ایران امریکہ امن معاہدے پر پیش رفت
خبر رساں ادارے العربی الجدید کے مطابق دوحہ میں ایرانی نمائندوں اور قطری ثالثوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت سامنے آئی ہے اور اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی پر اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا ہے۔
اس سے پہلے پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ احمد شریف بھی ایران امریکی معاہدے کے بارے میں محتاط امیکد ظاہر کرچکے ہیں۔ انہوں نے روئیٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امن معاہدہ کے امکانات موجود ہیں۔
تازہ رپورٹ میں ثالثوں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک امریکی وفد ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچے گا۔ یہ پیش رفت قطری ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان تقریباً 12 گھنٹے طویل بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب ایگزیوس کے مطابق دوحہ میں مذاکراتی عمل جاری ہے اور قطری ثالث اس دوران مسلسل وائٹ ہاؤس سے رابطے میں رہے۔
ایگزیوس کے نامہ نگار بارک راوید نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم قطری ثالثوں کے ہمراہ دوحہ واپس روانہ ہوئی ہے۔
اس دوران ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کی مکمل تیاری اور جنگی آمادگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو درپیش کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مسلح افواج کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں جغرافیائی حدود کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ کارروائی کرتے ہیں تو ایران ان کے جواب کا وقت، نوعیت اور طریقۂ کار خود طے کرے گا۔ ملاقات کے دوران ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام نے ملکی سلامتی، سرحدی صورتحال اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔
دریں اثنا پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک انٹرویو میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے ’محتاط امید‘ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ روئٹرز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان یمن کے اندر فریقین کے آپسی تنازعے کا حصہ نہیں۔
رواں ہفتے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ تہران کے بعد یہ پاکستان فوج کے ترجمان کا یہ پہلا انٹرویو ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان اب آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی پاکستانی کوششوں میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔