ہارڈ اسٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست قائم نہ کی جائے!

علاقائی اور عالمی منظر نامہ پر پاکستان کو قابل ذکر پزیرائی حاصل ہوئی  ہے۔ ایران پر امریکی حملوں کے بعد  قیام امن کی کوششوں میں پاکستان نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے  سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور ریجن میں استحکام  اور اعتماد سازی کے ایک نئے عہد  کا آغاز کیا ہے۔ اس کے باوجود اندرون ملک سیاسی حالات بدستور دگرگوں   ہیں اور باہمی بداعتمادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اس کا تازہ ترین مظاہرہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے تند و تیز بیانات اور  وزرا کی طرف ویسے ہی سخت جوابات کے دوران دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے  ستمبر کے آخر میں خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت  کے خاتمے اور وہاں ایمرجنسی اور گورنر رول نافذ کرکے اس کا مظاہرہ  کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ  9 مئی   2023 کو ہونے والے احتجاج اور اس کے بعد تحریک انصاف کے بارے میں اختیار کی گئی سرکاری پالیسی سے  بھی  ملک میں سیاسی بے چینی کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد ایک طرف عمران خان کی سیاسی حیثیت ختم کرنے کی دھن اور اور اس کے تناظر میں شخصی آزادیوں اور  میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے ملک میں گھٹن کا ا یک تکلیف دہ ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر برسر اقتدار لوگوں کو شاید  اس کے مضمرات کا ادراک نہ ہو لیکن  اس حکمت عملی کی وجہ سے عوام اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی اب درحقیقت ریاست پاکستان سے مایوسی میں تبدیل ہورہی ہے۔

اس  تشویشناک رجحان کا اندازہ پرجوش سیاسی بیانات سے بھی ہوتا ہے اور پھر حکومت ہر اختلافی آواز کو مسترد کرنے اور   فسطائی ہتھکنڈوں سے  امور حکومت و مملکت چلانے کی جو کوشش کررہی ہے، اس سے    قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یا تو حکومت ازحد خوفزدہ ہے اور کسی بھی قیمت پر اپنی اتھارٹی قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یا  کسی اعلیٰ ترین سطح پر یہ غلط فہمی پال لی گئی ہے کہ  اختلافی  رائے سامنے لانے والوں کو عوام  کی پزیرائی حاصل نہیں ہے بلکہ وہ اپنے طور پر موجودہ حکومت یا نظام کو ناکام بنانے کے لیے حکومت مخالف مہم جوئی کا حصہ بنتے ہیں۔  اس لیے ان کا ’قلع قمع‘ کرنے  میں ہی ملک و قوم کا فائدہ ہے اور عوام بھی ایسے عناصر سے نجات پاکر خوش ہوں گے۔

تاہم اگر ایسا کوئی تاثر موجود ہے تو  یہ  ملک  کی سیاسی تاریخ اور حسیات سے مکمل طور سے ناواقفیت کا  آئینہ دار  ہے۔ حیرت ہے کہ موجودہ حکومت ملک کی سب سے زیادہ تجربہ کار سیاسی پارٹی کے پاس ہے اور اسے پاکستان پیپلز پارٹی کی  تائید و حمایت حاصل ہے جو خود  اپنی 59 سالہ تاریخ اور سیاسی جد و جہد سے  ملک کے عوام  کی سوچ سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں اپنے اپنے طور پر  مختلف ادوار میں آمرانہ طرز حکومت کے خلاف جد وجہد کا حصہ رہی ہیں۔ اور ان سے بجا طور سے توقع کی جاتی ہے کہ  اپنے دور اقتدار میں وہ ایسی بنیادوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گی جن پر اس ملک میں آئینی حکمرانی کی عمارت استوار ہے۔ موجودہ حکومت کے  نمائیندے بڑے فخر سے موجودہ انتظام کو ’ہائبرڈ طرز حکومت‘ کہہ کر اسے ملکی کامیابی کا  واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس وقت  جمہوری طریقے سے منتخب حکومت اور ملکی عسکری قیادت اہم قومی و بین الاقوامی امور پر مل کر کام کرتی ہے تاکہ  ملکی مفاد میں بہتر فیصلے ہوسکیں۔  پاکستان میں سول ملٹری تنازعہ کے   پس منظر میں یہ سیاسی رویہ اسی وقت مثبت قرار پاسکتا تھا ، اگر معاملات کی ملکیت (اونر شپ) سیاسی لیڈروں کے پاس دکھائی دیتی۔ یا معاملات طے کرتے ہوئے ان  اصولوں کی حفاظت کی جاتی جن کے تحت بنیادی حقوق اور سیاسی آزادی کی  ضمانت   بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ملک میں متعدد بار فوجی حکومت رہی ہے   لیکن پاکستان میں کوئی بھی فوجی حکمران متعدد دوسرے  ممالک کے مقابلے میں  ایک دہائی کی سے زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کرسکا۔    ضیا کے آمرانہ دور کے علاوہ  باقی سب  شخصی حکومتیں  عوامی احتجاج کی وجہ سے ہی  ختم ہوئیں۔  جنرل ضیا بھی اگر فضائی حادثہ میں ہلاک نہ ہوتے تو شاید انہیں بھی بہت زیادہ مدت تک حکومت کرنے کا مزید موقع نہ ملتا۔    ان تجربات سے دو سبق سیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی آمرانہ دور میں فیصلوں اور کوتاہیوں  کا الزام ایک شخص پر عائد کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے اور لوگ اسے بھلا  دیتے ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ  ملکی عوام آمریت  کی بجائے جمہوری طرز حکومت کے حامی ہیں اور انہیں بہت دیر تک کسی  غیر نمائیندہ نظام کو قبول کرنے  پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

 اس وقت ملک میں کسی فوجی آمر کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ  2024 میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد  اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیوں  نے مرکز اور صوبوں میں حکومتیں  قائم کی ہیں۔ اس لیے موجودہ دور میں عوام کے  حقوق سلب کرنے سے لے کر اہم قومی معاملات میں ہونے والی غلطیوں کی ذمہ داری صرف ایک فوجی  حکمران پر عائد کرکے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے متعلقہ پارٹیوں اور لیڈروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ دوسرے  ملک کے منتخب لیڈر ’ہائبرڈ‘ نظام کی آڑ میں عوام   کے تفویض کردہ اعتماد پر پورا نہیں اتریں گے اور  تمام اختیارات عسکری قیادت کے حوالے کرکے ملک میں  گھٹن اور خوف کا  ماحول پیدا کریں گے تو   اس سے سیاسی عمل اور آئینی انتظام پر عوام کا  بھروسہ ٹوٹے گا ۔  اور  ان لیڈروں ہی کو نقصان  ہوگا جو جمہوریت کی آڑ میں محض وقتی سیاسی اقتدار کے لیے سیاسی  آزادیاں سلب کرنے کا اہتمام کررہے ہیں۔

مارچ 2025  میں  دہشت گردی کے تناظر میں  ایک اعلیٰ سکیورٹی اجلاس سے  خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے  ملک کو ہارڈ اسٹیٹ بنانے کی بات کی تھی۔ بظاہر  یہ اصطلاح استعمال کرنے سے ان کی مراد یہ تھی کہ ملک میں سیاسی لیڈر گورننس کی کمزوریوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے فوجی جوانوں  کو دہشت گردی کے مقابلے میں جانیں قربان کرنا پڑتی ہیں۔ اس بیان کو اگر ملک میں فسطائیت نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ  طریقہ نہ صرف ملکی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہوگا بلکہ فوج کے لیے  بھی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ سیاسی لیڈر فوج پر  ذمہ  داری ڈال کر تمام غلطیوں سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کریں گے اور فوج  چونکہ عوام کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی لہذا  لوگوں میں  اس کی عزت و احترام میں کمی ہوگی۔ اس کے کچھ  آثار اس وقت بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

ہارڈ اسٹیٹ سے ہرگز یہ مراد نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی ریاست عوام کے بنیادی حقوق سے انکار کرنا شروع کردے اور ہر قسم کے سیاسی اختلاف کو ملک دشمنی قرار دے کر قابل تعزیر  قرار دیا جائے۔ ایسی پالیسی ملک میں فسطائیت کو فروغ دے گی  جو عوام میں محرومی، مایوسی اور نتیجتاً بغاوت کے جذبات کا سبب بن سکتی ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب لازماً ایسی ریاست بھی  نہیں ہوسکتی  جس پر فوجی طاقت کا غلبہ ہو۔ بلکہ اس سے مراد ایسی ریاست  ہو نا چاہئے جہاں قانون کی حکمرانی ہو،  ادارے مؤثر طور سے کام کرتے ہوں ، آئین کی بالادستی تسلیم کی جائے  اور احتساب کا نظام  فعال ہو۔

ہارڈ اسٹیٹ بنانے کےلئے اگر سب آوازوں کو گھونٹنا جاتا رہا تو پھر ملک میں زندگی کے آثار ناپید ہونے لگیں گے۔ تب یہ سوال کرنا جائز ہوگا کہ  پھر کن لوگوں کے فائدے یا بہبود کے لیے سانس تک لینا مشکل بنایاجارہا ہے۔  مناسب ہوگا کہ حکمران عقل کے ناخن لیں اور  پاکستان میں ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کے مثبت اور انسان دوست پہلو متعارف کرائے جائیں اور اسے  ملک میں فسطائیت نافذ کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔