ایران کے ساتھ امن ممکن ہے مگر وہ معاہدے میں قابل اعتبار نہیں: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی جا رہی ہے اور ایران ڈیل چاہتا ہے۔ فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ وہ زیادہ قابلِ اعتبار نہیں ہیں، وہ معاہدہ کرتے ہیں اور پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں‘۔
قطر میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم کسی جلدی میں نہیں ہیں۔ ایران پر دوبارہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسا احمقانہ سوال ہے، فرض کریں کہ میں ایسا کرتا ہوں، تو کیا میں آپ کو بتاؤں گا؟ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی نیوی، ایئر فورس اور اسلحہ بنانے کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔
اس دوران ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں تنازع کا جغرافیہ مغربی ایشیا کے خطے تک محدود نہیں رہے گا۔ ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ’امریکی تنصیبات، ساز و سامان، افواج اور مفادات، جہاں کہیں بھی قابلِ رسائی ہوں، نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگ گزشتہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔ ایران کے نظریے کو محض دفاعی حکمتِ عملی سے جارحانہ حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کا عمل ماضی میں شروع ہو چکا تھا اور حالیہ جنگ میں اس کا عملی اظہار بھی سامنے آیا ہے۔
ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کے جواب کا دائرہ اور وقت دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی جارحیت کا متناسب، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔‘