امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے اب بھی پُرامید ہیں: قطر

  • منگل 03 / نومبر / 2026

قطر نے منگل کو کہا ہےاسے اب بھی امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ طے پا سکتا ہے جبکہ دونوں ممالک دوحہ سمیت ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے نئے بڑے حملوں کی دھمکی کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔ منگل کی صبح امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں واقع ایک ایرانی جزیرے پر محدود حملے کیے ہیں جبکہ ایرانی میڈیا نے یکے بعد دیگرے پانچ دھماکوں کی اطلاع دی۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے صحافیوں کو بتایا کہ ’دونوں فریق مذاکراتی عمل کے لیے بدستور پُرعزم ہیں جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں۔ ہم ان کے درمیان تجاویز کے فوری تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ دونوں فریق اس وقت ہماری جانب سے پیش کردہ خیالات اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ہم اب بھی پُرامید ہیں کہ معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔ دوحہ ’ایک عبوری معاہدے‘ کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ پیر کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ’بھرپور مذاکرات‘ جاری ہیں۔

ماجد الانصاری کے مطابق اسی روز قطری مذاکرات کار تہران میں تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دوحہ واپس پہنچے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں کسی بھی قسم کا اضافہ مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات اور اسرائیل میں گزشتہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات سے قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ اسرائیلی انتخابات میں وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔