ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ، امن کی امید
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔‘ چین نے جنگ کی صورت میں ایران کے حق دفاع کی حمایت کی ہے۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ ’گزشتہ چند ماہ کے تلخ تجربات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ فوجی مہم جوئیاں، جن سے ایران میں ہلاکتیں اور تباہی پھیلتی ہیں، ایرانی عوام کے اپنے ملک کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے عزم کو نہیں توڑ سکتیں۔ جو لوگ آج نئے حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں، انہیں اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔‘
روس متعدد بار ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں، جب ثالثوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں بھی جاری رہی ہیں۔ اس وقت تمام نظریں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں جو کل منعقد ہوں گے۔
اس دوران چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے چین کی حمایت حاصل ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقریکنی کے ساتھ ملاقات میں وانگ یی نے کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں شامل تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ سیاسی حل پر غور کریں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی پیر کے روز عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کا خطہ ’بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کا میدان‘ نہیں بننا چاہیے۔ چین اور عمان کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں مسقط نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے چین کی تجاویز کی حمایت کی اور امید ظاہر کی کہ بیجنگ خطے میں دیرپا استحکام کے قیام میں ’زیادہ نمایاں کردار‘ ادا کرے گا۔
چین تیل کا سب سے بڑا خریدار اور ایران کے اہم ترین اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔
چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی پابندیوں کی بھی مذمت کی ہے۔ اس نے بارہا سفارت کاری کے ذریعے جنگ کے خاتمے بالخصوص آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت کو دو روز کے اندر بحال کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی بنیاد ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے جسے اب مختصر کر دیا گیا ہے اور یہ ’دو دن کے اندر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’جب تک امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی اور ایران کے جائز مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا، اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں ہو گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جائے گا۔‘
پریس کانفرنس میں ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایرانی 7 نکاتی تجویز پر عمل درآمد کا امکان موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور ایران کے مطالبات بالکل واضح اور منطقی ہیں۔ کسی بھی معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے مطالبات کی منظوری ضروری ہے۔