۔ آپ ذرا سوچیں جب ضلع کے ڈی پی او کو بھی یہ فکر ہو کہ جرائم کی شرح زیادہ نظر نہیں آنی چاہئے تو وہ کیسے اس بات پر عمل کرائے گا کہ ایف آئی آر بلا توقف و سفارش درج ہونی چاہئے۔ وہ تو ایس ایچ اوز کی خود منتیں کرے گا، اللہ کے بندو ایف آئی آر مجھ سے پوچھ کے درج کرنا اور گراف اوپر نہ جانے دینا۔ آپ اگر ایف آئی آر کے فارم پر نظر ڈالیں تو اس میں ایک جگہ لکھا ہوتا ہے کیا ایف آئی آر بروقت درج کی گئی تو آگے جواب لکھا جاتا ہے، ’بلا توقف‘۔  حالانکہ اس بلا توقف تک پہنچنے کے لئے مسائل کو نجانے کتنے مرحلوں سے گزر نا پڑتا ہے۔

سب سے مشکل کام ڈکیتی کا پرچہ درج کرانا ہے، اسے چونکہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، اس لئے پولیس والے لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔چوری یا گمشدگی کا پرچہ درج کرانے کی راہ دکھاتے ہیں۔ ایف آئی آر کا مطلب ہے جرم کی پہلی اطلاع، فرسٹ انفارمیشن رپورٹ، مگر پولیس اسے کیوں درج نہیں کرتی؟اس میں پہلی رکاوٹ یہی ہوتی ہے کہ تھانے یا ضلع کا کرائم ریٹ نہ بڑھ جائے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ ہوتی ہے کہ ایف آئی آر کے بعد کارروائی کا مرحلہ شروع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ آج کل دعوے تو یہ کئے جاتے ہیں کہ15 پر کال کے بعد پولیس دو سے پانچ منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہے مگر حقیقت اس کے بہت برعکس ہے۔ اکثر اوقات گھنٹہ  تو دو گھنٹہ لیٹ بھی آ جائے تو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ابھی تو شکر ہے15 پر کال فوراً اُٹھا لی جاتی ہے،کم از کم متاثرہ آدمی کو تسلی ہو جاتی ہے، میں نے پولیس کو کال کر دی ہے۔ جرائم کو کم دکھانے کی یہ تکنیک درحقیقت ایک ایسا دھوکہ ہے جو مجرموں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔

امن و امان اور جرائم کی کمی تو ایک پہلو ہے۔ دیگر پہلو بھی عوام کے لئے شدید پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی بھی پولیس کی ذمہ داری ہے بلکہ ایک زمانے میں تو یہ کہا جاتا تھا پولیس نظام انصاف کی پہلی سیڑھی ہے،اس پہلی سیڑھی تک پہنچنے کے لئے عوام کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، کتنی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے،اس کا اندازہ پولیس افسروں کی کھلی کچہریوں سے لگایا جا سکتا ہے، جن میں لوگ یہی شکایت لے کر  پہنچتے ہیں کہ فلاں تھانیدار یا فلاں ایس ایچ او انہیں انصاف نہیں دے رہا ۔ اور رشوت لے کر دوسرے فریق کی حمایت کر رہا ہے۔ہزاروں لوگ پولیس تفتیش سے متاثر ہوتے ہیں اور اُن کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ کبھی کسی ڈی پی او، سی پی او سے حکومت نے یہ سوال نہیں کیا، اُن کے تھانوں،انویسٹی گیشن برانچ میں کتنے مقدمات یا لوگوں کی درخواستیں تفتیش کے لئے پڑی ہیں۔ بس سوال یہ کیا جاتا ہے آپ کے ضلع یا ڈویژن میں جرائم کا گراف کیوں بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ سوال یہ ہونا چاہئے آپ نے ایک ماہ میں کتنے لوگوں کو انصاف فراہم کیا، کتنے لوگوں کے مقدمات عدالتوں میں بھجوائے اور کتنے مقدمات میں ملزموں کو سزائیں دلوائیں۔

اس پہلو پر جوابدہی کا عمل شروع کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ افسروں کی اس طرف توجہ ہی نہیں، حالانکہ سب سے زیادہ زیادتی اور رشوت کی شکایات اسی شعبے میں ہیں۔یہ بڑی اچھی بات ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز، پولیس کے اعداد و شمار اور سپیشل برانچ کی رپورٹوں پر انحصار نہیں کر رہیں۔ وہ اطلاعات کے دیگر ذرائع استعمال کر کے اضلاع اور ڈویژنوں میں تعینات افسروں کی کارکردگی جانچ رہی ہیں۔ شاید اس طریقے سے کچھ بہتری آ جائے، وگرنہ تو محکمہ پولیس اتنا بڑا گورکھ دھندہ ہے کہ اسے راہِ راست پر لانا اونٹ کو بکری بنانے کے مترادف ہے۔

ایک زمانہ تھا ضلع میں صرف ایک ایس ایس پی ہوتا تھا، جسے اب پولیس آرڈر کے ذریعے کہیں ڈی پی او اور کہیں سی پی او کہا جاتا ہے۔اُس کے نیچے ایک ایڈیشنل ایس پی ہوتا تھا۔ باقی اے ایس پی اور ڈی ایس پی کام کرتے تھے۔ انویسٹی گیشن کے شعبے کا ایس پی بااختیار تھا اور اُس کے ساتھ ایس پی یا ڈی ایس پی لیگل معاون ہوتے ہیں۔ پولیس تفتیش بھی ٹھیک ہوتی تھی اور ضلع میں کرائم ریٹ بھی بہت زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ معاملہ بہت پھیل چکا ہے لیکن کارکردگی گھٹ گئی ہے۔ مرکزیت ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اکثر سائلوں کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر فٹ بال بنا دیا جاتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں جتنے در ہوں گے اتنے ہی مانگنے والے بھی ہوں گے۔ بات صرف ڈی پی او یا سی پی او کی نہیں ہوتی، نہ ہی اُس کے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ ہوتا ہے کہ ہر معاملہ حل کر سکے۔وہاں یہ ذمہ داری اُس پر ڈال دی گئی ہے کہ وہ ضلع کی پولیس کے ہر معاملے پر نظر رکھے اور جہاں کہیں کوتاہی نظر آئے،اُس کے خلاف کارروائی کرے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ڈی پی او اتنا باختیار ہوتا ہے کہ اپنے ہی ماتحتوں سے اُلجھ جائے جبکہ ہر ماتحت کے پیچھے کوئی نہ کوئی طاقتور ہاتھ بھی ہوتا ہے۔اس لئے حکومت کو یا تو ڈی پی او اور سی پی او کو اس معاملے میں فری ہینڈ دینا چاہئے یا پھر کم از کم ایس پی رینک کے اُن افسروں کی کارکردگی بھی خود مانیٹر کرنی چاہئےجو اضلاع میں مختلف حیثیتوں میں تعینات ہیں۔ خاص طور پر انویسٹی گیشن میں تعینات ایس پی صاحبان پر نظر رکھنے کا کوئی طریقہ ضرور وضع کرنا چاہئے تاکہ اندازہ ہو سکے تھانوں میں مقدمات اور درخواستوں کی تفتیش کا بنتا کیا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)