امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی مقبولیت اور ریپبلکن اکثریت کا امتحان
امریکہ میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے.
36 ریاستوں میں گورنروں کا انتخاب بھی کیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی کوشش ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ختم کرکے ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں پر پارلیمانی نگرانی اور احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
مختلف انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، جبکہ سینیٹ میں بھی مقابلہ سخت ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے ڈیموکریٹس کو صرف تین اضافی نشستیں درکار ہیں، جبکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے انہیں موجودہ پوزیشن کے مقابلے میں چار نشستوں کا خالص اضافہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا اختیار حاصل کرلیں گے۔ سینیٹ میں اکثریت کھونے کی صورت میں اعلیٰ سرکاری عہدوں اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری بھی ٹرمپ کے لیے مشکل ہوسکتی ہے۔
انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے خلاف عوامی ناراضی کی ایک بڑی وجہ مہنگائی، توانائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ سال اقتدار میں واپسی کے دوران امریکی عوام سے مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن محصولات، افراطِ زر اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان حالات میں ٹرمپ کی عوامی مقبولیت بھی تقریباً 30 فیصد کی سطح تک گر چکی ہے۔
ریپبلکن قیادت کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی ٹیکسوں میں کمی اور امیگریشن کے خلاف سخت پالیسیوں سے امریکی عوام کو فائدہ ہوگا، جبکہ وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو بائیں بازو کے انتہا پسند قرار دے رہی ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس ان انتخابات کو امریکی جمہوریت کے مستقبل اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے اظہار کا موقع سمجھ رہے ہیں۔
سینیٹ کے انتخابات میں ٹیکساس، کنساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا جیسی روایتی طور پر ریپبلکن ریاستوں میں بھی سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ڈیموکریٹس کو اپنی بعض نشستوں کے دفاع میں بھی مشکلات کا سامنا ہے. خصوصاً مشی گن میں پارٹی کے اندر اختلافات نے انتخابی صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ان انتخابات کا ایک اہم پہلو نتائج کو تسلیم کرنے کا معاملہ بھی ہے۔ ٹرمپ ماضی میں 2020 کے صدارتی انتخابات میں شکست تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور انتخابی دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس مرتبہ بھی انتخابی نتائج کی تصدیق کے حوالے سے قانونی تنازعات سامنے آئے ہیں۔ الاسکا میں سینیٹ کے انتخابی نتائج کی تصدیق روکنے کی کوشش عدالت نے مسترد کردی، جبکہ سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں 20 ہزار سے زائد ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ مسترد کرنے کی درخواست بھی قبول نہیں کی۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ قانون سازی میں تعاون کرنے کے بجائے ان کے پیش کردہ اقدامات کو ویٹو کرسکتے ہیں۔ یوں یہ انتخابات صرف کانگریس میں نشستوں کی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ ٹرمپ کی پالیسیوں، ان کی عوامی مقبولیت اور امریکی سیاسی نظام میں اختیارات کے توازن کے مستقبل کا بھی اہم امتحان بن گئے ہیں۔