پاکستان نے مولانا کو کیا دیا؟

خواجہ آصف وغیرہ کو مقطع سنانے کی حد تک بات رہتی تو بات اور تھی لیکن مولانا تو ریاست پر ہی ”تھو“ کرنے لگ گئے۔ ایک رپورٹر نے شکوے کے انداز میں مولانا نے سوال کیا کہ مولانا آپ نے ریاست پر” تھو  “ کا  لفظ استعمال کیا ہے  حالانکہ ریاست نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔

مولانا نے غصے سے جواب دیا:  ریاست نے مجھے کیا دیا ہے؟ مولانا کا یہی سوال اس وقت میرا موضوع ہے کہ ریاست نے مولانا کو آخر دیا ہی کیا ہے؟ سوچ رہا ہوں ابولکلام آزادصاحب کے ہندوستان میں دیوبند کا کوئی رہنما، کیا اسی جلال کے ساتھ یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ ریاست پر  ”تھو“؟ کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ وہاں یہ کہے: ریاست ہندوستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟

یہ حریت فکر اگر اکابرین کو دیوبند نے دی ہے تو اس کا اظہار وہاں کیوں نہیں ہو پا رہا؟ اور اگر یہ پاکستان نے دی ہے تو اعتراف کر لینے میں کیا حرج ہے؟ یہاں مولانا  کا راج سدا بہار ہے۔ کبھی پی ڈی ایم کے سربراہ ہوتے ہیں، کبھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہوتے ہیں، خود بھی ایوان میں، ان کا صاحبزادہ بھی ایوان میں، ان کے بھائی  محترم عطا الرحمن بھی سینیٹر، ان کے سمدھی حاجی غلام علی صاحب پہلے ناظم ضلع پشاور اور پھر گورنر، سمدھی کا بیٹا زبیر علی ضلع ناظم پشاور، مولانا کے دوسرے بھائی لطف الرحمن صوبائی ایوان میں قائد حزب اختلاف، تیسرے بھائی ضیا الرحمن صاحب پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینیر تھے، بغیر سی ایس ایس کیے ڈپٹی کمشنر  بنا دیے گئے کیونکہ صوبے میں اسلامی انقلاب آیا ہوا تھا۔ اور وزیر اعلی نے انہیں سول سرونٹ قرار دے دیا، سول سرونٹ صاحب پھر ایک وقت آیا ڈی سی بن گئے۔ مولانا کی سالی شاہدہ اختر علی صاحبہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی، دوسری سالی نیر سلطانہ صاحبہ بھی رکن قومی اسمبلی، تیسری سالی ریحانہ اسماعیل صاحبہ دو مرتبہ  ایم پی اے۔۔۔۔۔ کیسے کیسے مناصب مختلف اوقات میں مولانا کے گھرانے  میں رہے لیکن وہ کہتے ہیں ’’ریاست نے انہیں دیا ہی کیا ہے“۔

یہاں نازو ادا کا یہ عالم ہے کہ مولانا فرماتے ہیں:  ”ہمارے بغیر کوئی حکومت بن نہیں سکتی، بن جائے تو چل نہیں سکتی“۔ ادھر بھارت کی سیاست میں دیوبند کا کہیں کوئی قابل ذکر وجود ہے تو بتائیے؟ عالم یہ ہے کہ دیوبند کا اپنا حلقہ بھی بی جے پی جیت رہی ہے اور دارالعلوم کے اکابرین کے صاحبزادے عمیر مدنی صاحب کو صرف تین ہزار پانچ سو ایک ووٹ ملتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 70 فیصد ہے۔ اس علاقے میں کھڑے ہو کر بی جے پی کا برجیش سنگھ کہتا ہے کہ ہم بہت جلد اس علاقے کا نام دیوبند سے بدل کر’دیو ورند‘ رکھ دیں گے۔ وہاں بھی تو کوئی اٹھے ا ور اسی جلال کے ساتھ بھارت کی ریاست پر ”تھو“ کرنے ہی ہمت کرے۔  وہاں عالم یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اکابرین منمناتے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں مودی جی ساری حریت فکر ہی نہ لپیٹ دیں اور یہاں عالم ناز یہ ہے کہ جو اٹھتا ہے ریاست کو سینگوں پر لے لیتا ہے؟ آپ کے حکومت سے یا اسٹیبلشمنٹ سے مسائل ہیں تو شوق سے حساب کتاب پورے کیجیے لیکن ایسا بھی کیا غصہ کہ ریاست پر آپ ”تھو“ کرنے لگ جائیں؟

یہاں یہ حال  ہے کہ جے یو آئی کے لیے جو بھی فرد کسی بھی درجے میں چیلنج بنتا نظر آئے، وہ کھڑے کھڑے یہودی ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ جے یو آئی سید مودودی کو چیلنج سمجھے تو ’ایک مودودی سو یہودی‘ کا نعرہ سامنے آتا ہے، اس کے لیے عمران خان چیلنج بنیں تو وہ ’یہودی ایجنٹ‘ قرار پاتے ہیں اور مولانا شیرانی جے یو آئی سے راستے الگ کریں تو ان پر ’جمعیت علمائے  اسرائیل‘ کی پھبتی کسی جاتی ہے۔ مولانا جسے چاہیں، جب چاہیں اور جہاں چاہیں للکارتے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ دوسری جانب بھارت کے اہل دیوبند ہیں، خوف نے جن کی قوت گویائی تک سلب کر رکھی ہے۔ پاکستان کے مولانا تو ہر حکمران اور اسٹیبلشمنٹ سمیت امریکہ اور روس کو بھی للکار لیتے ہیں۔ لیکن بھارت کے مولانا بی جے پی کی فسطائیت پر بھی زبان نہیں ہلا پاتے۔ پاکستان کی دیوبندیت عزیمت اور للکار ہے تو بھارت میں یہ نری فدویت اور بے بسی ہے، جو ہر دم  ہاتھ باندھے نیک چلنی کی یقین دہانیاں کراتی پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں جے یو آئی کے اراکین پارلیمنٹ لاجز میں گرفتار ہو جائیں تو مولانا اپنے جاہ و جلال کے ساتھ آ پہنچتے ہیں کہ ’اب ہمت ہے تو مجھے بھی گرفتار کرو‘ اور دیوبند کے ضلع سہارن پور میں دارالعلوم کے طلبہ کو بسوں سے اتار کر ان کے سر مونڈ دیے جائیں یا مسلمانوں کے لیے زندگی اجیرن ہو جائے، تحریک دیوبند نیاز مندانہ احتجاج سے آگے نہیں بڑھتی۔

پاکستان میں تھوڑی اونچ نیچ ہو جائے مولانا یوں جلال میں آتے ہیں کہ ان کی ہیبت سے پورا ملک اور طاقت کے سارے مراکز لرز اٹھتے ہیں۔ لیکن بھارت میں مسلم لہو بھی ارزاں ہو جائے تو دیوبند کے حجروں اور راہداریوں میں سناٹے طاری رہتے ہیں۔ دیوبند کی سیاسی تحریک کا جو جاہ و جلال پاکستان میں ہے، اس کا عشر عشیر بھی بھارت میں نہیں۔ بھارتی لوک سبھا میں کبھی کوئی ایسی آواز اٹھی ہو جو تحریک دیوبند کی عزیمت کی یاد تازہ کر دے تو بتا دیجیے۔ کسی سے شکوہ ہے تو مولانا کا حق ہے اظہار کریں، ن لیگ کو اپنی خدمات گنواتے ہیں تو یہ بھی ان کا حق ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہیں تو شوق سے اس کا اظہار کریں  لیکن ریاست پر ”تھو“‘ کیوں کر رہے ہیں؟

ریاست کا اس میں کیا قصور ہے۔ یہ سیاست اگر گندی ہے تو آپ سب نے مل کر کی ہے۔ جے یو آئی کون سی دودھ کی دھلی ہے؟ عالم یہ ہے کہ کارکنان سڑکوں پر بیٹھے ہوتے ہیں اور مولانا اپنے رفیق کار کے ساتھ جنرل باجوہ کے گھر ملاقات فرمانے چلے جاتے ہیں۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں کیا کارکنان کو بتایا گیا تھا کہ یہ ملاقات کس آرٹیکل کے تحت ہوئی تھی؟جنرل مشرف کا راج ہوتا ہے تو خلق خدا اس ایم ایم اے کو ملا ملٹری الائنس کہتی ہے۔

یہ کون سا اصول ہے راضی ہوئے تو سب ٹھیک ہے، ناراض ہوئے تو ریاست پر  ”تھو“۔