انقلاب: اہل دانش کی افیون
- تحریر وجاہت مسعود
- ہفتہ 31 / اکتوبر / 2026
میرا دوست بلا کا راست گو ہے۔ اپنی تحریر میں ابن رشد کی عربی کتاب کا حوالہ دیتا ہے اور خود ہی بتا دیتا ہے کہ عربی عنوان پڑھنے والوں پر رعب ڈالنے کے لیے ایزاد کیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مجھ بے خبر سمیت کسی پڑھنے والے پر پھر بھی رعب نہیں پڑتا۔
پڑھنے والوں پر رعب ڈالنے کا بہتر نسخہ وہی ہے جو کچھ پرچہ نویسوں نے دریافت کیا ہے یعنی یہ کہ 1905 کے بعد سے دنیا میں جہاں کوئی اہم واقعہ رونما ہوا، ہمارے پرچہ نویس وہاں بنفس نفیس موجود تھے۔ نیز یہ کہ انہوں نے بڑی بہادری سے تمام اہل مجلس بالخصوص اصحاب اقتدار سے اختلاف کیا اور پھر معجزہ یہ کہ تاریخ نے انہی کی رائے درست ثابت کی‘۔ اللہ اگر توفیق نہ دے، انسان کے بس کی بات نہیں۔ پرچہ نویس البتہ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے جرأت افکار کا مظاہرہ کرنے سے قبل دائیں بائیں نظر دوڑا کر ’ہوا کا رخ‘ معلوم کر لیا تھا نیز موقع محل کی مناسبت سے اپنی رائے بدلتے بھی رہے۔ مثال کے طور پر20 ستمبر 2008 کو اسلام آباد میں ایک ہوٹل پر مذہبی دہشت گردوں نے خود کش حملہ کیا تو ہمارے پرچہ نویس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: I fear that Pakistanis will now turn even more against the US.
کیوں صاحب! اس دھماکے سے امریکا کا کیا تعلق تھا ؟ اس حملے میں 54 افراد جان سے گئے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔ مرنے والوں میں چیک ری پبلک کے سفیر سمیت آٹھ غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ہمارے پرچہ نویس یہ نہیں بتاتے کہ متعلقہ ہوٹل کے مالک نے مقتدرہ کے کس بوناپارٹ کے اشارے پر اس دھماکے کا الزام آصف علی زرداری پر دھرا تھا ۔ یہ الزام ہی ایک پنج تارہ ہوٹل کے مالک کی خودنوشت ’سچ کا سفر‘ کا بنیادی نکتہ ٹھہرا۔ یہ بتانا تو تحصیل حاصل ہے کہ یہ خودنوشت دراصل کس صاحب ارشاد کی تصنیف تھی۔ پاکستانی صحافت میں اترنے والی وہی چھاتہ بردار ہستی جس کی ہربات گزشتہ دو دہائیوں سے ’ارشاد الملک‘ کا درجہ رکھتی ہے۔
کیا طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی ۔ کیا پاکستان افغانستان کی جنگ میں امریکا کا حلیف نہیں تھا۔ کیا پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کے واقعات رونما نہیں ہو رہے تھے۔ اس دھماکے سے پاکستانیوں میں امریکا مخالف جذبات کے بھڑکنے کا اشارہ اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ تب بھی پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ امریکا کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتا تھا ۔ ہمارے پرچہ نویس کا تجزیہ طالبان کے درپردہ حامیوں کی حوصلہ افزائی تھا جو افغانستان کی جنگ میں امریکا کی ناکامی کے خواہاں تھے۔ یہ صحافت نہیں، مقبولیت پسند بیانیہ تھا۔
آج کی دنیا بھی اسی مقبولیت پسند سیاست سے جونجھ رہی ہے۔ اسی سے مغرب میں اسلام مخالف جذبات نے جنم لیا ہے۔ مقبولیت پسند سیاست ہو یا صحافت، بالآخر فسطائیت پر منتج ہوتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو دو سو برس سے عالمی طاقت کا درجہ رکھنے والی برطانوی سلطنت ایک چھوٹے سے جزیرے میں سمٹ چکی تھی۔ عالمی طاقت ہونے کا اعزاز امریکا اور سوویت یونین کو منتقل ہو چکا تھا۔ مرحوم مظفر علی سید نے کہیں لکھا تھا کہ دانشور طبقے پر ریاستی تلقین کا اثر عام طور سے الٹ ہی ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ امریکا اور یورپ کا دانشور طبقہ سرد جنگ میں بالعموم امریکا مخالف اور سوویت یونین کا درپردہ حامی تھا۔
اس رویے کی مخالفت کرتے ہوئے فرانس کے نامور فلسفی ریمنڈ آرغوں نے 1955 میں ایک کتاب لکھی تھی The Opium of the Intellectuals۔ یہ عنوان دراصل کارل مارکس کے 1843میں لکھے گئے اس جملے سے مستعار تھا کہ ’مذہب عوام کی افیون ہے‘۔ ریمنڈ آرغوں کا مؤقف تھا کہ مغربی دنیا کا دانشور طبقہ سرمایہ دار جمہوریت پر کڑی تنقید کرتا ہے لیکن سوویت یونین اور اس کے زیر اثر ریاستوں میں موجود استبداد سے جان بوجھ کر چشم پوشی کرتا ہے۔ ریمنڈ آرغوں نے اس کتاب میں اہل دانش کی تین بنیادی غلط فہمیوں کا پردہ چاک کیا تھا۔ اول یہ کہ بایاں بازو بدیہی طور پر نیکی اور ترقی کی تجسیم ہے چنانچہ بائیں بازو کی مخالفت بہرصورت رجعت پسندی ہے۔ دانشور طبقے کا دوسرا مفروضہ یہ تھا کہ پر تشدد انقلاب کے ذریعے خامیوں سے پاک معاشرہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ اس مفروضے کی نفی کرتی ہے۔ فرانس کا انقلاب ہو یا انقلابِ روس ، انقلابِ چین ہو یا انقلاب ایران ، ایسا ہر تاریخی واقعہ جنگ ، جبر اور عام شہریوں کے لیے تعذیب پر منتج ہوا ہے ۔ درحقیقت ارتقا کی بجائے انقلاب کا راستہ اپنانا بدقماشوں کے ایک ٹولے کی جگہ دوسرے ٹولے کو مسلط کرنا ہے۔
ریمنڈ آرغوں کا تیسرا قضیہ یہ تھا کہ پرولتاریہ یا محنت کش طبقے کا مسیحائی کردار ایک غلط فہمی ہے۔ آج کی دنیا میں آرغوں کا یہ استدلال قریب پون صدی بعد درست ثابت ہو رہا ہے۔ کارل مارکس کے عہد میں انٹرنیٹ ، مصنوعی ذہانت اور خدمات کے شعبوں کی معیشت پر بالادستی کا تصور کرنا مشکل تھا۔ ریمنڈ آرغوں کی رائے یہ بھی تھی کہ اشتراکی فکر بالآخر ایک مذہبی فرقے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس کے رہنماؤں سے کوئی غلطی ممکن نہیں اور ان کا ہر لفظ تقدیس کا درجہ رکھتا ہے۔ اگرچہ 1955 میں اس خیال کے شواہد کم تھے لیکن لینن سے اسٹالن اور پھر خروشیف نیز ماؤزے تنگ سے ڈینگ شیاؤ پنگ تک گزشتہ قیادت سے انحراف ثابت کرتا ہے کہ اشتراکی قیادت غلطیوں سے مبرا نہیں ہو تی۔ آرغوں نے پیش گوئی کی تھی کہ مغربی جمہوریت میں کیسی ہی خامیاں اور تکلیف دہ حقائق کیوں نہ ہوں حتمی تجزیے میں عوام کی تائید سے قائم ہونے والی اور عوام کو جواب دہ حکومت ہی شفافیت کے ممکنہ تقاضے پورے کر سکتی ہے۔
آج کی دنیا میں آرغوں کی اس پیش گوئی کی تصدیق کرنا مشکل ہے تاہم وقت بتائے گا کہ حالیہ برسوں میں دائیں بازو کا ابھار پائیدار امن اور انسانی فلاح کی طرف لے کر جائے گا یا جمہوریت کی مخالفت اپنے مفروضہ اخلاقی ارتفاع کے باوجود اہل دانش کی افیون ہی ثابت ہوگی۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)