ہسپتالوں میں جدید سہولتوں کی ضرورت

محکمہ صحت پنجاب مریضوں کے علاج کے لئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرائے گا جس کے ذریعے مریضوں کے معائنے اور علاج کے عمل کو آسان اور تیز بنایا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ نے چار ہفتوں میں عمل درآمد کا حکم بھی دیا ہے اور محکمہ صحت کو عمل درآمد کی دستاویزی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔یہ نظام پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں رائج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ نجی اور پرائیویٹ اسپتال بھی جو کمرشل بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں ان کے حوالے سے بھی حکومت اور محکمہ صحت کو بھرپور اقدامات کرنا ہوں گے۔ بہت سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے لفٹ اور وافر وہیل چیئرز کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ اکثر جگہوں پر لفٹ خراب اور ادویات کی عدم دستیابی ہے۔ ٹیسٹ کرنے والی اکثر مشینیں خراب ہیں۔

برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جی پی سسٹم کی وجہ سے مریضوں کے رش کے ساتھ ساتھ ان کے امراض کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک مربوط صحت کا نظام وضع کیا ہے۔ مختلف ٹاؤن میں قائم جی پی تک ہی مریضوں کی رسائی ہوتی ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں بڑے اسپتالوں کا رخ کیا جاتا ہے۔ مریضوں کے لئے کسی پرچی یا لمبی قطار کا منظر نہیں ہوتا۔ سئینر ڈاکٹر صاحبان بھی ایک دن میں چھ سات مریضوں کو دیکھتے ہیں تاکہ ان کے مرض کی صحیح تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

دوسری ہمارے ہاں مریض ایک دوسرے سے سبقت لیتے اور ڈاکٹر پر چڑھے نظر آ تے ہیں۔ ایسے میں نہ ڈاکٹر مرض کی صحیح تشخیص کر سکتا ہے اور نہ ہی مریض کھل کر اہنے مرض کی تفصیل بتا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اسپتالوں بمیں ہرچی بنانے کے ناقص نظام کی وجہ سے مریض اور اس کے لواحقین کا سارا دن لگ جاتا ہے ۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے اپوانٹمنٹ لے کر وقت بجایا جاتا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں بھی پرچی کے ناقص اور تاخیری حربوں کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اگرچہ ہمارے اسپتالوں میں آ ئے روذ ارباب اختیار اور محکمہ صحت کے افسران کے نمائشی دورے ہوتے رہتے ہیں مگر اسپتالوں کی زبوں حالی ختم نہیں ہو سکی۔
حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی عوامی مسائل کے حل کے لئے آ گے آنا چاہیے ابھی بھی ایسے درد مند لوگ موجود ہیں جو مختلف اسپتالوں میں خوراک اور ادویات مفت فراہم کرتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ کمرشل بنیادوں پر اسپتال بنا کر مال بنانے پر لگے ہیں وہاں کچھ درد مند دل رکھنے والے صحیح معنوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والے مسیحائی دعوے ہر عمل پیرا ہیں۔

بچوں کے کینسر کے پاکستان کے معروف معالج اور ’یورپ تیرے روپ ہزار‘  کے ہمارے سفر نامہ نگار دوست ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا  نے یورپ کے نظام صحت سے متاثر ہوکر جنوبی پنجاب کے سہولیات سے محروم لوگوں کے لئے اپنے آ بائی قصبے وسندے والی مظفرگڑھ میں اپنے دیگر ڈاکٹر بھائیوں ڈاکٹر مبارک اور رانا طارق رانا عارف اور عامر کےساتھ مل کے خدمت خلق کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اور اپنے مرحوم والد نمبردار فتح محمد کے اس خواب کی تکمیل کی ہے کہ یہاں ہر غریب اور امیر کو صحت کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ یہ نیو الشفا اسپتال ملتان مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات رعائتی اور فلاحی بنیادوں پر فراہم کرے گا اور مریضوں کو شہر کے دور دراز ڈاکٹروں کے پاس جانے کی بجائے علاج گھر کی دہلیز پر پہنچائے گا۔ جہاں امراض دل اور دیگر بیماریوں کے ٹیسٹ کی سہولت کے ساتھ ایکسرے کی سہولت بھی ہوگی۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا پہلے بھی بہت سے ڈے مریضوں کو مفت علاج فراہم کر کے سچے مسیحا ہونے کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔ پاکستان کے دیگر شہروں اور قصبات میں بھی ایسے رول ماڈل اسپتالوں کے ذریعے عوام کو صحت کی بنیادی معیاری اور مریض کی استطاعت کے مطابق علاج کی سہولیات دے کر پیسہ اور ثواب دونوں کمائے جا سکتے ہیں۔ اسپتالوں میں پرچی سسٹم کا خاتمہ پنجاب حکومت کا ایک اہم اقدام ہے اس سے قبل اسپتالوں کے پارکنگ اسٹینڈ کو بھی بلا معاوضہ کیا گیا ہے۔

اسپتالوں کی لیبارٹری میں معیاری ٹیسٹ اور ادویات کی بروقت فراہمی کے ساتھ ساتھ وہاں پر موجود کینٹینوں میں معیاری خوراک اور اشیا کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے اور اسپتالوں بنیں پرچی سسٹم کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر اداروں اور محکموں میں رائج پرچی سسٹم کے خاتمے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں تاکہ گاہے بگاہے عوام کو بھی خوشی کے مواقع فراہم ہوتے رہیں۔