کیا اسرائیل میں بی بی کا وقت ختم ہؤا؟

درویش انگلینڈ کے سٹڈی ٹور میں ضرور کھویا ہوا ہے لیکن عالمی حالات اور تبدیلیوں سے بے خبر نہیں۔ بالخصوص حال ہی میں اسرائیلی انتخابات اوران کے نتائج، جو اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو کے لیے نہ صرف پریشانی و تشویش کا باعث بنے ہیں۔

بلکہ عین ممکن ہے کہ ان کی طویل حکمرانی کا دھڑن تختہ ہو جائے۔ 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں نیتن یاہو کی قیادت میں قائم اتحاد کو کل 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ ان کے مخالف آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد کو 48 اڑتالیس نشستیں ملی ہیں۔ اور پہلی بار عرب اتحاد کو 19 نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ درویش کو اس امر کا کوئی امکان نہیں دکھتا کہ عرب اتحاد نیتن یاہو کی طرف جائے، اس لیے کہ ان لوگوں نے تو اپنی پوری انتخابی مہم چلائی ہی اس ایک پوائنٹ پر تھی کہ نیتن یاہو کو پرائم منسٹر کے عہدے سے فارغ کرنا ہے۔ نیتن یاہو کی اپنی لیکوڈ پارٹی نے 2022 کے انتخابات میں 32 نشستیں حاصل کی تھیں۔ بطور پرائم منسٹر اپنی اچھی خاصی بہتر کارکردگی کے باوجود کیا وجہ ہے کہ نیتن یاہو کی اپنی پارٹی ان انتخابات میں اپنی سابقہ پانچ قیمتی نشستیں گنوا بیٹھی ہے؟

سیاسی طور پر ان کے اوپر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ ان کی حکمرانی میں 7 اکتوبر 2023 کو جب حماس نے اسرائیل پر خونخوار حملہ کیا جس میں 1200 اسرائیلی شہری قتل کر دیے گئے اور ڈھائی سو سے زائد کو یرغمالی بنا کر غزہ لے جایا گیا۔ عین اس وقت نیتن یاہو کی حکومت کہاں تھی؟ اتنی بڑی واردات سے ان کی بےخبری انٹیلیجنس ناکامی ہی نہیں بلکہ ناقابل معافی مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے۔ جنرل آئزن کوٹ کی قیادت میں نیتن یاہو مخالف اتحاد کا سب سے بڑا انتخابی نعرہ یہی تھا کہ اس ناقابل معافی ناکامی پر نیتن یاہو پرائم منسٹر کے عہدے پر برقرار رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ اس سفاکانہ حملے میں اپوزیشن لیڈر آئزن کوٹ کا اپنا بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو کے ہٹنے سے آئزن کوٹ کی وزارت عظمیٰ سے اسرائیل کی حماس یا ایران مخالف پالیسی میں کمی آ جائے گی، درست تجزیہ نہیں ہے۔ لیکن ان دونوں کے لیے اہم مسئلہ عرب اتحاد ہے جو اپنی 19 نشستوں کے ساتھ ایک تیسری طاقت بن کر کھڑم ہو گیا ہے۔

اگر یہ عرب اتحاد یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو بادشاہ گر کا رول ادا کر سکتا ہے۔ دونوں بڑے اتحادوں میں سے یہ لوگ جس کے ساتھ بھی تعاون کریں گے، وہ اقتدار میں آ سکتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں دیگر خدشات سے انکار نہیں جن میں اولین یہ کہ راسخ العقیدہ یہودی پارٹیاں کسی بھی بڑے اتحاد کے عرب اتحادی اشتراک پر اس سے الگ ہو کر دوسری طرف جا سکتی ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل درویش کے قارئین و ناظرین پر واضح ہو کہ اسرائیل کا پارلیمانی انتخابی پراسس عام روایتی چلن سے ہٹ کر ہے۔ جو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر قائم ہے، جس میں پورا ملک حلقہ انتخاب ہوتا ہے جبکہ سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کی فہرست پیش کرتی ہیں۔ ووٹ افراد کو نہیں پارٹیوں کو ملتے ہیں، جس پارٹی کو جتنے ووٹ ملیں، اسی تناسب سے انہیں نشستیں مل جاتی ہیں۔ یہ شرط بھی عائد ہے کہ اگر کوئی پارٹی انتخابی عمل میں ڈالے گئے ووٹوں کا ساڑھے تین فیصد بھی حاصل نہیں کر پاتی تو اسے آؤٹ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اسے کوئی ایک بھی نشست نہیں مل سکتی۔

اس مشکل جمہوری پراسس کی وجہ سے اسرائیل قائم ہونے کے بعد 14 مئی 1948 سے لے کر آج تک چھبیس الیکشن منعقد ہو چکے ہیں۔ پہلے انتخابات 25 جنوری 1949 کو منعقد ہوئے اور کبھی کسی بھی پارٹی کو کسی انتخاب میں تنہا حکومت بنانے میں کامیابی نہیں مل پائی۔ ہر پارٹی کو دوسری ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت میں جانا پڑتا ہے۔ نیتن یاہو اس سے پہلے بھی دو مرتبہ پرائم منسٹر کی ذمہ داری پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے راسخ العقیدہ یا بنیاد پرست یہودیوں سے اچھے تعلقات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اسرائیلی سیکیورٹی ذمہ داری سے ایک حد تک استثنا بخش رکھا ہے۔ حالانکہ اسرائیلی ضوابط کے مطابق تمام شہریوں پر کسی نہ کسی حد تک یہ ذمہ داری ادا کرنا لازم ہے۔ بالخصوص ایمرجنسی کال پر سب کو حاضر ہونا پڑتا ہے۔ امریکا سے تعلیم یافتہ منجھے ہوئے سیاستدان کی پہچان کے باوجود نیتن یاہو پر شدت پسندی کا الزام عائد ہوتا ہے جنہوں نے عرفات کے ساتھ پرائم منسٹر اسحاق رابن کے پیس پروسس کی اتنی مخالفت کی تھی کہ ردعمل میں ایک شدت پسند یہودی نے نوبل پرائز کے حامل پرائم منسٹر اسحاق رابن کوپریذیڈنٹ انور سادات کی طرح قتل کر ڈالا تھا۔

پرائم منسٹر کے عہدے پر قائم رہنے کے لیے نیتن یاہو کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنے مخالف اپوزیشن اتحاد کی کچھ پارٹیوں کو توڑیں جو اسی صورت میں ممکن ہے جب آئزن کوٹ عرب اتحاد کا تعاون حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔ ایک صورت یہ بھی بنتی ہے کہ عرب اتحاد کی کامیابی کے خوف سے دونوں بڑے اتحاد مشترکہ طور پر ایک قومی حکومت قائم کرلیں۔ ایسی صورت میں زیادہ نقصان آئزن کوٹ کی سیاست کو پہنچے گا۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی بھی اتحاد حکومت نہ بنا سکے۔ ایسے میں پارلیمانی ضوابط کے مطابق نیتن یاہو نگران پرائم منسٹر کے طور پر ایک نسبتاً کمزور پرائم منسٹر کی حیثیت سے اپنے عہدے پر قائم رہ سکتے ہیں۔ بالفرض ایسی صورت میں سو دن بعد دوبارہ نئے انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو درویش کو نہیں دکھتا کہ وہ نتائج موجودہ نتائج سے زیادہ مختلف آئیں گے کیونکہ ما قبل 2019 سے لے کر 2022 تک صرف ساڑھے تین سالہ عرصے میں پانچ مرتبہ انتخابات منعقد کروانے پڑے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ سیاسی جماعتیں اس پراسس سے گزرتے ہوئے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر پائی تھیں۔ اور اب کے بھی بہت زور لگایا گیا ہے بلکہ امریکی پریذیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اپنے سر خود ہی یہ کریڈٹ باندھا ہے کہ میری وجہ سے یہ نشستیں بھی ملی ہیں۔ میں نے بہت زیادہ اس کی حمایت میں ٹویٹ کیے، ورنہ اس کو اس سے بھی زیادہ بری حالت کا سامنا کرنا پڑتا۔

لہٰذا عوامی منڈیٹ جو بھی آیا ہے، اسرائیلی سیاست کو اسے قبول کرتے ہوئے ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ پورے مڈل ایسٹ کی آمریتوں میں واحد اسرائیلی ڈیموکریسی، اسرائیل کی اصل عظمت ہے جس پر اس کی تحسین تو بنتی ہے۔