سیاست کی صورتیں
- تحریر امر جلیل
- منگل 03 / نومبر / 2026
سیاست کے بارے میں مثبت سوچ رکھنے والے کھوجی ستر اسی برس کی کھوج کے بعد آخر کار تھک ہار چکے ہیں۔ ستر اسی برس سے وہ پاکستان میں ایسے اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی کھوج لگا رہے تھے جہاں علم کے متوالوں کو سائنسی سیاست کی تعلیم دی جاتی ہے۔
ایسے ادارے جہاں سے بچے اور بچیاں سیاست میں گریجویشن ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کرکے نکلتے ہیں اور عوام الناس کو بھرپور طریقے سے علم سیاست سے مانوس کرتے ہیں، شناسا کرتے ہیں۔ سیاسی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایسے طالب علم عملی سیاست میں قدم رکھتے ہیں۔ ان کیلئے سیاسی خدوخال اجنبی نہیں ہوتے وہ سیاسی بحرانوں کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے انمول اداروں کی تلاش تھی کھوجیوں کو ۔
ستر اسی برس کی تحقیق کے بعد کھوجی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں ایک بھی علمی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں آپ کو عملی سیاست میں قدم رکھنے اور قدم جمانے کیلئے ہنر سکھایا جاتا ہو۔ یاد رہے کہ پولیٹکل سائنس میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد آپ عملی سیاست میں ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے سیاستدانوں کی طرح بھرپور اور مکمل کامیابی سے حصہ نہیں لے سکتے۔ اتنا پڑھ لکھ جانے کے بعد آپ عملی سیاست اور عملی سیاست آپ کیلئے اجنبی ہوتے ہیں۔ محققوں کی کھوجناؤں کی سب نے تعریف کی ہے۔ اب طے ہوچکا ہے کہ ستر اسی برس گزر جانے کے باوجود کسی اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میں عملی سیاست کی تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی ادارے آپ کو انجینئر ڈاکٹر اور سائنسدان تو بنا سکتے ہیں مگر پاکستان میں ایک ایسا ادارہ نہیں ہے جہاں سے فارغ ہونے کے بعد آپ کامیاب سیاستدان کہلوانے میں آئیں ۔ تو پھر یہ اتنے سارے کامیاب سیاستدان پاکستان میں کہاں سے آتے ہیں؟ آپ لفظ کامیاب سے دھوکہ نہ کھائیں کامیاب سیاستدانوں سے میری مراد ایسے سیاستدان نہیں ہیں جو سیاست میں آنے سے پہلے ککھ پتی تھے اور سیاست دان بن جانے کےبعد ککھ پتی سے لکھ پتی بن بیٹھےہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
کامیاب سیاستدان سے میری مراد ایسے سیاستدان ہیں جو ایک مرتبہ سیاست کا مزہ چکھنے کےبعد پھر کبھی سیاسی سلسلوں سے الگ ہونے کا نام نہیں لیتے سیاست کو وہ اپنے خاندان کا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ ان کے خاندان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ سیاستدان ہوتا ہے۔ پھر وہ بچہ چاہے شارجہ میں پیدا ہو یا شکاگو میں پیدا ہو۔ اٹھارہ برس کا ہوتے ہی اسے الیکشن میں جتوا کر ایک سیٹ اس کو تحفے میں دی جاتی ہے۔ ایسے سیاستدان مرتے دم تک سیاستدان رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بذات خود کامیاب سیاستدان ہیں۔ وہ لوگ خاندانی سیاست کے بل بوتے پر بڑی کامیابی سے ملک چلا رہے ہیں۔ کسی بندہ بشر کو کسی قسم کی کوئی دشواری یا تکلیف نہیں ہے۔ علاج معالجے کے لئے ملک بھر میں ہسپتالوں اور کلینکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ نزلہ زکام سے لے کر کینسر تک کا علاج مفت ہورہا ہے ۔ اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں تخلیقی طریقہ کار سے تعلیم دی جارہی ہے۔ غریب کے بچے کو ڈاکٹر بننے کیلئے ہر سال اٹھارہ لاکھ روپے دینے نہیں پڑتے۔ آپ سرکاری خرچے پر ڈاکٹر بنیں اور پھر مخصوص مدت کیلئے سرکاری اسپتالوں میں کام کریں۔
وہ زمانہ بیت گیا جب بچے اور بچیاں درختوں کےنیچے میدانوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ہر طرف آپ کو صاف ستھرے اسکولوں کی بیشمار عمارتیں دکھائی دیں گی۔ اسی طرح فارغ ہونے کے بعد انجینئر سرکاری ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹوں میں بے روزگار نوجوانوں کو ہر طرح کا ہنرسکھائیں گے ، بلکہ سکھا رہے ہیں اور یہ سب کچھ خاندانی سیاست کا ثمر ہے جو پچیس کروڑ عوام کو مل رہا ہے۔ غیر ارادی طور پر تحقیقی کھوجنا کرنے والوں نے ثابت کردیا ہے کہ ہمیں مغربی یا مشرقی سیاست کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ خاندانی سیاست ہمارے لئے مناسب ہے ۔ ستر اسی برسوں سے یہ ملک آپ اور میں تو نہیں چلا رہے؟ خاندانی سیاست کرنےوالے ستر اسی برسوں سے یہ ملک خیر و خوبی سے چلا رہے ہیں۔ لوگوں کی ضروریات زندگی پوری ہورہی ہیں۔ بجلی حاصل کرنے کیلئے عوام کو بجلی کی تاروں میں کنڈہ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ دریا ہمارے ہیں، اس لئے بغیر کسی ٹال مٹول کے پانی گھر پر مل جاتا ہے۔ ٹونٹیاں کبھی نہیں سوکھتیں۔ زمین ہماری ہے۔ زمین کے اندر زمین کے باہر قدرتی وسائل ہمارے ہیں۔ گیس کی ہمارے یہاں بہتات ہے اس لئے ہمارے یہاں چولہے کبھی ٹھنڈے نہیں پڑتے۔
پہاڑوں سے پانی آبشار کی طرح گرتا رہتا ہے۔ ایسی جگہوں پر ہم نے میرا مطلب ہے ہماری حکومت نے بجلی بنانے کے بیشمار ذرائع بنالئے اب ہم اپنی ضروریات سے بہت زیادہ بجلی بنا لیتے ہیں۔ ہماری زرعی زمین ہمیں دھوکہ نہیں دیتی، طرح طرح کے پھل اور سبزیاں اگانے کےعلاوہ ہم دنیا بھر کےاناج کو ترسنے والے ممالک کیلئے اناج اگاتے ہیں۔ ہم خاندانی سیاست سےبہت خوش ہیں اور خاندانی سیاست ہم سے خوش ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)