سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات: پورا سچ سامنے لایا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 02 / نومبر / 2026
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی سابق حکومت پر دہشت گردی میں معاونت کا االزام لگایا ہے۔ حال ہی میں روئیٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ دہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبر پختونخوا میں نااہل اور لاتعلق حکومت بھی شامل تھی ۔ صوبے میں ایک سہولت کار انسداد دہشت گردی میں رکاوٹ پیدا کر رہا تھا ۔ وہ اب وہاں موجود نہیں‘۔
ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کی طرف سے ملک کی ایک سیاسی پارٹی اور ایک صوبے میں اس کی سابق حکومت پر یہ سنگین الزام ہے۔ البتہ اس الزام کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جب ان سے کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنے کے بارے میں پوچھاگیا کہ تو ان کا جواب تھا کہ ’ یہ ایک سیاسی سوال ہے جس کا جواب سیاستدان ہی بہتر دے سکتے ہیں۔ البتہ ہم جو سمجھتے اور جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی آئینی و قانونی ضوابط کے مطابق ہوئی تھی‘۔
ایک پارٹی کی حکومت کو صوبے میں دہشت گردوں کی سہولت کار قرار دیتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ کس منہ سے اس معاملہ سے لاتعلقی کا اظہار کرسکتے ہیں کہ ایک صوبے میں عوام کی منتخب حکومت کا خاتمہ کردیا گیا اور وہاں ایمرجنسی اور براہ راست وفاقی انتظام کا طریقہ نافذ کرکے سابق وزیر اعلیٰ کو قید کیا گیا ہے۔ اگر سہیل آفریدی کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں دہشت گردوں کی معاونت کررہی تھی تو پاک فوج صاف طور سے یہ اعلان کیوں نہیں کرسکتی کہ اس کی طرف سے ایسی حکومت ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا یا سیاسی قیادت کو مشورہ دیا گیا تھا۔ اگرچہ خیبر پختون خوا میں اسمبلی معطل اور حکومت ختم کرنے کا اقدام ملکی آئین کی شقات کے تحت ہؤا تھا لیکن تحریک انصاف کی قیادت اور متعدد اپوزیشن لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ یہ غیر آئینی اقدام تھا اور وفاقی حکومت نے اس حوالے سے اپنے اختیارات کو ناجائز طور سے استعمال کرکے فوج کی خواہش پوری کی ہے۔
فوج کے پاس اگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی تھی تو فوج کو یہ ثبوت حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ شئیر کرکے واضح کرنا چاہئے تھا کہ ملکی سکیورٹی اور سلامتی کے نقطہ نظر سے ایسی غیر ذمہ دار حکومت کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ ملک میں آئینی جمہوریت کے تحت حکومتیں کام کررہی ہیں لیکن یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ اس انتظام میں اب فوج بھی برابر کی حصہ دار ہے اور متعدد سطحوں پر اس کا کھلا اظہار کرنے میں کوئی مضائقہ بھی محسوس نہیں کیا جاتا۔ مثلاً چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ہر قسم کی سفارتی پیش قدمی میں پیش پیش ہوتے ہیں حالانکہ ملکی آئین کے تحت یہ ان کا کام نہیں ہے۔ اسی طرح متعدد وزرا بار بار موجودہ انتظام کو ’ہائبرڈ حکومت‘ کا نام دے چکے ہیں کیوں کہ اس میں فوج برابر کی شراکت دار ہے۔
یوں بھی مرکز کے علاوہ صوبائی سطح پر فوجی و سول قیادت پر مشتمل ایپکس کمیٹیاں موجود ہیں۔ قومی سلامتی سے متعلق تمام اہم فیصلے ان کمیٹیوں میں کیے جاتے ہیں۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کے طور پر برطرف ہونے سے پہلے سہیل آفریدی صوبائی سطح پر ایسے اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے اور صوبے کی فوجی قیادت بھی ان سے رابطے میں تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزام کے بعد اب پاک فوج کو جواب دینا چاہئے کہ دہشت گردی جیسے اہم اور حساس معاملہ پر طویل عرصہ تک یہ مفاہمانہ رویہ کیوں اختیار کیا گیا۔ کیا اسے قومی سلامتی پر سمجھوتہ کے مترادف نہیں سمجھا جائے گا جس کی حفاظت پاک فوج کا بنیادی فریضہ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہؤا کہ فوج تو دہشت گردی کے خلاف چوکس رہی اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرکے جانی نقصان بھی برداشت کرتی رہی لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ایسی منتخب حکومت کو بھی قبول کیا گیا جو درحقیقت انہی دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی تھی، جن کے خلاف پاک فوج سرگرم عمل تھی۔
کہا جاسکتا ہے کہ پاک فوج چونکہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ، اس لیے اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ایک منتخب صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کرتی۔ لیکن یہ دلیل عام طور سے ہضم نہیں ہوگی۔ ایک تو قومی سلامتی پاک فوج کا بنیادی فرض ہے، لیکن ریاست دشمن عناصر کی سرپرستی کرنے والی حکومت کے ساتھ تعاون کرکے فوج بھی بالواسطہ طور سے درحقیقت ان غیر قانونی ہتھکنڈوں کا حصہ بن گئی جس میں خیبر پختون میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملوث تھی۔ قومی سلامتی کے بارے میں ایسی کوتاہی ، وسیع القلبی یا آئینی مجبوری کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے یہ الزام ایک انٹرویو کے دوران لگایا ہے ، اس لیے یہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں کہ جب کے پی حکومت عوام کے جان و مال اور قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرہی تھی، اس دوران فوج اس کا سد باب کرنے کے لیے کیا کرتی رہی تھی۔ پھر یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ اگر ایک وزیر اعلیٰ کی انتظامیہ دہشت گردوں کے بارے میں قومی مفادات کے برعکس پالیسی پر عمل کررہی تھی تو کیا اس پارٹی کی قیادت پر واضح کیا گیا تھا کہ صوبے میں ایسے شخص کو وزارت اعلیٰ سے علیحدہ کیا جائے تاکہ وہاں جمہوری حکومت بدستور کام کرتی رہے؟
خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی لگانے اور گورنر راج نافذ کرنے سے پہلے ہی یہ واضح تھا کہ سہیل آفریدی کی حکومت مرکزی حکومت کی طرف سے صوبے میں دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف تھی۔ اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں سہیل آفریدی عام اجتماعات میں ببانگ دہل یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ ان کی حکومت فوجی کارروائی کو صوبے کے عوام کی سلامتی و مفاد کے خلاف سمجھتی ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہ اس کے برعکس تحریک طالبان پاکستان اور کابل حکومت کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہتے تھے۔ یہ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی مؤقف تھا۔ وزیر اعظم شہباز سمیت وفاقی حکومت کے متعد دعہدیدار اس پالیسی پر کڑی تنقید کرتے رہے تھے اور صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا تھا۔ صوبائی حکومت برطرف کرنے کے لیے بھی اسی الزام کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ لیکن کسی صوبائی حکومت کی پالیسی سے اختلاف اور اس پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے کا الزام دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فوج اور حکومت کو تمام حقائق عوام کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔
کسی صوبائی حکومت کو ایسے عناصر کے ساتھ ساز باز اور سرپرستی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی پر حملہ آور ہوں اور شہریوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہوں۔ جیسے کسی صوبائی حکومت کو محض اس کے سیاسی فیصلہ کی وجہ سے ملک دشمن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان دونوں معاملات کو الگ کرکے احتیاط سے ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تاہم اگر پاک فوج کے ترجمان کسی حکومت کی پالیسیوں سے ناراضی کے سبب اس پر دہشت گردوں کی معاونت کرنے کا الزام لگارہے ہیں تو اس بیان کو بھی سیاسی حوالے سے ہی دیکھا جائے گا۔ حقائق اور زمینی صورت حال سے اس کا تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی پالیسی بنانا ہر حکومت یا سیاسی پارٹی کا آئینی حق ہے لیکن دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کرنا اسی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ملکی آئین ہر شخص کو سوچنے اور اپنی صوابدید کے مطابق رائے رکھنے کا حق تو دیتا ہے لیکن ملکی مفاد کے خلاف سرگرم عناصر کے لیے سزا بھی تجویز کرتا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ جنرل احمد شریف کے تازہ الزام یا بیان کا کیا مقصد ہے۔ لیکن یہ بہر طور واضح ہونا چاہئے کہ سیاسی اختلافات کو ملک دشمنی قرار دے کر ’غدار وطن‘ پیدا کرنے کا رویہ کسی بھی طرح پاکستان کی سالمیت اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایسے الزامات سے سیاسی تقسیم گہری ہوگی اور الزام تراشی کا سلسلہ دراز ہوجائے گا۔