سرفراز نواز اور ریورس سوئنگ

جب کوئی ملک اور قوم زوال کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اپنے ہیروز کی قدر کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ قابل اور با صلاحیت لوگوں کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قدرت نے ایسے ہزاروں بے مثال لوگوں سے نوازا ہے جن کی خوبیوں کی آج بھی پوری دنیا معترف ہے۔

صرف ایک کھیل کا حوالہ دیں تو ہمارے ملک کے درجنوں کھلاڑیوں کے نام دنیائے کرکٹ کے آسمان پر ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں۔ ان ناموں میں ایک نام بے مثال بالر سرفراز نواز کا ہے جو ایک طویل عرصے سے لندن میں مقیم ہیں اور صحت کے بہت سے مسائل کا شکار ہیں۔ گزشتہ ہفتے ا ن کی آٹو بائیو گرافی ”ریورس سوئنگ“ کی تقریب رونمائی لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کمیونٹی کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان مشتاق محمد اور کچھ انگریز کرکٹرز نے بھی شرکت کی۔

اس آٹو بائیو گرافی کے مندرجات تو اپنی جگہ لیکن اس کتاب کی پذیرائی اور رونمائی زیادہ اہتمام اور بڑے پیمانے پر ہونی چاہیے تھی۔ سرفراز نواز کی جگہ یہ آٹو بائیو گرافی اگر کسی انگریز بالر یا وسیم اکرم، وقار یونس یا پھر شعیب اختر کی ہوتی تو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کا فنکشن ہال کرکٹ کے کھلاڑیوں اور مداحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہوتا۔ ایک تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز نواز کو کبھی اس توقیر سے سرفراز نہیں کیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ دوسرا ہمارے اس بے مثال بالر نے خود اپنی ناقدری کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کی مخالفت اور کرکٹ میں سٹے بازی (جوئے) کا بھانڈا پھوڑنے کو اپنی زندگی کی ترجیحات میں شامل رکھا۔ کرکٹ چھوڑنے کے بعد اگر وہ ان دو باتوں پر اپنی توانائی اور وقت ضائع کرنے کی بجائے پاکستان میں با صلاحیت نوجوان بالرز کی تربیت کے لیے کوئی اکیڈمی یا ادارہ بنا لیتے تو آج ان کا نام اور کام زیادہ معتبر ہوتا اور انہیں لندن میں تنہائی کا اسیر نہ ہونا پڑتا۔

سرفراز نواز جیسے بالر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ یکم دسمبر 1948 کو لاہور میں جنم لینے والے اس عظیم کرکٹر نے 1969 سے 1984 تک 55 ٹیسٹ میچز اور 45 ون ڈے نیشنلز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور بالترتیب 177 اور 63 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بالنگ پرفارمنس 1979 میں میلبرن ٹیسٹ میں تھی جب انہوں نے 86 رنز کے عوض آسٹریلیا کے 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ 6 فٹ 6 انچ قد کے سرفراز نواز نے نارتھمپٹن شائر کاؤنٹی کرکٹ میں بھی اپنی شاندار بالنگ سے انگریز بیٹسمین کے چھکے چھڑا ئے۔ وہ دنیائے کرکٹ کے اُن چند دراز قد بالرز میں شمار کئے جاتے ہیں جن کی متاثر کن ریورس سوئنگ باؤلنگ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ بہت سے مبصر اُنہیں ریورس سوئنگ کا موجد بھی قرار دیتے ہیں۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سرفراز نواز نے سیاست کا رخ کیا اور وہ 1985 کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اسی سال انہوں نے اداکارہ رانی سے شادی بھی کی۔ سیاست میں آنے کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں وزیر اعظم کے مشیر برائے کھیل مقرر ہوئے۔ 2011 میں وہ ایم کیو ایم میں بھی شامل رہے۔ 2006 میں انہوں نے دہلی کرکٹ ٹیم کے بالنگ کوچ کے طور پر بھی کام کیا۔ سرفراز نواز کرکٹ میں میچ فکسنگ اور سٹے بازی پر اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ سرفراز نواز نے انکشاف کیا ہے کہ میچ فکسنگ کا پردہ چاک کرنے کی وجہ سے انہیں خطرناک نتائج کی دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سرفراز نواز ایک عمدہ بالر رہے ہیں۔ اس لیے انہیں اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہوگا کہ بالنگ ہو یا زندگی کی دوڑ میں کامیابی کا کوئی اور مرحلہ، ہر معاملے میں اپنی لائن اور لینتھ کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

برطانیہ پاکستانی کرکٹرز کا پسندیدہ ملک ہے۔ پاکستان کے سابق کپتانوں مشتاق احمد اور آصف اقبال کے علاوہ آل راؤنڈر یاسر عرفات، اظہر محمود اور فاسٹ بالر محمد عامر بھی برطانوی شہریت اختیار کر چکے ہیں جبکہ ثقلین مشتاق سمیت درجنوں پاکستانی کرکٹرز یو کے میں مقیم ہیں۔ ایک زمانے میں پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ملک کا مقبول ترین کھیل ہوا کرتا تھا اور ہماری ہاکی ٹیم نے اس کھیل میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے کہ لوگ آج بھی اُن پر فخر کرتے ہیں لیکن پھر رفتہ رفتہ ہاکی کا کھیل اقربا پروری اور سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور نااہل لوگوں کو تھما دی گئی جس کا انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ یہی کچھ اب پاکستانی کرکٹ، کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز کے ساتھ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے با صلاحیت نوجوان کرکٹرز تنگ آ کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جس ملک کے ارباب اختیار سیاست کو کھیل اور کھیل کو سیاست سمجھنے لگیں، وہاں رفتہ رفتہ ہر شعبہ زوال کی لپیٹ میں آنے لگتا ہے۔

جہاں تک کرکٹ میں میچ فکسنگ اور سٹے بازی کا تعلق ہے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی کرکٹ میچوں کے دوران بڑے پیمانے پر جوا کھیلا جاتا ہے۔ بک میکرز یعنی جوئے اور سٹے کا اہتمام کرنے والی کمپنیز اور شخصیات یا اُن کے ایجنٹ کرکٹ ٹیموں کے کپتانوں، انتظامیہ اور کھلاڑیوں سے رابطے کر کے انہیں بھاری رقم کی پیشکش کرکے ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات وہ ایسے کھلاڑیوں کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ بہت سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے بڑے میچوں اور خاص طور پر کسی بڑے عالمی ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کی ہر بال پر جوا کھیلا جاتا ہے۔ کرکٹ کے مداحوں کو یاد ہو گا کہ 2000 میں ساؤتھ افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہنسی کرونے پر عمربھر کے لیے عالمی کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگائی گئی تھی کیونکہ انہوں نے آئی سی سی کی تحقیقات کے دوران اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انگلینڈ اور انڈیا کے خلاف اُن کی ٹیم نے میچ فکسنگ کی تھی، جس کے لیے بک میکرز  نے انہیں خطیر رقم ادا کی تھی۔

اسی طرح 2010 میں پاکستانی کپتان سلمان بٹ کے ساتھ فاسٹ بالرز محمد آصف اور محمد عامر انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میچ کے دوران سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔ پہلے تو ان کھلاڑیوں نے الزامات سے انکار کیا لیکن ناقابل تردید شواہد کی وجہ سے بالآخر ان کرکٹرز کو اعتراف جرم کرنا اور جیل کی ہوا کھانی پڑی۔محمد عامر پر لگائی جانے والی پابندی تو چند برس بعد اُٹھالی گئی لیکن سلمان بٹ اور محمد آصف آج تک عالمی کرکٹ کھیلنے سے محروم ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی اس کھیل کو جوئے (سپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ وغیرہ) سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھاتی ہے اور ایسے کھلاڑیوں کے خلاف شکایات اور مشکوک سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیتی ہے جو اُن لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں جن کا کام جوا کھیلنا یا جوئے بازی کے لئے ڈیلنگ کرنا ہو۔

پاکستان کے جن کھلاڑیوں کو آئی سی سی کی طرف سے جوئے میں ملوث پائے جانے پر پابندی اور سزا کا سامنا کرنا پڑا ان میں سلیم ملک، عطا الرحمن، دانش کنیریا، شرجیل خان اور عمر اکمل کے نام بھی شامل ہیں۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین، اجے شرما، منوج پربھاکر اور اجے جدیجا کو بھی آئی سی سی کی طرف سے میچ فکسنگ اور سٹے بازی پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ساؤتھ افریقہ کے کرکٹرز ہرشل گبز، غلام بودی، تھامی ٹومی کیلی اور دیگر کئی کھلاڑیوں کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جوئے کا مجرم قرار دے کر سزا سنائی۔ اس فہرست میں ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، افغانستان، کینیا، نیوزی لینڈ، زمبابوے اوریو اے ای کی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی بھی شامل ہیں جو اس کھیل میں جوئے کی راہ ہموار کرنے پر پابندیوں کی زد میں آئے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے جس پر سٹے بازی بھی ہوتی ہے اور جوابھی کھیلا جاتا ہے لیکن جس کھیل یا میچ میں خود کھلاڑی ہی جوئے بازوں کے ہاتھوں کھلونا بن جائیں تو ایسے کھیلوں سے شائقین کا یقین اٹھ جاتا ہے اور وہ ان کھیلوں اور میچوں میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیاست کوبھی ایک ایسا کھیل بنا دیا گیا ہے جس میں میچ فکسنگ کا رجحان عام ہو گیا ہے۔ سیاسی میدان کے بڑے بڑے کھلاڑی میچ فکس کرنے والوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب اس کھیل کے ریفری بھی بک میکرز  کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ مگر انٹرنیشنل کونسل کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ معلوم نہیں میچ فکسنگ کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور اس کھیل کے اصل کھلاڑی کب تک میدان سے باہر بیٹھے تماشا دیکھتے رہیں گے؟