افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر پاکستان کی حمایت کرتے ہیں: مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی قابلِ تشویش ہے ۔ اس معاملہ پر پاکستان کی حمایت کرتے ہیں۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ طالبان کی جانب سے ناکافی اقدامات کے باعث پاکستان نے کارروائی کی ہے۔ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔
دوسری جانب یوکرین جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات کے ذریعے یوکرین میں امن ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کوئی یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ ہونے کے قریب ہے۔ تاہم امریکا ایک انتہائی تباہ کن جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کو ہر رات توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملوں کا سامنا ہے جب کہ ملک میں شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، روس میں بھی ہر ماہ 20 ہزار افراد مارے جا رہے ہیں۔انہوں نے جنگ کی شدت اور تباہ کاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ہلاکت خیز اور تباہ کن جنگ ہے۔جنگ کا ہر گزرتا مہینہ مزید تباہی اور ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے۔امریکا کی کوشش ہے کہ اس تباہ کن جنگ کو روکا جائے اور امن کے لیے کوئی قابل عمل راستہ تلاش کیا جائے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے بارے میں پاکستان کے تحفظات سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے مناسب کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ اٹلانٹا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ان حملوں پر تشویش ہے جن کی پشت پناہی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں، اور اُنھوں نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کے یہ تحفظات سنے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہو اور اسے نشانہ بنایا جائے۔ لہذا اگر ہم اس معاملے میں کوئی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں تو ہم کریں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے طالبان حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں، ہم نے پاکستان کی جانب سے اُٹھائے گئے تحفظات سنے ہیں اور ایسے بعض حملے بھی دیکھے ہیں جن کی طرف پاکستان اشارہ کرتا ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، چاہے وہ کہیں بھی ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی ہو۔
دریں اثنا پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان طالبان ترجمان کی حالیہ ٹوئٹ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ افغان طالبان قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ کو نظر انداز کر رہی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ دار ہے۔