جنگ کے شعلے بھڑکانے کا منافع بخش دھندا
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 03 / نومبر / 2026
سوشل میڈیا پر چھائے نام نہاد ذہن ساز نہیں بلکہ تقریباً 2صدیوں سے مستند گردانے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل جیسے اخبارات کے ذریعے کروڑہا انسانوں کے اذہان کو مفلوج وماؤف بنانے کے لئے شرمناک نفسیاتی جنگ کا ہر ممکن حربہ استعمال ہورہا ہے۔
مقصد اس کا بنیادی طورپر ایران کے حتمی فیصلہ سازوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ 3نومبر2026 کے روز امریکی پارلیمان کے لئے منعقد ہوئے انتخابات امریکی صدر کو ’لنگڑی بطخ‘ بنادیں گے۔ اس کی مخالف جماعت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلے گی۔ انتخابات کے نتائج سے مشتعل ہوکر ٹرمپ ایران کے خلاف بھرپور جنگ کا ایک اور راؤنڈ لگانے کو مجبور محسوس کرے گا۔ اسے یہ راؤنڈ اس لئے بھی لگانا پڑے گا کیونکہ ایران کے خلاف رواں برس کے مارچ میں اسے دھکیلنے والا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی اپنے ملک میں 27اکتوبر2026 کے روز ہوئے انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں کرپایا ہے۔ اس کی مخالف جماعتوں پر مبنی اتحاد میں سے کوئی ایک بھی جماعت اپوزیشن اتحاد سے جدا ہوکر اس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کو آمادہ نظر نہیں آرہی۔ اسی باعث وہ نئے انتخابات کے انعقاد کو ترجیح دینا چاہے گا۔ ان میں اپنی جیت یقینی بنانے کے لئے اسے بھی ایران کے خلاف بھرپور جنگ کا ایک اور راؤنڈ لگانے کی ضرورت محسوس ہوگی۔
ایران کے خلاف ایک اور جنگ کے راؤنڈ کو یقینی بنانے کے منطقی جواز بیان کرنے کے بعد خبروں کے طومار کی بدولت تاثر یہ پھیلایا گیا کہ ایران کے خلاف فیصلہ کن جنگ برپا کرنے کے لئے امریکہ کے جدید ترین طیارے اور طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا نہیں مستند گردانے اخبارات اور ٹیلی وژن نیٹ ورکس کے ذریعے آخری معرکہ کی تیاریوں نے مجھ جیسے عالمی امور کے اپنے تئیں ماہر بنے ’صحافی‘ کو بھی یہ سوچنے کو مجبور کردیا کہ 4نومبر 2026 کی صبح اٹھتے ہی امریکی صدر فون اٹھاکر اپنے کمانڈروں کو ایران پر فیصلہ کن حملے کے احکامات جاری کردے گا۔ جذباتی حوالے سے میرے بہت قریب ایک فرد کو متحدہ عرب امارات کی ایک فضائی کمپنی کی پرواز کے ذریعے پاکستانی وقت کے مطابق 4نومبر کی رات نو بجے بذریعہ دوبئی لندن جانا ہے۔ گھبراہٹ میں اسے تنگ کرنا شروع ہوگیا کہ وہ اپنی پروازتبدیل کرے۔ متوسط طبقے کی محدودات مگر ایسی ’عیاشی‘ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔
قابل اعتبار گردانے نشریاتی اداروں کے ذریعے امریکی مڈٹرم الیکشن کے نتائج آنے کے ’48 گھنٹوں کے دوران‘ کروڑ ہا انسانوں کو خوف میں مبتلا کرتے ہوئے ہمیں یہ اطلاع دینے میں بہت دیر لگائی گئی کہ اتوار 25اکتوبر2026کے روز امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ وینس نے اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں اسلام آباد میمورنڈم تیار ہواجس پر عملدرآمد ہمارے خطے میں دیرپا امن کو یقینی بناسکتا تھا۔ دونوں جانب کے انتہا پسندوں نے مگر اس پر عملدرآمد نہ ہونے دیا۔ ایرانی ’انتہا پسندوں‘ کی نمائندگی کا الزام محسن رضائی پر لگا جو پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ رہے ہیں اور ان دنوں قومی سلامتی امور کے حوالے سے ایران کے رہبر اعلیٰ سے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ وینس کا محسن رضائی سے رابطہ ’مستند اخبارات‘ کے پھیلائے تاثر کے برعکس یہ عندیہ دے رہا تھا کہ ٹرمپ مڈٹرم الیکشن سے قبل ایران سے کسی سمجھوتے کا متمنی ہے۔ سمجھوتے کی تمنا اس نے ان ممالک تک بھی پہنچائی ہوگی جو کئی مہینوں سے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور قطر مذکورہ ممالک میں سرِفہرست ہیں۔ غالباً اسی باعث وینس کی جانب سے محسن رضائی کو خط لکھنے کے عین ایک دن بعد میثاق مکہ کے نام سے قائم ہوئے اتحاد میں شامل پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عہدیدار تہران پہنچ گئے اور ایرانی صدر اور محسن رضائی کے ساتھ طویل مذاکرات میں مصروف رہے۔
مستند گردانے نشریاتی اداروں اور اخبارات کی جانب سے ’فیصلہ کن راؤنڈ‘ کے شوروغوغا کی آڑ میں درحقیقت امریکہ اور ایران ثالثوں کی مدد سے کسی ایسے سمجھوتے کی تلاش میں ہیں جو دونوں کو اپنے عوام کے لئے ’کامیاب وکامرا‘‘ ہونے کا تاثر فراہم کرسکے۔ نظر بظاہر ممکنہ فارمولے کے خدوخال بھی تیار ہوچکے ہیں۔ آبنائے ہرمز بحری تجارت کے لئے کھولنے کے عوض ایران اپنے خلاف لگائی امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اسے اپنی معیشت کی بحالی کے لئے فوری رقم بھی درکار ہے۔ قطر میں منجمد ہوئے ایران کے 7ارب ڈالر کا سود مطلوبہ تناظر میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے قطر اس فارمولے کو دونوں فریقین کے لئے قابلِ قبول بنانے کی کاوشوں میں مصروف ہے۔
امن کی کاوشیں مگر ریگولر اور سوشل میڈیا پر بکتی نہیں۔ 2نومبر کی صبح یہ کالم لکھنے سے قبل موبائل پر سرسری نگاہ ڈالی تو فوکس ٹیلی وژن سے فارغ ہوجانے کے بعد یوٹیوب کی بدولت حق وصداقت کا علمبردار ہوا مشہور ومعروف اینکر ٹکرکارلسن نہایت سنجیدگی سے یہ سنسنی خیز کہانی بیچ رہا تھا کہ مڈٹرم الیکشن ’ہار‘ جانے کے بعد ٹرمپ ایران کے سنگلاخ پہاڑوں میں موجود غاروں میں چلائے ایٹمی پروگرام اور اثاثوں کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم بھی استعمال کرسکتا ہے۔ ایٹم بم کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آواز ایک لمحے کو بھی لرزتی سنائی نہ دی۔ ڈاکٹروں کی طرح امراض کی تشخیص کے لئے ہوئے ٹیسٹوں کی رپورٹ غیر جذباتی انداز میں بیان کرتا رہا۔دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد دنیا بھر کے فکر مند انسانوں کی بے تحاشہ تعداد نے متعدد کتابوں، افسانوں، ناولوں اور فلموں کے ذریعے ہمیں یہ قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ دوعالمی جنگوں نے انسانوں کو امن کا خواہاں بنادیا ہے۔ اب وہ نسل،مذہب اور قومیت کی تفریق سے بالاترہوکر ہر صورت عالمی امن کے خواہاں ہیں۔ ان کی دلائی امیدوں کے باوجود ویتنام ہوا۔ عرب اور اسرائیل کا تنازعہ آج بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کئی جنگیں ہوئیں۔ نسلی ا ور گروہی تقسیم بلکہ اب یورپ اور امریکہ میں بھی خانہ جنگیوں جیسے ماحول بنارہی ہے۔ افغانستان بھی 1978سے مسلسل تقسیم کا شکار ہے۔
دْکھی دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ حیوانِ ناطق کہلاتا انسان فطری طورپر ریوڑ میں رہنے کا عادی ہے اور اپنے مخالف ریوڑ کو ہر صورت تھلے لگانے کو بے تاب رہتا ہے۔ دوسروں پر بالادستی کی ہوس نے اسلحہ ساز معیشت ایجاد کی جس میں زیادہ سے زیادہ منافع محض جدید ترین مہلک ہتھیاروں کی ایجاد اور فروخت سے کمایا جاسکتا ہے۔ جنگ کے شعلے بھڑکانا میڈیا کو بھی منافع بخش دھندا بناتا ہے اور ریوڑ کا حصہ ہوتے ہوئے ہم انسان بحیثیتِ فر د بے بس ولاچار ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)