تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ
- تحریر آصف محمود
- منگل 03 / نومبر / 2026
جب آپ سیاست میں آتے ہیں تو آپ کے فیصلے اور آپ کی پالیسیاں زیر بحث آتی ہیں۔ تعریف بھی ہوتی ہےاور تنقید بھی ہوتی ہے۔ لیکن دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر تنقید کی جائے تو ان کے کارکنان کی جانب سے ویسا اشتعال انگیز رد عمل نہیں آتا جیسا تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے آ تا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟
ایک ہی ملک میں، ایک ہی ماحول میں، ایک ہی جیسی سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے رویوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟ ( یاد رہے کہ آج کےسوال کا تعلق قیادت سے نہیں، کارکنان کے رویوں سے ہے)۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کارکنان سے محروم ہیں اور ان کی قیادت کا مقدمہ لڑنے واالا ہی کوئی نہیں۔ جب کہ تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اسی لیے ان کا رد عمل دکھائی زیادہ دیتا ہے؟
کیا معاملہ یہ ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان اپنی قیادت کی نیک نامی کے بارے میں حساس نہیں ہیں اور تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے کارکنان اپنی قیادت کی نیک نامی کے بارے میں بہت حساس بہت ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سیاسی اختلاف کو معمول کی کارروائی سمجھتی ہیں جب کہ باقی 3 جماعتوں کے کارکنان تنقید کو ناقابل معافی گستاخی سمجھ کر پل پڑتے ہیں؟ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنان سیاسی طور پر زیادہ میچور ہیں اور باقی تین جماعتوں کے کارکنان اپنی اپنی قیادت کے بارے میں عقیدت کے آسیب کا شکار ہیں؟ کیا یہ برداشت اور سیاسی رویوں کا تضاد ہے؟ کیا اسے سیاست اور کلٹ کی مختلف صورتوں کا فرق سمجھا جائے؟ میں کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ معاملہ کیا ہے۔
تحریک انصاف ہو، جے یو آئی ہو یا جماعت اسلامی، ان پر کوئی تنقید کر بیٹھے تو گویا ایک قیامت سی ٹوٹ پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کے وابستگان گندی اور غلیظ گالیوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جب کہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی والے اس حد تک غنیمت ہیں کہ غلیظ گالیاں نہیں دیتے۔ البتہ شدت ان کے ہاں بھی وہی ہے ۔ ان کے کارکنان تنقید کی جسارت کرنے والے گستاخ پر دھارا بول دیتے ہیں۔ ایک ہی لمحے میں وہ گستاخ، ضمیر فروش، بکاؤ، لفافہ، لادین اور دین کا دشمن قرار پاتا ہے۔ سوال وہی ہے: ایسا کیوں ہے؟
کارکنان تو سبھی کے ہیں۔ کسی کے کم کسی کے زیادہ۔ کم از کم اتنے تو سب کے پاس ہوں گے کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کو گالم گلوچ سے زچ کر سکیں۔ اس لیے یہ شاید کارکنان کی تعداد کا معاملہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف تو مقبول قومی جماعتوں میں سے ایک ہے لیکن جے یو آئی اور جماعت اسلامی؟ ان کے کتنے کارکنان ہوں گے؟ پھر یہ کہ سوشل میڈیا کو دوسرں کو لعن طعن کرنے کے لیے آخر کتنے کارکنان چاہیں؟ یعنی یہ معاملہ کارکنان کی تعداد کی کمی بیشی کا نہیں ہے۔ بات کچھ اور ہے۔ قیادت کی نیک نامی کے بارے میں حساسیت کا کم یا زیادہ ہونا بھی قرین قیاس نہیں ہے۔ سبھی اسی سیاست کے کردار ہیں۔ عمران خان صاحب کو دیگر سیاسی حریفوں پر کون سی اخلاقی برتری حاصل ہے؟ ان کا نامہ اعمال کون سا دوسروں سے منور ہے اور جگنوؤں کی طرح دمک رہا ہے؟ دوسروں کی طرح بلکہ ان سے کریہہ الزامات ان کے دامن سے بھی لپٹے ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت کو ایک اخلاقی برتری ضرور حاصل رہی ہے۔ جے یو آئی کی قیادت بھی نسبتا بہتر رہی ہے لیکن مولانا کا طرز سیاست خاندان کو مناصب سے نوازنے میں ایسا ہی رہا ہے جیسا باقی سیاست دانوں کا ہے۔ ان کے عزیز و اقربا پر بھی مروجہ سیاست کے روایتی لطف و کرم ویسے ہی ہیں جیسے دوسروں پر ہیں۔ اخلاقی وجود کے بارے میں کسی حساسیت یا فضیلت کی کہانی جناب اسلم غوری صاحب کے الفاظ میں اگر یہ ہو کہ ’مولانا کے ذاتی معاملات پر بات نہ کریں ورنہ بات ایون فیلڈ تک جائے گی‘ تو کیسا فرق، کیسی فضیلت؟ جو فرق ہے حصہ بقدر جثہ کا فرق ہے۔ تو پھر رویوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟ یہ معاملہ کیا ہے؟ جو وجوہات مجھے سمجھ میں آئی ہیں، وہ یہ ہیں :
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سیاسی جماعتیں ہیں، اور ان کے کارکنان بھی ان کو سیاسی جماعتیں ہی سمجھتے ہیں۔ جب کہ تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی اپنی اپنی ذات میں قافلہ حق ہیں اور کارکنان کو بھی یہی باور کرایا گیا ہے کہ سچائی اور حق پر تو صرف ہم ہیں اور ہم پر تنقید اصل میں باطل قوتوں کی کوزہ گری ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کارکنان کے نزدیک سیاست حق اور باطل کا میدان نہیں ہے۔ تحریک انصاف ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے نزدیک یہ خیرا ور شر کی جنگ ہے۔ اور ہر ایک کا دعویٰ ہے جو اس کے ساتھ نہیں ہے وہ شر کے ساتھ ہے۔
جب اس فلسفہ حیات کے ساتھ سیاست کی جاتی ہے کہ ہم ہی راہ حق پر ہیں باقی سب غلط ہیں، صرف ہمارا خان ہی سچا ہے باقی سب چور اچکے ہیں، صرف ہمارا قائد ہی دین کی خدمت کے لیے اس میدان میں ہے باقی تو سب چور ہیں، تو پھر یہی رویہ جنم لیتا ہے کہ طرز سیاست کے کسی پہلو پر تنقید کرنے والا باطل کی سیاہ قوتوں کا گماشتہ نظر آتا ہے۔ یہ رویہ چھوٹے چھوٹے کلٹ بناتا ہے۔ ہر کلٹ میں شدت ایک جیسی ہوتی ہے البتہ زبان و بیان میں اور اس کے اظہار میں اپنے اپنے فکری پس منظرا ور ذوق کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ ان رویوں نے سیاست پر معروضی تبصرے کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہی کیفت رہی توآگے چل کر یہ ناممکن ہو جائے گا۔ آج یہ سب خوش ہیں کہ اپنے ناقدین کا انہوں نے شافی علاج تلاش کر لیا ہے لیکن ان زہریلے رویوں کا آزار کل جب انہی سیاسی جماعتوں اپنی لپیٹ میں لے لے گا تب معلوم ہو گا کہ سودو زیاں کا گوشوارہ کیسا ہے۔
سیاست بند گلی سے راستے نکالنے کا نام ہے لیکن ہماری سیاست نے سماج کے راستوں میں دیواریں کھڑی کر دی ہیں اور رشتوں میں زہر گھول دیا ہے ۔ ابولکلام آزاد نے کہا تھا: سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ سیاست کی آنکھ میں حیا کی لو بھی مدھم ہو رہی ہے۔
(بشکریہ: وی نیوز)