لڑائی لڑائی معاف کرو!

پاکستان کی سیاست میں پہلے ہی تلخی اور عدم برداشت کی جو فضا موجود ہے، اس میں ایک اور محاذ کھولنے کی آخرضرورت کیا ہے؟ سیاسی رہنماؤں کے درمیان اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن جب اختلاف ذاتی حملوں، جوابی تقریروں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں تبدیل ہو جائے تو اس کا نقصان کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کو پہنچتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن، محسن نقوی اور خواجہ آصف کے درمیان حالیہ بیانات اور جوابی حملوں کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے بعد محسن نقوی کا ردعمل، پھر مولانا کی جانب سے خواجہ آصف اور مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنانا اور اس کے جواب میں خواجہ آصف کی طرف سے بیان بازی، یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کو سیاسی استحکام اور باہمی اعتماد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب حکومتی شخصیات سیاسی رہنماؤں کے خلاف اس انداز میں میدان میں آتی ہیں تو ان کے بیانات کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی حکومتی عہدیدار کسی سیاسی رہنما پر تنقید کرتا ہے تو اسے محض ایک فرد کی رائے سمجھ کر نظرانداز کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بالخصوص جب اس عہدیدار کا تعلق ریاستی معاملات سے بھی ہو تو اس کے بیان کو سیاسی حلقوں میں مختلف معنی پہنائے جاتے ہیں اور اس صورت میں ریاست اور اُس سیاستدان کے درمیان لڑائی کا تاثر زور پکڑ جاتا ہے۔ یہاں اصل سوال کسی ایک شخصیت کے بیان کا نہیں بلکہ اس طرز سیاست کا ہے جو سیاسی اختلاف کو مزید گہرا اور تلخ بنانے کا سبب بنتا ہے۔ کیا پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایسی بیان بازی ملک کے مفاد میں ہے؟ کیا سیاسی رہنماؤں کے درمیان ایک دوسرے کو جواب دینے کی یہ مسلسل مشق سیاسی استحکام میں مدد دے سکتی ہے؟

میرے خیال میں اس وقت سب سے زیادہ ضروری سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں سے وابستہ شخصیات کو سیاسی تنقید کے جواب میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو ذاتی مسئلہ بنانے کے بجائے ان کے سیاسی اور جمہوری پہلوؤں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ تنقید برداشت کرنا کسی بھی مضبوط سیاسی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت محض بیانات کی سطح پر نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔

عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے جاری محاذ آرائی نے ملک کے سیاسی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس تلخی کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومت فوری طور پر ایک ایسا قدم اٹھا سکتی ہے جس کے لیے نہ کسی مذاکراتی عمل کی ضرورت ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کی جانب سے کسی مطالبے یا درخواست کا انتظار کرنا چاہیے۔ عمران خان کی تینوں بہنوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہوگا جس سے سیاسی کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور ریاست اور حکومت کی جانب سے مفاہمت کے ارادے کا بھی اظہار ہوگا۔ اسی طرح عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کرنے، بنی گالہ کو سب جیل قرار دینے اور انہیں اپنے گھر میں رہنے کی سہولت فراہم کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ اگر قانونی تقاضے پورے کیے جا سکتے ہیں تو یہ ایک ایسا فیصلہ ہوگا جس سے سیاسی ماحول میں تلخی کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ یہ اقدامات کسی سیاسی جماعت کو رعایت دینے یا کسی کے مؤقف کی توثیق کرنے کے مترادف نہیں ہوں گے۔

حکومت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کے باوجود ایسے فیصلے کرے جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوں۔ ریاست اور اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ شخصیات کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ تنقید سیاسی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ ہر تنقیدی بیان کو ذاتی حملہ سمجھنا یا اس کا جواب اسی لہجے میں دینا مناسب نہیں۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی محاذ آرائی کے ایک نئے دور کی نہیں بلکہ اختلافات کے باوجود ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور ریاستی اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی استحکام صرف طاقت یا دباؤ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے برداشت، اعتماد اور مفاہمت ضروری ہیں۔ اگر سیاسی رہنما ایک دوسرے کو جواب دینے اور نئے محاذ کھولنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں تو یہ ملک کیلئے زیادہ مفید ہوگا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی لڑائیوں کو مزید ہوا دینے کے بجائے ان کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)