نئے صوبے: فل اسٹاپ یا کامہ
- تحریر سہیل وڑائچ
- سوموار 02 / نومبر / 2026
قلم گھسیٹیے اور بلاول بھٹو میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ مسترد شدہ صحافی سے کہیں زیادہ بارسوخ، باخبر اور باعلم ہیں۔ اُنہوں نے صوبوں کے حوالے سے فرمایا ہے کہ اس بحث کو فل اسٹاپ لگ گیا ہے جس کی تشریح و تفہیم کرتے ہوئے ایک کارٹونسٹ نے بلاول کو نئے صوبوں کی قبر پر کھڑے ہوئے دکھایا ہے۔
عمومی طور پر بلاول بھٹو کے بیا ن سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کا باب بند ہوگیا ہے مگر بلاول بھٹو کو شاید فل اسٹاپ پہچاننے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ دراصل کامہ ہے جسے وہ فل اسٹاپ سمجھ بیٹھے۔ نئے صوبوں کا معاملہ وقتی طور پر مؤخر ہوا تھا مگر مارچ 2027 سے پہلے اس معاملے پر قانون سازی کی ڈیڈ لائن ابھی تک برقرار ہے۔ نئے صوبے بنانےکے بارے میں سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسترد صحافی کے اس تجویز پر تحفظات اور اختلافات ریکارڈ پر موجود ہیں مگر خبر تو خبر ہوتی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ نون پنجاب میں نئے صوبے بنانے پر رضامند ہوچکی ہے اور وہ نئے صوبوں کی قانون سازی میں بھرپور تائید و تعاون کیلئے تیار ہے۔ شرط یہ رکھی گئی ہے کہ نئے صوبے 2029 کے انتخابات کے بعد وجود میں لائے جائیں گے۔
پنجاب کے اندر نئے صوبوں کی تعداد کے بارے میں حتمی فیصلہ تو نہیں ہوا مگر پنجاب کو چار صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز اعلیٰ حلقوں میں زیادہ مقبول ہے۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب کے اندر صوبے بنانے پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف توپہلے ہی جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کی الگ الگ صوبائی تنظیمیں تشکیل دے کر نئے صوبوں کو عملاً تسلیم کرچکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے شدید اعتراضات اور تحفظات تاحال موجود ہیں۔ بلاول بھٹو ان اعتراضات اور تحفظات کا برملا اظہار بھی کرچکے ہیں اور ان کے فل اسٹاپ والے بیان میں بھی مسرت کی جھلک اس بات پر ہے کہ یہ منصوبہ ختم ہوچکا۔ مگر پیپلز پارٹی کے بعض رہنما مقتدرہ سے اس معاملے پر لڑائی کی بجائے کوئی درمیانی راہ نکالنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے تجویز یہ دی گئی ہے کہ اسلام آباد، گوادر اور کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دیا جائے اور بھارت کے شہر چندی گڑھ کی طرح کراچی میں سندھ کا دارالحکومت بھی قائم رہے۔ یاد رہے کہ بھارتی پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تو دو صوبوں کا دارالحکومت چندی گڑھ کو بنایا گیا جو کہ یونین ٹیریٹری (وفاقی علاقہ) ہے۔ دیہی سندھ کو دو حصوں میں اس طرح تقسیم کی تجویز ہے کہ دونوں صوبوں میں پسماندہ علاقوں کے ساتھ ترقی یافتہ شہری یونٹ بھی موجود ہوں۔ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نئے صوبے بنانے پر اتفاق کرچکے ہیں۔ سنا ہے کہ بلوچستان کے اندر صوبائی تقسیم میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ بلوچ اور پشتون دونوں کا ملاپ ہر صوبائی یونٹ میں بھرپور طور پر نظر آئے ۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی موجودگی میں نئے صوبوں کے خلاف کسی مزاحمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم پختونخوا کی دوسری بڑی انتخابی قوت مولانا فضل الرحمٰن فی الحال نئے صوبے بنانے کیلئے اس وقت کو مناسب خیال نہیں کرتے۔ اس تیاری کے بعد بلاول بھٹو کا اس منصوبے پر فل اسٹاپ لگانا درست نہیں لگتا۔ اس منصوبے میں کامے ضرور لگے ہیں مگر کام جاری و ساری ہے۔
اس معاملے کے سیاسی پہلو کو دیکھا جائے تو حکومت کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر مسلم لیگ ن نے تحفظات کے باوجود مقتدرہ کے نئے صوبے بنانے کے فیصلے سے اتفاق کرلیا ہے۔ اس حوالے سے واحد شرط یہ رکھی گئی ہے کہ نئے صوبے 2029 کے الیکشن کے بعد بنائے جائیں۔ اس ڈیڈ لائن کو مقرر کرنے کا مطلب ہے کہ اگلے دو اڑھائی سال میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نوازشریف اپنے ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھتے ہوئے پنجاب میں ایسی گڈول بنا لیں گی کہ پنجاب کے چار یا کم از کم 3 نئے صوبوں میں ان کی جماعت کی حکومت بن جائے۔ موجودہ نظام کی دوسری بڑی سیاسی اسٹیک ہولڈرپیپلز پارٹی فی الحال شدید تذبذب کا شکار ہے۔ اگر وہ سندھ کی تقسیم پر راضی ہوتی ہیں تو اس کی سیاست جاتی ہے اور اگر وہ نئے صوبوں کی مخالفت جاری ر کھتی ہیں تو ایک لمبے عرصے کیلئے نہ صرف اقتدار اس سے روٹھ جائے گا بلکہ اُسے ماضی کی طرح کڑے احتساب سےبھی گزرنا پڑے گا۔
نئے صوبے بنانے کے حساس مسئلے پر تحریک انصاف کا پرانا مؤقف تو اس کی حمایت تھا مگر موجودہ حالات میں اگر پیپلز پارٹی نے ووٹ نہ دیا یا گومگو کا شکار رہی تو کیا تحریک انصاف نئے صوبے بنانے میں مدد کرکے اپنی جماعت کے بانی اور اپنی جماعت کیلئے مقتدرہ سے کچھ رعایتیں لے سکتی ہے۔ بظاہر اس امکان کے حق میں بہت سی آرا کسی صلح صفائی یا مفاہمت کی نشاندہی کررہی ہیں مگر بانی کی طرف سے فی الحال مفاہمت یا موجودہ نظام کے نئے صوبوں کے منصوبے کی حمایت کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی قیادت نئے صوبوں کی حمایت کرکے اپنے لیے رعایتیں لینے کی حامی نظر آتی ہے مگر اندازہ یہی ہے کہ بانی اپنی پارٹی کو کسی ایسی مفاہمت کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر کبھی مفاہمت کا کوئی دروازہ کھلا تو وہ بشریٰ عمران کے ذریعے سے ممکن ہے۔ واحد وہی ہیں جو بانی کو کسی ایسی مفاہمت، انڈر اسٹینڈنگ یا ڈیل پر رضامند کرسکتی ہیں۔
فرض کریں کہ بانی کی مرضی سے تحریک انصاف نئے صوبوں کے بارے میں حکومت کے حق میں ووٹ بھی دے دے تو نون اور بانی کی مفاہمت کیسے ممکن ہوگی۔ مقتدرہ تو وزارت عظمیٰ کی امیدوار نہیں ہوتی مگر شہبازشریف اور عمران خان تو ایک ہی کرسی کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ ان کے درمیان مصالحت کیسے ممکن ہوگی؟ ووٹ لینے کے بعد تحریک انصاف کی انتخابی سیاست اور بیانیے کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟ جس حد تک جارحانہ رویہ تحریک انصاف کے یوٹیوبر بہادر بھگوڑوں کا ہے، وہ بانی کی مرضی یا اس کی بغیر مرضی کے جو بھی مفاہمت ہوگی اس کو اپنے بیانیے میں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے اُنہوں نے بیرسٹر گوہر خان، گنڈاپور اور آفریدی کے مفاہمانہ رویے کوچیر پھاڑ کر رکھ دیا تھا ۔
حقیقت تو یہ ہےکہ نئے صوبوں پر قانون سازی کا مرحلہ کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے آسان نہ ہوگا۔ تحریک انصاف پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ وہ اس قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دے تو اس کی سیاسی ساکھ پر سوال اُٹھیں گے اور اگر ساتھ نہ دے تو مشکلات اور بھی بڑھیں گی۔ نون کیلئے بھی یہ مرحلہ آسان نہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے ساتھ نہ دیا اور تحریک انصاف کی اس قانون سازی پر حمایت لینی پڑی تو وہی نون اور تحریک انصاف جو گزشتہ کئی برسوں سے آمنے سامنے ہیں، وہ ایک دوسرے کی حمایت کا کیا سیاسی جواز پیش کریں گی؟ اور اپنے اپنے عقابوں کو کس طرح سے مطمئن کر پائیں گی۔ آسان ترین راستہ تو پیپلز پارٹی اور نون کے اتحاد کا برقرار رہنا ہے یا پھر بانی کی مرضی کے بغیر تحریک انصاف کے اراکین کی اس قانون سازی پر حمایت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ پارٹی اور بانی سے بغاوت کے مترادف ٹھہرایا جائے گا اور اُنہیں آئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملے گا۔ تحریک انصاف میں کوئی بغاوت نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔
اس سال کے دو مہینے اور اگلے سال کے پہلے تین ماہ نئے صوبوں پر سیاسی جماعتوں کے ردعمل کے حوالے سے انتہائی معنی خیز ہوں گے۔ انہی 5 ماہ کے سیاسی رویے مستقبل کی سیاست، 2029 کے الیکشن، ممکنہ قومی یا نگران حکومت اور آئندہ کے حکمرانوں کا فیصلہ کریں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)