شو ٹوٹ گیا ہے

یہ باتیں اب ماضی بعید کا قصہ لگتی ہیں جب ہم دوستوں کے ساتھ لکشمی چوک کے سنیماؤں میں فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ سردیوں کی راتوں میں جب آخری شو ختم ہوتا تو سنیما کے باہر رکشے اور تانگے قطار در قطار کھڑے ہوتے تھے۔ رات کا تقریباً سوا ایک بجا ہوتا مگر لکشمی چوک آباد ہوتا۔

سڑک کنارے اُبلے ہوئے انڈے، یخنی اور مرغے کی کلیجی تلی جا رہی ہوتی اور چائے کے کھوکھوں پر کڑک چائے کی مہکار ہوتی، اِس سردی میں بھی کسی کو گھر جانے کی جلدی نہیں ہوتی تھی۔ ایسے میں اچانک کہیں سے آواز آتی ”شو ٹُٹ گیا اے!“ (شو ٹوٹ گیا ہے) اِس کا مطلب ہوتا کہ فلم ختم ہو گئی ہے اور تماشائی اب باہر نکلنے والے ہیں۔ یہ آواز سنتے ہی رکشہ ڈرائیور حضرات یوں ہاتھ سے ’کِک‘ مار کر رکشے اسٹارٹ کرتے جیسے ریس کے میدان میں جھنڈی لہرا دی گئی ہو اور کوچوان خواہ مخواہ تانگوں میں جُتے گھوڑوں پر چابک لہرانے لگتے، شاید اِس لیے کہ گھوڑے اونگھ سے بیدار ہو کر چوکس ہو جائیں۔

 آخری شو دیکھنے زیادہ تر دکاندار اور تاجر طبقہ آتا تھا جس کو دن بھر گاہکوں سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ کچھ شادی شدہ جوڑے بھی ہوتے جنہیں مشترکہ خاندان کے گھروں میں اسی وقت ’پرائیویسی‘ نصیب ہوتی تھی، یا پھر ہم جیسے ’لفنٹر‘ جن کی زندگی کا واحد نصب العین ’نیلی‘ کا دیدار ہوتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن اور سنیما گھر دو ایسی جگہیں ہیں جو مجھے ہمیشہ سے لُبھاتی رہی ہیں۔ دونوں میں ایک بات مشترک ہے، یہاں آنے والا ہر شخص کہیں اور جانے کے لیے آتا ہے، ایک کسی اور شہر اور دوسرا کسی اور دنیا۔ سنیما گھروں کا قصہ تو اب تقریباً تمام ہوا۔ لکشمی چوک، ایبٹ روڈ اور اِس کے گرد و نواح کے سنیما جو کسی میوزیم سے کم نہیں تھے، اب ختم ہو چکے ہیں۔ رتن سنیما میرا پسندیدہ تھا جہاں زیادہ تر پاکستانی فلمیں لگتی تھیں، انگریزی فلموں کے لیے ہم ریگل اور پلازہ کا رخ کرتے، اور میٹروپول اور شبستان بڑی فلموں کے لیے مشہور تھے، یعنی جب کوئی فلم جوبلی منانے لگتی تو ہماری زبان پر انہی کا نام آتا۔

اِن سنیماؤں میں ٹکٹ کی کھڑکی سے لے کر گیلری کی سیڑھیوں تک ایک عجیب ملکوتی سی فضا ہوتی تھی۔ ٹکٹ کی کھڑکی ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتی تھی جس کے اندر بیٹھا شخص آپ کو کبھی پورا دکھائی نہیں دیتا تھا، بس ایک ہاتھ باہر آتا، پیسے لیتا اور ٹکٹ تھما کر غائب ہو جاتا۔ ہٹ فلم کے پہلے ہفتے میں اس کھڑکی تک پہنچنا بذاتِ خود ایک مہم ہوتی تھی۔ دھکم پیل میں قمیص کا بٹن ٹوٹتا، کسی کی چپل کہیں رہ جاتی، اور پھر باہر ’ہاؤس فل‘ کا بورڈ لگ جاتا، جس کے بعد وہی ٹکٹ ایک مشکوک سے حلیے کا بندہ دگنی قیمت پر بیچتا۔ ہم اسے ’بلیکیا‘ کہتے تھے۔ ٹکٹ لے کر جب آپ ہال میں داخل ہوتے تو گھپ اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آتا تھا، ایسے میں ایک شخص مانندِ خِضر ٹارچ لے کر آپ کو سیٹ تک پہنچا کر آتا تھا۔ اس کی ٹارچ کی روشنی فرش پر یوں ناچتی جیسے کوئی جگنو راستہ دکھا رہا ہو۔ ہال کے اندر نشستیں درجہ بدرجہ لگی ہوتی تھیں، اگر مجھے ٹھیک سے یاد ہے تو شاید کچھ اِس طرح کہ لوئر اسٹال، اپر اسٹال، گیلری، ڈریس سرکل اور پھر باکس۔ لوئر اسٹال سب سے سستا تھا لیکن یہاں سے فلم دیکھنے کے لیے گردن مسلسل اوپر رکھنی پڑتی تھی جیسے بندہ ایفل ٹاور دیکھنے آیا ہو۔

 یہیں سے ہیرو کی انٹری پر سیٹیاں بجتیں، تالیاں بجتیں اور فلم کے مکالمے پردے سے پہلے ہال میں بولے جاتے کیونکہ آگے بیٹھے کچھ لوگ وہ فلم پانچویں بار دیکھ رہے ہوتے تھے۔ ہمیں اُس دن گیلری نصیب ہوتی جب کسی دوست کو کہیں سے پیسے مل جاتے۔ باکس میں کون بیٹھتا تھا، یہ راز آج تک نہیں کھلا۔ فلم شروع ہونے سے پہلے پردے پر اشتہاروں کی سلائیڈیں چلتی تھیں۔ بوننزا اور آکسفورڈ کے اشتہارات تو مجھے یاد ہیں۔ پھر آئندہ فلموں کے ٹریلر آتے۔ ایک ’اچھی‘ بات یہ تھی کہ سگریٹ پینے پر پابندی نہیں تھی۔ انٹرول میرا پسندیدہ وقت ہوتا تھا۔ ایک تو فلم اپنے کلائمکس پر ہوتی، پردے پر Intermission یا Interval یا ’وقفہ‘ لکھا آتا اور ساتھ ہی ہال میں روشنیاں جگمگانے لگتیں۔ کینٹین کے ویٹر ٹھنڈی ٹھار بوتلوں کو چابی سے بجا کر ایک مخصوص جھنکار پیدا کرتے۔ وہ جھنکار مجھے آج بھی یاد ہے۔ اب فلموں میں انٹرول تو ہوتا ہے مگر وہ جھنکار نہیں ہوتی۔

 ہال کے باہر شیشے کے فریموں میں لگی رنگین ’اسٹلز‘ دیکھنے کا بھی اپنا ہی مزا تھا جن سے فلم کی کہانی کا اندازہ لگایا جاتا۔ آنے والی فلموں کے پوسٹر بھی وہیں لگے ہوتے تھے، ہاتھ سے پینٹ کیے ہوئے، جن میں ہیرو کا چہرہ پوسٹر سے بھی بڑا ہوتا اور ہیروئن کی آنکھیں و دیگر اعضا پوسٹر سے یوں باہر نکل کر رہے ہوتے گویا ’سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا‘ ۔ انہی پوسٹروں کے سامنے کھڑے ہو کر فیصلہ کیا جاتا کہ کون سی فلم کا پہلا شو دیکھا جائے گا اور کِس کا آخری۔ ایسے ہی ایک فلم کے پوسٹر پر نیلی کی تصویر دیکھی تو اپنے دوستوں کے ساتھ اُس سے ملاقات کا پروگرام بنایا جو آج تک پایا تکمیل نہ پہنچ سکا، ایک مرتبہ یونہی لاہور کے الحمرا سینٹر میں کسی شو کے بعد اُن سے سلام دعا ہوئی تھی مگر تب وہ جاوید شیخ کے ساتھ ’انگیج‘ تھیں۔

یہ سب اسّی اور نوّے کی دہائی کی باتیں ہیں۔ اُس زمانے میں نیا نیا وی سی آر بھی آیا تھا۔ شروع شروع میں خریدنا کسی کے بس میں نہیں تھا سو کرائے پر لایا جاتا۔ ایک رات کا کرایہ، ساتھ چار فلمیں مفت۔ ایک پانچویں فلم بھی ہوتی تھی۔ جس طرح ہم بومرز آج کل کی جین زی کی کوڈڈ زبان نہیں سمجھتے بعینہ جین زی کو اِس بات کی سمجھ نہیں آئے گی۔ میکلوڈ روڈ لاہور سنیماؤں کا اصل مرکز تھی، ایک سرے پر ریجنٹ سنیما سے سلسلہ شروع ہوتا اور پھر رٹز، پیلس، کیپیٹل، نشاط اور اوڈین آتے چلے جاتے، سڑک کی دوسری طرف رتن اور صنوبر تھے۔ ناز اور نگینہ بعد میں بنے اور محفل اور گلستان کا اضافہ بھی بعد کا ہے۔ دوسرا مرکز بھاٹی گیٹ تھا جہاں ملک تھیٹر، نگار اور پیراماؤنٹ آباد تھے۔ ریوولی سنیما لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب اکیلا کھڑا تھا، گویا ریلوے اسٹیشن اور سنیما یہاں ایک ہی سڑک پر آ کر مل جاتے تھے۔ یہ ایسا سدا بہار سنیما تھا جس کا ہال کبھی خالی نہیں رہا، جن مسافروں کی ٹرین چھوٹ جاتی وہ اسٹیشن پر بیٹھ کر اگلی ٹرین کا انتظار کرنے کی بجائے یہاں آ کر فلم دیکھنا بہتر سمجھتے۔ ریگل اور پلازہ کا ذکر تو ہو چکا، مال روڈ والا ریگل اور کوئنز روڈ والا پلازہ صرف انگریزی فلموں کے لیے مخصوص تھے۔ نیا نیا کھلنے والا الفلاح بھی شروع میں انگریزی فلمیں ہی لگاتا تھا مگر بعد میں وہاں مقامی فلمیں بھی چلنے لگیں، ندیم کی پہلی فلم ’چکوری‘ اسی سنیما میں لگی تھی۔

چھاؤنی کے علاقے میں گلوب اور پاک فورسز تھے، یہ غریب آدمی کے سنیما تھے جہاں سب سے نچلے درجے میں کرسیوں کی بجائے لمبے بینچ لگے ہوتے۔ اب اِن میں سے بیشتر نام صرف پرانے لاہوریوں کی یادداشت میں باقی ہیں۔ لیکن میں نہ اُس دور کو ضرورت سے زیادہ رومانوی بتا رہا ہوں اور نہ ہی اِس دور پر تنقید کر رہا ہوں۔ بس اتنا ہے کہ آج ہم گھر بیٹھے درجنوں فلمیں دیکھ سکتے ہیں مگر فلم دیکھنے کے اِس تجربے میں ’شو نہیں ٹوٹتا‘ ۔ اب تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے ہمارا شو واقعی ٹُٹ گیا ہے، بس ہمیں ذرا دیر سے خبر ہوئی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)